آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

تعمیری ادب کے حفیظ و ترجمان حفیظ میرٹھی

آج کا پیغام - 28 جنوری - 21 جمادی الاول

(قسط-1 )

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

شعر و سخن فکری اور سماجی تبدیلوں کے لئے ایک اہم اور موثر زریعہ ہے لیکن یہ دودھاری تلوار ہے اس کا استعمال خیر و بھلائی کی تبلیغ اور سماج و معاشرہ کی اصلاح کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور برائ کی ترویج اور پھیلاو کے لئے بھی، پہلی قسم تعمیری اور اصلاحی ادب ہے اور دوسری قسم تخریبی ادب کہلانے کی مستحق ہے ۔ اردو زبان نے بحمد للہ شروع ہی سے اہل دل اصحاب اور اصحاب معرفت کی آغوش میں پرورش پائ ہے ۔ اس لئے اس میں تعمیری اور اصلاحی رنگ غالب ہے اردو شاعری میں جن لوگوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اصلاح معاشرہ اور اصلاح سماج کا کام لیا ان میں سر فہرست مرزا مظھر جان جاناں، بہادر شاہ ظفر ، الطاف حسین حالی مرحوم ۔ ظفر علی خاں ،حفیظ جالندھری، علامہ اقبال ۔ علامہ شبلی نعمانی۔ اکبر آلہ آبادی ،مولانا محمد احمد پرتابگڑھی قابل ذکر ہیں ان کے علاوہ کلیم عاجز ابو المجاہد زاہد حفیظ بنارسی نعیم صدیقی سہیل زیدی اعجاز رحمانی اور حفیظ میرٹھی ان جیسے شعراء کے کلام میں فن کی پختگی کے ساتھ فکر کی صداقت پیغام کی افادیت اور جذبوں کی حرارت خوب پائ جاتی ہے ۔ آج ہم اپنے قارئین باتمکین کی خدمت میں حفیظ میرٹھی مرحوم کی تعمیری واصلاحی شاعری کے بعض پہلو کو پیش کریں گے معلوم نہیں آج دل میں یہ جذبہ اور امنگ کیوں پیدا ہو گیا ۔ آج جب پیغام لکھنے کے لئے بیٹھا تو ذھن و دماغ اور حافظہ پر زور دینے کے بعد بھی کوئ مضمون اور عنوان ذھن میں نہیں آیا ۔ اچانک حفیظ میرٹھی مرحوم کے کچھ اشعار ذھن میں آئے جس کو میں اکثر گنگناتا ہوں اور بعض اشعار تقریر میں بھی پڑھتا ہوں سوچا چلو آج مرحوم کی شاعری کے حوالہ سے کچھ گفتگو ہوجائے اور اس شعر پر بھی عمل ہو جائے کہ :

بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسباں عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

مجھے ماضی قریب کے شعراء میں جن کی شاعری بہت اچھی لگی اور جن کی شاعری میں فن و ادب کی آبرو سلامت نظر آئ ان میں ایک اہم نام حفیط میرٹھی مرحوم کا بھی ہے ۔ لیکن افسوس کہ ان جیسے شعراء کی ادبی امانت نئ نسل میں بہت کم منتقل ہو رہی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ

ایک دھوپ تھی جو ساتھ گئ آفتاب کے

حفیظ میرٹھی مرحوم اصلا غزل کے شاعر ہیں اور غزل ہی کے سانچے میں وہ سماج کی اصلاح بھی کرتے ہیں اور اپنے احساسات و جذبات اور خیالات و افکار کو پیش کرتے ہیں ۔ ممتاز ادیب اور نقاد پروفیسر عبد المغنی کے بقول : وہ ہر قسم کے احساسات و خیالات کے اظہار کے لئے غزل کے سانچہ کو کافی سمجھتے ہیں غم ذات اور غم یار ہو یا غم حیات و کائنات اور غم روز گار ،حفیظ کے اشعار میں ہر غم کا بیان ایک انداز تغزل ہوتا ہے ۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں

نیم باز آنکھوں سے یہ کیا نگہ یار کیا

نہ تو معصوم ہی چھوڑا نہ گنہگار کیا

رکھ لیا ہاتھ میرا اپنے ڈھرکتے ہوئے دل پر

میں نے جب عہد و فا کے لئے اصرار کیا

ان اشعار سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ غزل کی ساری نزاکت اور حرمت حفیط میرٹھی صاحب کی نوک زبان پر سمٹ آئی ہو ۔ غور کیجئے کہ کس زرف نگہی ، نزاکت اور حساسیت کے ساتھ وہ اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔

حفیظ میرٹھی مرحوم کی بہت سی غزلیں وہ ہیں جو لوگوں کی زبان زد ہوگئ ہیں ایک خوبصورت غزل کے چند اشعار آپ بھی گنگنائے :

شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے

دل ٹوٹے آواز نہ آئے

چاہیے تن من سب جل جائے

سوز دروں پر آنچ نہ آئے

عزت دولت آنی جانی

مل مل جائے چھن چھن جائے

ہائے وہ نغمہ جس کا مغنی

روتا جائے گاتا جائے

حفیظ میرٹھی صاحب مرحوم کے نعتیہ اشعار جب بھی گنگناتا ہوں تو دل و دماغ پر ایک کیف اور وارفتگی چھا جاتی ہے اور عظمت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہزاروں چراغ جھلملانے لگتے ہیں ایک نعتیہ غزل کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے ۔

پاکیزہ عقیدہ دیا تہذیب عطا کی

تاریخ نہ بھولے گی یہ احسان محمد

بے مثل صحیفہ کی طرح سینئہ اطہر

جزادن کے مانند گریبان محمد ص

گھبرا کے مسلمان یہ کیا ڈھونڈ رہا ہے

کیا چھوٹ گیا ہاتھ سے دامان محمد

بیان کرنے والے نے بیان کیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک نعتیہ مشاعرہ میں جب حفیظ صاحب نے نعت کے یہ اشعار پڑھے تو سامعین کے دلوں میں عظمت محمدی کے ہزاروں نقوش جھلملانے لگے اور سننے والوں پر جذب و کیف کی حالت طاری ہوگئ اور مکر مکرر کی ہر طرف سے صدا آنے لگی اور پھر جب حفیظ صاحب نے دوسری نعت کا یہ شعر ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کے تناظر میں پیش کیا ۔

ننگ اسلاف تھا لیکن یہ میری خوش بختی

مجھ کو مارا ہے مسلمان سمجھ کر آقا

تو پورا مجمع تڑپ اٹھا راوی کا بیان ہے کہ مجھے یاد نہیں کہ حفیظ صاحب کو کتنی بار یہ شعر پڑھنا پڑا اور ہر بار قند مکر کی صدا لگتی رہی لگتا تھا کہ حفیظ صاحب نے سامعین کے دل اپنی مٹھی میں بھر لئے ۔اس وقت حفیظ صاحب شاعر نہیں جادو گر لگ رہے تھے ۔

حفیظ صاحب کی سماج اور معاشرہ پر گہری نظر تھی اور اس کی کمزوریوں اور پستیوں سے اچھی طرح واقف تھے ۔ دکھتے نبض پر ہاتھ بھی ر کھتے تھے اور پوری مہارت کے ساتھ سماج کی تہذیبی زوال و پستی پر نگاہ ڈالتے تھے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :

اس دور بے ضمیر میں جینا سکھا دیا

حالات نے ہمیں بھی منافق بنا دیا

معیار زندگی کو اٹھانے کے شوق نے

کردار پستیوں سے بھی نیچے گرا دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بس یہی دوڑ ہے اس دور کے انسانوں کی

تیری دیوار سے اونچی میری دیوار بنے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خواہشیں جانے کس طرف لے جائیں

خواہشوں کو نہ بے لگام کرو

(بصیرت فیچرس)

نوٹ: مضمون تشنہ رہ گیا اس لئے آخری حصہ کل ملاحظہ فرمائیں

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker