آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

اسلامی ادب کے حفیظ – حفیظ میرٹھی

آج کا پیغام : 30 جنوری - 23 جمادی الاولی

(آخری قسط)

مولانا محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

حفیظ میرٹھی کو اپنی منفرد اور معیاری شاعری کی وجہ سے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئ ۔ وہ گرچہ تحریکی اور اسلام پسند شاعر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے تھے ۔ تاہم وہ ہر حلقے کی شعری محفلوں اور مشاعروں میں یکساں طور پر مقبول تھے اور پسند کئے جاتے تھے ۔ وہ شاعری کی متعدد اصناف پر قدرت رکھتے تھے لیکن غزل ان کی خصوصی فکری و فنی جولاں گاہ تھی ۔ انہوں نے غزل ہی کو اپنے افکار و خیالات کے اظہار کا وسیلہ قرار دیا تھا اور غزل ہی کے ذریعے اپنی دلی جذبات کا اظہار کرتے تھے ۔ مشہور ناقد و محقق پروفیسر نثار احمد فاروقی نے لکھا ہے :

حفیظ میرٹھی کی شاعری کا پہلا وصف یہ ہے کہ ان کا بیان بہت واضح اور راسخ ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کی فکر میں رسوخ اور استقامت ہے۔ یہ کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے ،جب انسان کسی مقصد کے لئے جینا سیکھ لیتا ہے ۔ زندہ رہنے کے لئے کھانا پینا ضروری ہے اعلی تصور حیات اس سے زیادہ بڑی اور بنیادی ضرورت ہے ورنہ انسان اور حیوان کی زندگی میں کوئ فرق نہیں کیا جاسکتا ۔

حفیظ میرٹھی کی پوری شاعری مقصدیت لئے ہوئے ہے ۔ ان کی شاعری میں ہمیں ایسے مضامین اور خیالات نہیں ملتے جس کے ڈانڈے فحش گوئ ،فحاشی ،جذبات میں ہیجان انگیزی اور حسن و عشق کے ناروا مراحل کی عکاسی سے ملتے ہوں اسلام در حقیقت اسی شاعری کو پسند کرتا ہے جس میں جذبات و خیالات کے حقیقت پسندانہ مضامین کی ترجمانی، شعری لب و لہجہ میں کی جائے ۔

آئیے اس روشنی میں حفیظ میرٹھی کی شاعری کا مزید جائزہ لیتے ہیں ۔

حفیظ میرٹھی کی شاعری کی سمت سفر متعین ہے ان کے کلام کی یہ خوبی بھی ہے کہ ان کے یہاں پریشان خیالی ،زولیدہ بیانی اور آوارگی نام کو نہیں ملتی ، ان کے لب و لہجہ کے وقار ان کے فکر کے اعتبار کا حصہ ہے وہ ہمیشہ عزم و اعتماد اور خودداری کے ساتھ سوئے منزل رواں رہتے ہیں ۔ اختر انصاری مرحوم نے بالکل صحیح کہا ہے کہ ۰۰حفیظ میرٹھی کے یہاں جگہ جگہ ایک والہانہ جوش اور ایک سرمستانہ کیفیت ملتی ہے جو ان کے غایتی میلان کے منافی بھی نہیں ہے اور کلام کے فنی سطح کو بھی اوپر اٹھاتی ہے اور بہر حال جمالیاتی حظ کا سامان کرتی ہے ۰۰۔

اپنے اشعار میں حفیظ میرٹھی صاحب خود بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں :

خلوص دل کی جھلک جب سخن میں آتی ہے

تو زندگی سی نظر انجمن میں آتی ہے

تمہاری یاد نے روشن کئے ہیں چراغ

تمہارے ذکر سے خوشبو دہن میں آتی ہے

حفیظ میرٹھی اپنی شاعری میں صرف گفتار ہی کے نہیں بلکہ کرادر کے بھی غازی نظر آتے ہیں انہوں نے اپنی شاعری میں جرآت حق گوئ کی قیمت بھی ادا کی ہے اور سنت یوسفی بھی ادا کر چکے ہیں ۔ وہ اس کو ہر سچے مسیحا کی طرح انسانی مشکلات و مسائل کا حل سمجھتے ہیں اور اسی کی دعوت دیتے ہیں ۔ اسیری کے زمانہ میں انہوں نے اپنی مشہور نظم ۰۰ زنجیریں ۰۰ کہی جو درحقیقت مظلوم اور بے سہارا انسان کے دل کی آواز ہے ۔ سنئے حفیظ صاحب کیا کہتے ہیں :

جب سب کے لب سل جائینگے ہاتھوں سے قلم چھن جائیں گے

باطل سے لوہا لینے کا اعلان کریں گی زنجیریں

جو زنجیروں سے باہر ہیں آزاد انہیں بھی مت سمجھو

جب ہاتھ کٹیں گے ظالم کے اس وقت کٹیں گی زنجیریں

جب حفیظ صاحب قید تنہائی میں تھے تو ان کی اسیری پر بہت سے دل تڑپے، بہت سی آنکھیں نم ہوئیں اور بہت سے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ۔ اس زمانے کے ممتاز شاعر اور مشاعروں کے میر محفل جناب شمیم جے پوری نے ۰۰ مشورہ۰۰ کے نام سے ایک نظم حفیظ صاحب کی شان میں کہی ، جس کو بڑی مقبولیت ہوئ

شب سیہ کو سحر کی تجلیات کہو

حفیظ جان ہے پیاری تو دن کو رات کہو

زبان تراش دی جائے گی سچ نہ کہہ دینا

امیر شہر جو کہلائے تم وہ بات کہو

کرو سلام مسیحا سمجھ کر قاتل کو

اور اس کے زہر کو بھی بادہ حیات کہو

خدا کا نام نہ لو ان بتوں کی بستی میں

یہاں تو کفر کو آئین دینیات کہو

ستون دار پر چڑھ جاو مسکراتے ہوئے

یہ قتل گہ ہے یہاں موت کو حیات کہو

شمیم صاحب نے تو اس نظم میں اپنے رنج و غم کا اظہار کیا لیکن ان کے بعض تعلق والے نے جو اہل ثروت تھے انہوں نے حفیظ صاحب کو اپنے فکر و خیال سے رجوع ہونے اور اس امانت سے دست بردار ہوجانے کا مشورہ دیا تاکہ قید و بند سے رہائی مل سکے حفیظ صاحب نے اس موقع پر جس طرح اپنی ایمانی غیرت اور رد عمل کا اظہار کیا وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہے اور وہ دیوانوں کا ہی حصہ ہے ۔ حفیظ میرٹھی صاحب نے کہا تھا :

مجھے یہ مشورہ خوش حال لوگ دیتے ہیں

ضمیر بیچ دے اپنی خودی کا سودا کر

یہ لغزشیں ہی سنبھلنا تجھے سکھا دیں گی

قدم قدم پہ سہاروں کا منہ نہ دیکھا کر

اسی لئے تو نعیم صدیقی نے کہا تھا کہ : حفیظ میرٹھی اتھاہ تاریکیوں میں بھی گھر کر بھی یہ نہیں بھولے کہ وہ نور کے سفیر ہیں چنانچہ انہوں نے اپنے زخموں کو پہلے پھول بنایا پھر پھولوں کے چراغ بنا لئے وہ فن تھا یہ فرض ہے ۔ ( اسلامی ادب ایک مطالعہ صفحہ ۳۲۷)

حفیظ صاحب کو اپنے وطن سے بھی محبت تھی کیونکہ آفاقیت بھی مقامیت سے ناتہ توڑ کر نہیں رہ سکتی کیوں کہ یہ ایک ارضی حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے ہر سچے ادیب کی طرح حفیظ بھی وطن پرست نہیں بلکہ وطن دوست تھے اس لئے وہ کہتے ہیں ۔

میں نے و اللہ ارض وطن

تجھ کو چاہا ہے پوجا نہیں

اس کی گواہی ہندوستان کے کم سے کم بیس کروڑ لوگ تو دیتے ہی ہیں جس کی جانب حفیظ صاحب نے اشارہ کیا ہے ۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker