جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

ہندوستان پر آر ایس ایس کی حکومت

ایک تشویشناک منظر نامہ
٭ شکیل رشید
(فیچرایڈیٹرروزنامہ اردوٹائمز، ممبئی)
کیا جمہوریت ہارگئی؟
دہلی میں راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ( آرایس ایس ) اورمرکز کی مودی سرکارکے درمیان رابطے کی سہ روزہ ’بیٹھک ‘ کے بعدمذکورہ سوال کے جواب میں کہایہی جارہا ہے کہ جمہوریت ہارگئی ہے ۔ مگر کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی کی ’ آمریت ‘ بھی نہیں جیتی ہے بلکہ جیت ’یرقانیت ‘ کی ہوئی ہے ۔۔۔ بات سچ ہی لگتی ہے ،اگر دیکھا جائے تو کسی بھی ملک کی ’جمہوریت ‘ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہی ہوگا جب عوام کی منتخب کردہ کسی سرکار نے کسی تنظیم کے آگے گھٹنے ٹیکے ہوں گے ۔ جمہوری نظام میں حکومت کا انتخاب عوام کرتی ہے ، ان ہی کے ووٹوں کے بل بوتے پر سرکار بنتی ہے اور سرکار کارائے دہندگان کو جواب دہ ہونا ایک فطری عمل ہے ، لیکن ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت یا یوں کہہ لیجئے کہ مودی کی حکومت بننے کے بعد ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ملا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی سمیت تمام ہی اہم وزراء آر ایس ایس کے دربار میں حاضری کیلئے پہنچے تھے یعنی کہ یہ پیغام ملک کی عوام کو بڑےہی واضح لفظوں میں’ یرقانی عناصر‘ نے پہنچادیاہے کہ اس حکومت کے کاروبار میں عوام یا عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کا عمل دخل نہیں ہوگا بلکہ آر ایس ایس جس طرح چاہے گی حکومت کو اپنے اشاروں پر چلائے گی۔ حالانکہ بعض حلقوں کا جن میں صحافتی حلقے بھی شامل ہیں کہناہے کہ بی جے پی سرکار اور آرایس ایس کے درمیان ’رابطے کی بیٹھک ‘ پر اعتراض کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ بی جے پی کے وزراء بشمول وزیر اعظم مودی آرایس ایس کے رکن ہیں اورجیسے سابقہ من موہن سنگھ سرکار سیاسی پارٹی کانگریس سے مشورے کرتی تھی مودی سرکار آر ایس ایس سے مشورے کرتی ہے ۔مگر یہ دلیل اس لئے درست نہیںہے کہ کانگریس ایک سیاسی پارٹی ہے اور آر ایس ایس ایک نظریاتی پارٹی وہ بھی ایسی جو اپنے نظریے کو لوگوں پر تھوپنا چاہتی ہے ، اسلئے ایک حکومت کا اس کے قدموں میں گرنا نہ ہی درست کہلا سکتا ہے اورنہ ہی اسے ملک اور عوام کیلئے بہترہی مانا جا سکتا ہے بالخصو ص جمہوریت کیلئے ۔جہاں تک آر ایس ایس اورحکومت کے درمیان ہونے والی اس’بیٹھک‘ کا سوال ہے تو اس میں مودی اور ان کے رفقاء اپنی کار گزاری پر مشتمل رپورٹ کارڈ پیش کرکے اسے منظور کرانے میں کامیاب رہے ۔ کہاجاتا تھا کہ اس ’بیٹھک‘ میں مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھے گی اور وہ 16 تنظیمیں جو آر ایس ایس سے جڑی ہوئی ہیں مودی حکومت پر انگلی اٹھائیں گی اور انہیں اس بات پر مجبور کریں گی کہ وہ آر ایس ایس کے اشاروں پر کام کریں ورنہ اقتدار سے محروم ہونے کو تیار رہیں ۔مگر ایسا نہیں ہو ا۔ ہونا تو یہ بھی تھا کہ اس میٹنگ میں بڑے بھاجپائی لیڈر بھی موجود رہتے جیسے کہ اٹل بہاری واجپئی ، ایل کے اڈوانی اوریشونت سنہا وغیرہ لیکن چونکہ معاملہ صرف آر ایس ایس اورحکومت کے درمیان کاتھا شاید اس لئے موجودہ وزراء اور سنگھی تنظیموں کے علاوہ دوسروں پر اس’ بیٹھک ‘کا دروازہ بند نظر آیا۔
وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ اس ’بیٹھک ‘ میں مودی سرکار پر سنگھی تنظیمیں نکتہ چینی کریں گی اور انگلی اٹھائیں گی تو وہ اپنی سوچ میں کچھ غلط بھی نہیں تھے ۔ وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی نے ایک ’آمر‘کی طرح آر ایس ایس کی قیادت کو نظر انداز کرکے اپنی ایک الگ راہ نکالنی شروع کی تھی ، وہ من چاہے فیصلے بھی کرنے لگے تھے اور’ناگپور‘ سے مشورہ کرنے سے کترانے بھی لگے تھے ۔ مگر آر ایس ایس نے ان کی کابینہ کے وزراء کے منہ سے ان کی ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے وعدے کے برخلاف باتیں کہلواکر اورگجرات میں ہردک پٹیل کی صورت میں ایک چیلنج کھڑا کرکے انہیں ’نرم ‘ بنانے میں اور ان پر یہ جتانے میں کامیابی حاصل کرلی کہ لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کی ’ جیت ‘ تمہارے ’کرشمے ‘ کے نہیں آر ایس ایس کی محنتوں اور اس کے ورکروں کی شب و روز کی جدوجہد کے سبب ہی ہوئی تھی اوریہ ’جیت ‘ آئندہ ’ہار‘ میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے ۔۔۔ مودی کی سمجھ میں یہ بات آسانی سے آگئی ہے کہ آر ایس ایس کو نظر انداز کرکے ان کی حکومت پھل پھول نہیں سکتی ۔ اوراگر بی جے پی کو اور انہیں اپنی مقبولیت بر قرار رکھنا ہے تو آرایس ایس کا دامن تھام کر ہی رکھنا ہوگا ۔
ادھر گزشتہ چندمہینوں کے درمیان ملک کے مختلف حصوں میں جو چند انتخابات ہوئے ہیں ان میں آر ایس ایس کی مدد ہی سے بی جے پی نے کامیاب ہو کر اپنی مقبولیت ثابت کی ہے ۔ اوریوں لگتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ آزادی سے قبل آرا یس ایس نے زمینی سطح پر جو تنظیمیں قائم کی تھیں ان کی گرفت مضبوط ہوتی جارہی ہے ۔ گزشتہ برسوں میں یہ تنظیمیں اقتدار سے دور رہ کر ملک بھر میں اپنی جڑیں مضبوط کرتی رہی ہیں ۔ تعلیمی سطح ہویا سماجی یا اقتدار کے مراکز ، ہر سطح پر آر ایس ایس کی جڑیں مضبوط ہوگئی ہیں ۔ بیوروکریسی میں اس کے ورکر اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہیں ‘ اعلیٰ سرکاری نوکریوں میںہیں اور اب پالیسی ساز اداروں پر ان کا قبضہ ہوتا جارہاہے ۔ آنے والے وقتوں میں مزید قبضہ ہوگا۔ ہندوستان ہی نہیں بیرون ملکوں میں بھی آر ایس ایس مضبوط ہے اور برادرانِ وطن کو ہموار کرکے اس نے اتنا ’ فنڈ‘ اکٹھا کرلیا ہے کہ کسی بھی حکومت کو گرانے کی صلاحیت اس میںہے ۔ آر ایس ایس کی کامیابی ملک میں ہرجگہ نظر آسکتی ہے ۔ کئی ریاستوں میں اقتدار پر قبضہ جمانے کے بعد مرکز پر قبضہ آر ایس ایس کے عروج کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔ اب بہار اوریوپی کی باری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں ریاستوں میںبھی بی جے پی اور آر ایس ایس کو ایسی کامیابی مل سکے گی کہ بی جے پی کی سرکار وہاں قائم ہوسکے ؟ اس سوال پر تفصیلی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے ۔ویسے جس طرح کا کھیل سنگھی عناصر نے کھیلا ہے اس سے سیکولر کہلانے والے محاذ میں ہلچل ضرور مچ گئی ہے ۔ ملائم سنگھ یادو محاذ سے علیحدہ ہوگئے ہیں۔ شر دپوار کی این سی پی محاذ کے خلاف کھڑی نظر آرہی ہے ۔ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے قائد اسد الدین اویسی بھی بہار کی سیاست میں قدم جمانے کیلئے پرتول رہے ہیں۔ نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کے خلاف بغاوت کیلئے ان کے رفقاء اور لیڈروں کو ہموار کیاجارہاہے ۔ اور بے شمار چھوٹے بڑے مسلم اورغیر مسلم لیڈر خرید لئے گئے ہیں ، جن میں علمائے کرام بھی ہیں تاکہ سیکولر ووٹ بکھیرے جا سکیں ۔ آر ایس ایس نے بڑی ہی ہوشیاری سے بہار پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کی ہے ۔ دہلی کی سہ روزہ ’بیٹھک ‘ بھی اس معاملے کی ہی ایک کڑی کہی جاسکتی ہے ۔ آر ایس ایس اورحکومت کے درمیان کی ’بیٹھک ‘ میں بہار اور یوپی کے انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی معاملے طئے کئےگئے اورمنصوبے بنائے گئے ہیں ۔ اسی لئے یہ فیصلہ کیاگیا کہ مودی کی تعریف کی جائے‘ ان کی حکومت کو اعتبار کی سند عطا کی جائے تاکہ کوئی منفی پہلو سامنے نہ آسکے اور عوام آر ایس ایس کی تعریف اور سند کو مد نظر رکھ کر بی جے پی کو وٹ دے دیں ۔ اس میٹنگ میںعام اندازے کے مطابق مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی ہونی چاہئے تھی‘ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر قابو پانے اور انہیں ا قتدار سے دور رکھنے کے منصوبے پیش ہونا چاہئے تھے ۔ چونکہ بی جے پی کی سیاست کی بنیاد مندر ؍مسجد کے تنازعے پر ہے اس لئے اس میٹنگ میں ایودھیا کے رام مندر کے ساتھ کاشی وشو ا ناتھ اور متھرا کے کرشن مندر کا بھی تذکرہ آنا چاہئے تھا کہ یہاں شاندار مندر بنیں گے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا جس سے مسلمانوں کے مذہبی اور شاختی احساسات و جذبات کو تکلف پہنچتی اور وہ مود ی حکومت کے خلاف صف آراء ہوجاتے ۔ لگتا ہے کہ آرایس ایس کی نئی پالیسی یہ ہے کہ نہ ملک کے مسلمانوں کو ناراض کیاجائے اورنہ چھپے ہوئے ایجنڈے کو عیاں کیاجائے ۔ اسی لئے سب کچھ پس پشت ڈال کر اس پر زوردیا گیا کہ مودی حکومت نے زبردست کام کئے ہیں اور اگر موقعہ ملا تو مودی اپنے وعدے ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘ کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔ یہ آر ایس ایس کی ایک زبردست حکمت عملی ہے ۔ اگر اس پالیسی پر آر ایس ایس عمل کرتی ہے اورعوام کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ مودی کو مزید موقعہ ملنا ہی چاہئے تو سیکولر پارٹیوںکے وجود کو زبردست خطرہ لاحق ہوجائے گا ۔
ویسے اس ’بیٹھک ‘ میں مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی نہ کرنے کا یہ قطعی مطلب نہیںکہ بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانوں کے بہی خواہ ہیں۔ بس یہ ہے کہ اب تک مسلمانوں پر جو تنقید یں ہوتی رہی ہیں ان سے آر ایس ایس کو یہ اندازہ ہواہے کہ کانگریس ، مسلمانوں کے قریب آئی ہے اور مودی حکومت کے خلاف ایک طرح کی ’مہم ‘ شروع کرنے میں اسے بھی اور اپوزیشن کو بھی کچھ کامیابی ملی ہے ۔ گھر واپسی اورمسلمانوں کی بڑھتی آبادی پر یرقانیوں کی تیز آوازوں اورباربار لگتے ’پاکستان چلے جاؤ‘ کے نعروں سے مودی اور ان کی سرکار کا ’سحر‘ ٹوٹنے لگاتھا ۔ ’سحر‘ کی برقراری میںہی آر ایس ایس کی بقا ہے اسی لئے اب یہ طئے کیاگیا کہ متنازعہ مسائل کو چھیڑانہیں جائے گا ۔ اسی لئے یہ فیصلہ کیاگیا کہ ایودھیا میں رام مندرکی تعمیر کے مسئلے کو پس پشت ڈال دیاجائے ، یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی پر کھل کر کوئی بات نہ کی جائے اور سب سے بڑا فیصلہ یہ ہوا کہ مودی سرکار جس طرح بنگلہ دیش سے قربت بنانے میںکامیاب رہی ہے ویسے ہی پاکستان سے بھی قربت بنائے ۔ اسے پرایانہ سمجھا جائے ۔ یہ تمام فیصلے مسلمانوں کو’رام ‘ کرنے کیلئے ہیں۔ ہاں مودی سرکار ’خفیہ ایجنڈے ‘ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے آزاد ہے ۔’بیٹھک‘ میں اقتصادی امور پر تبادلۂ خیالات کیاگیا مگر جہاںتک مسلمانوں کے تعلیمی مسائل اور ان کی پسماندگی کا تعلق ہے اس پر کوئی غورنہیں کیاگیا ۔ آر ایس ایس اور حکومت کی ’بیٹھک ‘ کے بعد اس بات کی ضرورت شدید ہوگئی ہے کہ مسلمان لیڈر اور تنظیمیں متحد ہوں اورمسلمانو ں کے مسائل پر توجہ دیں ۔آر ایس ایس والوں سے اس کی کوئی امید نہیں کہ وہ مسلمانوں کے مسائل حل کریں گے ۔ مسلمانوںکی طرف سے بھیک کا کٹورا لے کر سرکار کے دروازے پر دستک دینا ‘ احمقانہ حرکت ہوگی ۔ سرکار مسلمانوں کو ناراض تو نہیں کرنا چاہتی لیکن اس کا مطلب قطعی نہیں کہ مسلمانوں کو ’نوازنا چاہتی ہے ، اسکا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے ’بے وقوف‘ بنا نا چاہتی ہے ۔ کچھ’دیئے ‘ بغیر بہت کچھ ’لینا ‘ چاہتی ہے ۔ اس نے ’سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے ‘ والی ترکیب آزمائی ہے ۔ آر ایس ایس کی یہ ’حکمت عملی ‘ بے حد خطرناک ہے ۔ انتہائی تشویشناک اور بے حد معنی خیز ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ آر ایس ایس کی ’ حکمت عملی‘ کو سمجھ کر مسلم تنظیمیں اورسیکولر پارٹیاں متحد ہوتی ہیں یا نہیں ؟ کیا بہار میں اتحاد کے نام پر سیکولر پارٹیوں میں جوتم پیزار کا جو سلسلہ جاری ہے وہ یوں ہی جاری رہے گا اوربی جے پی اسی طرح ملک بھر میں اپنی پوزیشن مضبوط کرتی جائے گی ؟ یہ بھی ایک اہم سوال ہے ۔ اس سوال کے جواب کیلئے ضروری ہے کہ مسلم تنظیموں اورمسلم لیڈروں کے ساتھ سیکو لر پارٹیاں بھی کندھے سے کندھاملائیں ، اسی میں سب کی بقا ہے ، اگر ایسا نہیں ہوا تو بہار تو ہاتھ سے جائے گا ہی آئندہ کے پندرہ بیس برسوں کیلئے ملک میں اقتدارکی باگ ڈور پر غیر بھاجپائی ہاتھ بھی نہیں رکھ سکیں گی ۔ پندرہ بیس سال کسی بھی سیاسی پارٹی کے عدم اور وجود کیلئے بہت ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ تب تک بہت ساری سیاسی پارٹیوں کا وجود ہی ختم ہوجائے اور آر ایس ایس کی چھتر چھایا میں صرف بی جے پی ہی ہر طرف نظر آئے ۔ یہ منظرنامہ انتہائی بھیانک ہے ۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker