ہندوستان

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب علم و عمل اور صالحیت و صلاحیت کے جامع تھے: مولانا قمرالزماں ندوی

رانچی: 29 جنوری (پریس ریلیز)

مولانا علاءالدین ایجوکیشنل سوسائٹی دگھی گڈا جھارکھنڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد قمرالزماں ندوی نے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب صدر جمعیة العلماء بہار و سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الھدی پٹنہ بہار کی وفات پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب علم و عمل اور صلاحیت و صالحیت کے جامع تھے ۔ اخلاق و کردار شرافت و خود داری ، تواضع و خاکساری، سادگی اور بے نفسی میں اپنی مثال آپ تھے اللہ تعالی نے حسن صورت کہ ساتھ حسن سیرت سے بھی خوب نوازا تھا ، اپنے بڑوں کی عزت اور احترام ان سے کوئ کرنا سیکھے ،وہ ازہر ہند دار العلوم دیوبند کے سچے سپوت اور ترجمان تھے دار العلوم دیوبند سے پوری عمر والہانہ وابستگی رہی، پوری زندگی اس رشتہ کو نبھایا اور اس کی ترقی کے لئے فکر مند رہے ، مدنی خاندان سے ان کا گہرا تعلق تھا ، حضرت مولانا سید اسعد مدنی رح سے بیعت و خلافت کا تعلق تھا ملی اور سماجی خدمت کے لئے انہوں نے مدنی خاندان سے محبت و عقیدت میں جمعیت کے اسٹیج اور پلیٹ فارم کو چنا اور اس پلیٹ فارم کے ذریعہ ملک و ملت کی بھر پور خدمت کی ، جمعیت کے مختلف عہدوں کو انہوں نے زینت بخشی ،اخیر میں وہ صدر جمعیت علماء بہار منتخب ہوئے ۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ مدرسہ اسلامیہ شمس الھدی پٹنہ بہار کی از سر نو تعمیر و ترقی ہے کہ انہوں نے اپنے دور اہتمام میں تعلیمی اور تعمیری ہر دو اعتبار سے اس کو ترقی دی اور شبانہ روز محنت اور جہد و جہد کرکے صد سالہ جشن منایا ۔ اور مدرسہ کی روشن تاریخ سے لوگوں کو واقف کرایا ۔ مولانا مدرسہ شمس الھدی کے سب سے کامیاب اور لائق و فائق اساتذہ میں رہے ۔ ان کا درس اور خاص طور پر حدیث کا درس بہت مقبول تھا ۔ طلبہ ان کے درس کو بہت پسند کرتے تھے ان کے گھنٹے میں کوئ غیر حاضر نہیں رہتا ۔ طلبہ ان سے بے پناہ محبت کرتے تھے ۔ ہر ایک کی زبان پر ان کی تعریف ہی ہوتی میں نے کبھی کسی سے ان کی شکایت نہیں سنی ۔ ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے ان کا عمل اس حدیث پر ہوتا تھا کہ اپنے بھائ سے خندہ پیشانی سے ملو ۔ پٹنہ کے تعلیم یافتہ طبقہ ان سے بہت متاثر تھے ایک مدت تک عیدین کی امامت گاندھی میدان کی، وہ ایک کامیاب خطیب بھی تھے ۔ نوری مسجد میں جمعہ سے پہلے ان کی تقریر بڑی جامع اور پر اثر ہوتی تھی وہ وہاں درس قرآن بھی دیتے تھے ان کا درس قرآن بہت مقبول تھا ۔

میرے ان سے ذاتی مراسم تھے مجھ سے بڑی محبت سے پیش آتے جب بھی پٹنہ جاتا ان سے ضرور ملاقات کرتا دعائیں لیتا اپنی حقییر کاوشیں ان کی خدمت میں پیش کرتا ۔ ان کی موت سے صرف صوبئہ بہار کا ہی نہیں بلکہ پورے عالم کا نقصان ہوا ہے ۔ کیوں کہ عالم کی موت عالم کا موت ہے۔ اللہ تعالٰی حضرت مولانا مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور پسماندگان اور تمام اہل تعلق کو صبر جمیل کی توفیق عطاء فرمائے اور سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے میں اس موقع پر اپنی طرف سے اور سوسائٹی کی طرف سے مولانا کے بردارن مولانا مرغوب الرحمن صاحب مولانا محمد سالم صاحب اور مرحوم کے صاحبزادے محمد حارث کو دلی تعزیت پیش کرتا ہوں اور مرحوم کے رفع درجات کے لئے دعا گو ہوں ۔

آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہ بانی کرے

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker