سماجیاتمضامین ومقالات

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں تین طلاق کے سوا

مودی حکومت پہلے عام عورتوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دے ملک میں پھر مسلم عورتوں کی فلاح و بہبود کی سوچے

كرداروعمل سےمہكتاہےآدمی
خوشبولگا كركوئی معطرنہ ہوسكا
ڈاكٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندوی
استاذ:جامعہ اسلامیہ كیرالا
سیاسی اور غیرسیاسی بہت سارے لوگوں كا كہنا ہے كہ حكومت تین طلاق بل كےآڑ میں اپنے سیاسی مقاصدومفاد كو بروئے كار لانا چاہتی ہے،اور وہ یہ ہیں یكساں سول كوڈ كےلئے راستہ ہموار كرنا،ہندوتواكوفروغ دینا اورسامنے آنے والے ۲۰۱۹ءكےالیكشن میں اكثری فرقہ سے ووٹ حاصل كرنا ۔اگر ایسا نہیں ہے،واقعی میں مركزی حكومت مسلم عورتوں كی بہ خواہ ہے،ان كو انصاف دلانے میں سنجیدہ ہے،ان كےوقار كوبحال ركھنا چاہتی ہے اور ان كی پریشانیوںوالجھنوں كو دور كركے ان كو راحت پہونچانا چاہتی ہے،توتین طلاق بل پاس كراكےیہ مقصد حاصل نہیں ہوگابلكہ شاعر كی تلمیحانہ زبان میں: “اور بھی دكھ ہیں زمانے میں محبت كے سوا”
(فیض احمد فیض)
اور وہ دكھ یہ ہیں:
كتنی ہی مسلم عورتیں كسمپرسی كی حالت میں زندگی بسر كررہی ہیں، ان كا كوئی پرسان حال نہیں ، ان كے زخم پرنمک لگانے والے بہت ہیں پركوئی مرہم لگانے والا نہیں،ان كے لئےحكومت كچھ تو كرے، ان كے لئےروزگار اور ان كی غربت وپریشانی كو دور كرنے كے لئے مختلف قسم كے تعاونی اسكیمیں جاری كرے، سر عام عورت كی عزت لوٹی جارہی ہے،ان كی عصمت ریزی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے، بعض دفعہ ان كی عزت وعصمت كی پامالی كے ساتھ ان كی جانیں بھی جارہی ہیں،عصمت فروشی كا بازار گرم ہے،فحاشی اور بےحیائی كےاڈے روز افزوں ترقی پر ہیں، ان میں كمی آنے كے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہاہے، خواتین اغوا كی جاتی ہیں، خاس طور پر مسلم لڑكیاں اور عورتوں كے اغوا كئے جانےكے واقعات نہ جانے كتنے پیش آچكے ہیں،یہیں تك نہیں ،اغوا كئے جانے كے بعد ان كے ساتھ ایك زمانہ تك ان كی عزت كے ساتھ كھیلواڑ كیا جاتا رہا، زبرستی عصمت فروشی پر مجبور كی جاتی رہیں،مجرمین پكڑے جانے كے باوجود ان كے ساتھ مناسب كاروائی نہیں كی گئی،كیا یہ مسلم عورتوں كے ساتھ انصاف ہے؟كیا یہ ان كے وقار كے خلاف نہیں؟دیكھا جائےتوواقعات وشواہد كی روشنی میں حكومت عورتوں كی عزت وناموس كی حفاظت كو یقینی بنانےمیں مكمل طورپر ناكام ثابت ہورہی ہے، كوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔بعض مرتبہ اس میں بھی دورخی پالیسی پر عمل ہورہاہے، گجرات كے فساد میں مسلم خواتین كے پیٹوں میں چھرا گھونپے جاتے وقت حكومت كہاں تھی؟اس وقت حكومت بھنگ پی كر محو نشہ تھی؟ آج تك ان كو انصاف نہیں مل سكا،كچھ دنوں پہلے كی بات ہے،نام نہاد گاؤركھشكوں كی جانب سے بیف كےالزام پر مسلم خواتین كوخوب زدوكوب كیا گیا اور خوب ان كو ظلم وبربریت كا نشانہ بنایا گیا، اور كبھی مسلم گھروں پر وحشیلنہ حملہ ہوتا ہے اور خواتین كوظلم زیادتی كا نشانہ بنایا جاتاہے اور ان كے ساتھ بدسلوكی كا معاملہ ہوتا ہے؛لیكن ان كی فریاد سننے والا كوئی نہیں، یہاں تك كہ بعض دفعہ پولیس كمشنر مقدمہ درج كرنے كوئی تیار نہیں ہوتاہے اور مجرمین كے خلاف كاروائی كرنے سے گریز كرتا ہے ۔
ایك رپورٹ كے مطابق آج ہندوستان میں ایك گھنٹہ میں تین عورتوں كے ساتھ ریپ ہوتا ہے، ان كی عزت كو تارتار كیا جاتاہے، ایك گھنٹہ میں پانچ عورتوں كا كرنپ ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے كہ تحفظ نسوانیت كے بارے میں قانون كیوں نہیں بنایا جارہاہے؟چوبیس ہزار (۲۴۰۰۰)شادی شدہ عورتیں اپنے شوہروں سےالگ رہ رہی ہیں،ان میں دوہزار مسلم عورتیں ہیں،اور بائیس ہزار ہندو عورتیں ہیں،كیا بات ہے؟آخرحكومت اِن عورتوں كی فكر كیوں نہیں كررہی ہے؟كیا یہ عورتیں ہندوستانی نہیں ہیں؟ كیا اِن عورتوں كودنیا میں جینے كا حق نہیں ہے؟ كیا اِن كے ارمان و آرزوئیں نہیں ہیں؟آخر حكومت اِن عورتوں كے لئے كوئی بل كیوں نہیں پاس كراتی ہے؟ اِن عورتوں كو گھر میں لانے كے لئے كوئی قانون كیوں نہیں بناتی ہے؟
مسلم عورتوں كے لئے تعلیم كے مسائل ہیں،ان كو تعلیم كی سہولت چاہئیے، ان كو تعلیم سے آراستہ كرنےكی فكر ہونی چاہئیے؛ تاكہ وہ ایك تعلیم یافتہ اور مہذب شہری كی حیثیت سے زندگی گذار سكیں اوروہ اپنے بچوں كی صحیح تعلیم وتربیت كرسكیں، ایك صالح معاشرہ كی تشكیل ہو سكے، ہندوستان كا سنہرہ خواب پورا ہوسكےاورمسلم عوتوں كے لئے “اچھے دن” كھوكھلے لفظ كے بجائے حقیقت كا آئینہ بن جائے۔
مسلم معاشرہ میں كتنی بیوہ عورتیں كسمپرسی كے عالم میں زندگی بسر كررہی ہیں، ان كے شوہر فساد میں مارے جاچكے، یا ان كے شوہر جیلوں كے سلاخوں كے پیچھے قید وبند كی زندگی گذار رہےہیں،اِن بے سہاراعورتوں اور مہیلاؤں كی فكر كیوں نہیں ہوتی ہے؟
اتنے سارے مسائل سے صرف نظر كر كے صرف تین طلاق بل كی رٹ ہے، اس كا مطلب صاف واضح ہے كہ حكومت كو مسلم عورت سے محبت دور كی بات رہی،نفس عورت سے محبت نہیں ہے ، نفس انسانیت سے پیار نہیں اور پبلك كی راحت رسانی كی فكر نہیں ۔
یہ تو عورتوں كی بات رہی،اب آئیےتھوڑی دیر كے لئے ملك وقوم كا سرسرس جائزہ لیں!اور سنجیدگی سے غور وفكر كریں،ٹھنڈے دل سے سوچیں اور اوراپنے دل پر ہاتھ ركھ كر انصاف كریں، دیكھئے:برسراقتدار بی جے پی نے جو پبلك سے وعدے كئے تھے، ان میں كتنے پورے كئے، وہ سب پر عیاں ہے،اس وقت ملك اور ملك كی عوام كے سامنے جومسائل اور مشكلات درپیش ہیں اور حل طلب ہیں، وہ یہ ہیں:
بے روز گار نوجوانوں كو نوكریاں چاہئیے،اِس وقت تیس كروڑ چودہ لاكھ بے روزگار ہیں، افسوس كی بات ہے كہ بڑی ذات كےپارلیمنٹ میں غرباء كےلئے دس فیصد ریزرویشن بل پاس كرالیا گیا اور مسلمانوں كے لئے كچھ نہیں، عام كسانوں كی راحت رسانی كے لئے كچھ نہیں،مركزی حكومت بی جے پی كاشتكاروں كو كسی طر ح كی راحت دینے میں پس وپیش میں مبتلا ہے؛ حالانكہ مسلسل بڑھتے قرضوں نے كسانوں كو عملاّ مفلوج كردیا ہے، جس كی بناء پر قرض كی معافی لازمی اقدام بن گیا۔
دوسری طرف ماہرین معاشیات اور دوسرے مبصرین كے بیان كے مطابق ملك مستقل گراوٹ كی جانب گامزن ہے، ملكی معیشت بتاہ ہورہی ہے ، ملك قرض میں ڈوبا جارہا ہے، حكومت كی طرف سے ۲۰۱۶ء میں نوٹ بندی كےفیصلہ نے ملك كی شرح ترقی كو اوپر كی طرف لے جانے كےبجائے نیچے كی جانب لے جاكر چھوڑدیا۔ صنعت (انڈسٹری) اور برآمدات(اكسپورٹس) سے نوكریاں پیدا ہوتی ہیں، آج دونوں ہی ملك میں بدحالی كے شكار ہیں ۔حكومت كی طرف سےجی ایس ٹی كی سوغات كی وجہ سے چھوٹے كاروباری تباہ ہوچكےہیں اوركتنے لوگ بے روزگار ہوكر ہاتھ پر ہاتھ ركھ كر غیبی مدد كے انتظار میں بیٹھےہیں۔
روز افزوں بڑھتی مہنگائی آج ہمارے ملك كے لئے سنگین ترین مسائل میں سے ایك ہے،اس سے لوگوں كی زندگی دوبھر ہوتی جارہی ہے، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام كی رات كی نیند اور ان كے چین كو غارت كردیا، اور لوگ غربت اور آئے دن پریشانیوں سے تنگ آكر خودكشیاں كرنے مجبور ہیں، آخر اس كے ذمہ دار كون ہے؟ آخر میں اپنی بات اس شعر پر ختم كرتا ہوں، یہ شعر پورے مضمون كا نچوڑ و خلاصہ ہے، كسی شاعر نے دور حاضر كی حكومت(بےجے پی ) كی بڑی اچھائی عكاسی كی ہے:
اگر تو نے نكالا ہے كسی كے پاؤں كا كانٹا
تو یہ طے ہے تیرے دل میں كوئی انسان رہتا ہے
لیكن كیا ایسا ہوا؟
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker