آج کا پیغاممضامین ومقالات

تعمیری ادب کے حفیظ و ترجمان حفیظ میرٹھی

آج کا پیغام - 29 جنوری - 22 جمادی الاول

مولانا محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

حفیظ میرٹھی کو قدرت کی طرف سے درد دل اور سوز غم کی دولت ملی تھی اور وہ سماج کے درد و کرب کو بہت محسوس کرتے تھے ان کی شاعری کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے ان کے سینہ میں شاید کوئ انگھیٹی رہ دی ہے جو اندر سے سلگتی رہتی ہے زبان پر اشعار کی شکل میں اور آنکھوں سے قطروں اور اشکوں کی شکل میں انسانی دنیا پر اثر انداز ہوتی ہے اس لئے آپ ان کی شاعری پڑھئے آپ محسوس کریں گے کہ انہوں نے غزل کو رخ یار موج خمار اور رنگ بہار میں محصور ہونے نہیں دیا ،وہ جذبوں کے شاعر ہیں اپنی شاعری میں معاشرتی جذبات کی پوری پوری نمائندگی کرتے ہیں ۔ حفیظ صاحب کہتے ہیں :

شاعری اک درد بھی ہے درد کا اظہار بھی

یہ تڑپنے اور تڑپانے کا فن اچھا لگا

ایک دوسرے شعر میں کہتے ہیں

نہ ہو حیراں میرے قہقہوں پر مہرباں میرے

فقط فریاد کا معیار اونچا کر لیا میں نے

مراد آباد کے مسلم کش فساد کے زمانہ میں جب ہر درد مند دل ٹرپ اٹھا تھا اور مضطرب و بے چین تھا حفیظ میرٹھی کی معتبر آواز ابھری اور حلقئہ ادب کو جھنجھوڑ گئی اس غزل کے یہ چند اشعار آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں اور جو مقبول عام ہیں ۔

بڑے غرور سے رسم ستم گراں بولا

جب انقلاب کے لہجہ میں بے زباں بولا

ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کے

ابھی میں بزم میں آیا ابھی کہاں بولا

حصار جبر میں زندہ جلائے گئے

کسی نے دم نہیں مارا مگر دھواں بولا

چمن میں سب کی زباں پر تھی میری مطلوبی

مگر میرے خلاف جو بولا تو باغباں بولا

وہ اپنے ہم عصر شاعروں ادیبوں اور فنکاروں سے بھی سماج کے اس درد اور معاشرہ کے اس کرب کو سمھجنے کی دعوت دیتے ہیں اور دیوانہ وار پکارتے ہیں

منظر کی تکمیل نہ ہوگی تنہا مجھ سے فنکارو

دکھ کے گیت تو میں گا دوں آنسو کون بہائے گا

حفیظ صاحب سماج کے دکھتے رگھ پر ہمیشہ ہاتھ رکھتے نظر آتے ہیں اور معاشرتی اور سماجی کمیوں اور خامیوں پر خوب نشتر لگاتے ہیں لوگوں کے رویوں اور اخلاقی کمیوں اور خامیوں کو بھی گناتے ہیں اور حقیقت اور واقعیت کی طرف اشارہ بھی کرتے ہیں ، میر کے بحر میں ان کے ان اشعار کو ملاحظہ کیجئے کہتے ہیں :

یہ دور نرالی دل خود دار کرے ہے

تڑپے ہے مگر درد سے انکار کرے ہے

اب اپنے بھی سائے کا بھروسہ نہیں یارو

نزدیک جو آئے ہے وہی وار کرے ہے

تقریر سے ممکن نہ تحریر سے حاصل

وہ کام جو انسان کا کردار کرے ہے

حفیظ میرٹھی کی ایک اور غزل گنگنائے اور لطف لینے کے ساتھ حقیقت کی ترجمانی پر داد دیجئے کہتے ہیں :

اس دیوانے دل کو دیکھو شیوہ کیا اپنائے ہے

اس پر ہی وشواس کرے ہے دھوکہ جس سے کھائے ہے

سارا کلیجہ کٹ کٹ کر جب اشکوں میں بہہ جائے ہے

تب کوئ فرہاد بنے ہے تب مجنوں کہلائے ہے

میں جو ٹرپ کر رووں ہوں تو ظالم یوں فرمائے ہے

اتنا گہرا گھاو کہاں ہے ناحق شور مچائے ہے

تم نے مجھ کو رنج دیا تو اس میں تمہارا دوش نہیں

پھول بھی کانٹا بن جائے ہے وقت برا جب آئے ہے

حفیظ میرٹھی اپنی غزلوں کے ذریعہ انسان سازی کا فرض انجام دیتے رہے اور انسان شناسی کا سبق دیتے رہے وہ شاعری کو جزو پیغمبری سمجھتے تھے نہ کہ موج و مستی اور تفریح طبع کا سامان دیکھئے حفیظ صاحب کیا کہتے ہیں :

اے پرستاران نغمہ چھوڑ کر تار رباب

آج کچھ دکھتی رگوں پر انگلیاں رکھتا ہوں میں

ہائے رے نیرنگیاں ہوں تو چراغ اب بھی مگر

روشنی رکھتا تھا پہلے اب دھواں رکھتا ہوں میں

ہیچ ہیں میری نظر میں آشیاں اور گلستاں

آدمی ہوں عزم تعمیر جہاں رکھتا ہوں میں

حفیظ میرٹھی کو ہمیشہ اس کا احساس رہا کہ آج کی شاعری انسان کو بیدار کرنے اور جگانے کا کام نہیں کررہی ہے بلکہ لوریاں دے کر سلانے کا کام کر رہی ہے۔ان کو فکر تھی کہ شعراء اپنی شاعری کے ذریعہ سلانے کے بجائے جگانے کا کام لیں اور انسانوں کو عزم عمل کا پیغام دیں۔

مغنی تیرے نغموں نے انساں کو سلایا

میری چیخوں سے شاید آدمی بیدار ہو جائے

اسی لئے ان کی شاعری میں جگہ جگہ دعوت فکر اور پیغام عمل کا ولولہ ملتا ہے ۔

ہوگئے لوگ اپاہج یہی کہتے کہتے

ابھی چلتے ہیں ذرا راہ تو ہموار بنے

(بصیرت فیچرس)

نوٹ: مضمون کا آخری حصہ کل ملاحظہ فرمائیں.

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker