شمع فروزاںمضامین ومقالات

ارض مقدس میں چند ساعتیں (2)

سرزمین انبیاء فلسطین و مصر کے سفر کی روداد

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

(سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)

مسجد اقصیٰ سے باہر نکلنے کے بعد ہم لوگ کوہ زیتون پر لے جائے گئے، یہ شہر قدس کی سب سے اونچی پہاڑی ہے، یہاں سے صخرہ کا سنہرا گنبد بے حد خوبصورت نظر آتا ہے، اور نیچے دور دور تک زیتون کے ہرے بھرے باغات کا منظر بھی قابل دید ہے، اس پہاڑی کے نشیب میں یہودیوں کا کافی بڑا قبرستان ہے، وہ بھی مسلمانوں کی طرح مُردوں کو زمین میں دفن کرتے ہیں، اسی پہاڑی پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے ایک گنبد بنایا گیا ہے؛ لیکن یہ ان کی قبر نہیں ہے؛ بلکہ یہ وہ جگہ ہے، جہاں کچھ عرصہ انہوں نے قیام فرمایا تھا، اسی کے قریب مسجد رابعہ عدویہ بصریہ واقع ہے، اس سے متصل ان کی قبر ہے، جو ایک غار میں ہے، نقل کیا جاتا ہے کہ وہ یہیں عبادت کیا کرتی تھیں، اور یہیں ان کی وفات ہوئی، فلسطین ،اُردن اور مصر میں قبریں عام طور پر غار یا گہرے تہ خانوں میں ہوتی ہیں اور سطح زمین پر لکڑی وغیرہ کے قبہ رکھے ہوتے ہیں، اس کے اوپر چادر ہوتی ہے، اور پھر اوپر پتھر یا آرسی سی کا گنبد تعمیر کیا جاتا ہے، جہاں قبر ہوتی ہے، اس کو مقبرہ کہتے ہیں، اور جہاں قبر نہیں ہوتی؛ لیکن اس جگہ پر ان بزرگ نے قیام کیا، وہاں یادگار کے طور پر ایک ایسی ہی عمارت بنا دی جاتی ہے، اور اسے زیادہ تر’’ مقام‘‘ کہتے ہیں۔

حضرت رابعہ بصریہ کی قبر کی زیارت کے بعد ہم لوگوں کا سفر’’ الخلیل‘‘ کی طرف ہوا، جس کو یہودی ’’ حبرون‘‘ کہتے ہیں، بیت المقدس سے یہاں کا فاصلہ تقریباََ دو گھنٹے ڈرائیونگ کا ہے، اس کو حرم ابراھیمی بھی کہتے ہیں؛ کیوں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر مبارک یہیں ہے، مقبرہ کا کافی بڑا احاطہ ہے، اور اسی میں وسیع وعریض مسجد بھی ہے، یہ احاطہ قلعہ نما شکل میں پتھر کی دیواروں کا ہے، پہلے مسجد میں دورکعت نفل ادا کی گئی، پھر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر پر حاضری ہوئی، اس قبرپر لوہے کی جالی اور گلاس کی دیوار کا احاطہ ہے، ایک جانب جدھر قبر کا زیادہ حصہ ہے، وہ مسلمانوں کے زیر تولیت ہے، اور دوسری طرف یہودی زیارت کرتے ہیں؛ چوں کہ یہاں اکثر مسلمانوں کا یہودیوں سے ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے؛ اس لئے دونوں کے حصے الگ کر دیے گئے ہیں؛ تاکہ تصادم کی نوبت نہ آئے، اسی مسجد میں حضرت اسحاقؑ او ر ان کی بیوی حضرت رفقہؑ کی قبریں ہیں، جو حصہ یہودی غاصبوں کے قبضہ میں ہے اور جس میں مسلمانوں کے جانے پر پابندی ہے، اس میں حضرت یعقوب، حضرت یوسف اور حضرت یوسف کی والدہ لیّا(علیہم السلام)کی قبریں ہیں، یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت اسحاق علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کی قبروں پر،اور جن قبروں پر مسلمانوں کو جانے سے روک دیا گیا ہے، ان پر دور ہی سے فاتحہ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی، مسجد خلیل کے ایک طرف مسلم آبادی ہے اور دوسری طرف یہودی آبادی؛ اس لئے برابر ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے، یہاں ساری دکانیں بند، سڑکیں ویران اور اسرائیلی فورس کی بڑی تعداد نظر آئی ، یہاں سے بیت المقدس واپس جاتے ہوئے راستہ میں حضرت شمعون علیہ السلام کے مزار پر فاتحہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا، جو بنی اسرائیل میں نبی بنا کر بھیجے گئے تھے۔

ان زیارتوں سے فارغ ہو کر ہم لوگ مقام ’’ لُد‘‘ پر گئے، جہاں اس وقت اسرائیلی ائیرپورٹ بنا ہوا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقام کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی ہے کہ یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے، وہیں سے قریب اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب ہے، احباب کے اصرار پر بادل ناخواستہ یہاں بھی جانا ہوا، بعض حضرات وہاں سے کچھ خریدوفروخت کرنا چاہتے تھے، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ شدید اور مسلسل بارش کی وجہ سے بس سے نیچے اترنے کی بھی نوبت نہیں آئی، تل ابیب میں بعض عرب محلے بھی موجود ہیں، وہاں سے بھی گذر ہوا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جو علاقہ اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ سرحد کے مطابق اسرائیل کا حصہ ہے، اسرائیل نے اس کو بہت ترقی دی ہے، جس صحراء میں خاک اُڑتی تھی، وہاں ہرے بھرے باغات ، سرسبزوشاداب کھیت، منصوبہ بندی کے ساتھ بنائی گئی بلند عمارتیں، فورلائین سڑکیں، دو منزلہ میٹرو ٹرینیں، بہ کثرت کارخانے اور فیکٹریاں نظر آتے ہیں، کھجور کے درختوں کی قطاریں اتنی خوبصورت اور باغات اتنے گھنے ہیں کہ سعودی عرب میں بھی نظر نہیں آتے، غرض کہ اسرائیل کی ترقی قابل رشک ہے، فلسطین علاقے اگرچہ کہ سرسبزوشاداب ہیں، نیز صفائی ستھرائی اور سڑکوں کے اعتبار سے بھی بہتر ہی ہیں؛ لیکن اسرائیلی علاقہ کے مقابلہ بہت کمتر، اسرائیل سے متصل مصر کے زیر اقتدار صحراء سینا کے علاقہ میں آج بھی خاک اڑتی ہے، اور ترقی کا نام ونشان نہیں، افسوس کہ مسلم ممالک نے مغرب سے علوم وٹکنالوجی خریدنے کی بجائے ان کی تہذیب وثقافت خرید کر لی اور اسی کو بہت بڑی چیز سمجھا۔

۹؍ جنوری کو ہمارا واپسی کا سفر شروع ہوا اور ہم لوگوں کے اصرار پرپروگرام سے ہٹ کر گائیڈ نے آمادگی ظاہری کی کہ وہ ہمیں مزید ایک گھنٹہ مسجد اقصیٰ میں عبادت کا موقع دے گا؛ چنانچہ ہم لوگ ناشتہ کے بعد مسجد اقصیٰ کے لئے نکلے، آج گائیڈ ایک مختصر راستہ سے ہمیں مسجد کے اندر لے کر آگئے، ہم لوگ سیدھے مسجد سے نیچے واقع اصل مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور دو گھنٹے وہاں رہ کر حسب توفیق نماز ، دعاء اور ذکر وتلاوت کا اہتمام کیا، چلتے چلتے مسجد اقصیٰ میں عبادت کا جو موقع میسر آگیا، اس سے سبھوں کو بڑا قلبی سکون حاصل ہوا۔

یہاں سے اب ہم لوگوں کا سفر مصری بارڈر کے طرف شروع ہوا، جو طابہ شہر میں واقع ہے، کہا جاتا ہے کہ یہی وہ راستہ ہے جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون سے نجات پانے کے بعد گزر کر بیت المقدس کی طرف آئے تھے، اسی راستہ میں سدوم اور عامورہ کے وہ مقامات ہیں، جہاں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم آباد تھی، اللہ کے عذاب کے طور پر پہلے ان پر پتھروں کی بارش ہوئی، پھر زمین کو ان پر پلٹ دیا گیا، اسی جگہ آج کل بحر مردار واقع ہے، اس کے پانی میں ۳۳؍ فیصد نمک ہے، میں نے رفقاء سفر سے حضرت لوط کی قوم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت دی ہے کہ جب عذاب یافتہ قوموں کے ٹھکانوں سے گزر و تو جلدی نکل جاؤ؛ لیکن جب دیکھا کہ بہت سے لوگ اس کے پانی میں تیراکی کا عزم مصمم کئے ہوئے ہیں تو عرض کیا کہ کم سے کم درجہ یہ ہے کہ اگر آپ یہاں رکیں تو زیادہ سے زیادہ استغفار پڑھنے کا اہتمام کریں، نمک کی کثرت کی وجہ سے چوں کہ اس پانی کا اپناوزن بہت بڑھا ہوا ہے؛ اس لئے اس میں جب کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ ڈوبتی نہیں ہے، اور ایسے لوگ بھی جو تیراکی سے واقف نہیں ہیں، اس طرح پانی کی سطح پر لیٹ جاتے ہیں، گویا وہ اپنے بستر پر لیٹے ہوئے ہیں، بہر حال بہت سے لوگوں نے یہاں غسل کیا اور پھر یہیں عصر کی نماز پڑھی گئی۔

عجیب بات ہے کہ قوم لوط پر عذاب کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے اور تورات میں بھی؛ لیکن اب یہاں بڑے شرمناک مناظر نظر آتے ہیں ، اسرائیل اور مغرب سے آئی ہوئی بعض عورتیں مختصر؛ بلکہ مختصر ترین لباس پہن کر پورے جسم میں سمندر کی مٹیاں مَل کر دوڑ بھاگ کرتی رہتی ہیں؛ کیوں کہ لوگوں میں یہ بات مشہور ہے کہ اس مٹی کے لگانے سے جِلدی امراض سے صحت ہوتی ہے، گویا جو جگہ عبرت حاصل کرنے کی تھی، اب وہ تفریح گاہ ہے۔

یہاں سے گزر کر ہم لوگ سر شام طابہ پہنچے، اس ایمیگریشن کا نام سابق اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کے نام پر ہے، ہم لوگوں کا خیال تھا کہ اب تو ہم لوگ اسرائیل سے واپس ہو رہے ہیں؛ اس لئے وہ خوشی خوشی اور جلدی جلدی ایمیگریشن کی کارروائی کردیں گے، اور اُس طرح پریشان نہیں کیا جائے گا، جیسے اسرائیل میں داخل ہوتے ہوئے کیا تھا؛ لیکن جس قوم کی فطرت میں خباثت ہوتی ہے، وہ ہر جگہ اپنا رنگ دکھاتی ہے؛ چنانچہ اول تو دور سے سامان اُٹھا کر ایمیگریشن کے احاطہ میں آنا پڑا، پھر سارا سامان اسکرین پر ڈالا گیا، اور حسب معمول لوگوں کی جانچ کی گئی، اس کے بعد دریافت کیا گیا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی ہتھیار وغیرہ تو نہیںہے؟ بتایا گیا کہ کوئی ہتھیار نہیں ہے، ساری کارروائی ہو چکی تھی کہ اچانک اِلارم بجا، یہ خطرہ کا الارم تھا، سیکوریٹی گارڈ نے بھاگ دوڑ شروع کر دی، اس میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، سبھوں کے ہاتھ میں گن تھے، ہم لوگ ایمیگریشن سے باہر آگئے تھے؛ لیکن ابھی اسرائیلی حدود ہی میں تھے، ہم لوگوں سے کہا گیا کہ آپ فوراََ اندر واپس جائیں، ہم لوگ ایک لمبی قطار کی شکل میں کرسیوں پر بٹھا دیے گئے؛ اگرچہ اس کے اوپر ایک سائبان بنا ہوا تھا؛ لیکن سخت ٹھنڈک اور تیز ہوا تھی، چاروں طرف سے سیکوریٹی کے لوگ گن تان کر کھڑے ہو گئے، اور کچھ اس طرح گھور کر دیکھنے لگے کہ گویا سب دہشت گرد بیٹھے ہوئے ہیں، اور ہتھیار بھی کچھ اس طرح سنبھالے ہوئے تھے کہ گویا خطرناک مجرموں کو انجام تک پہنچانے کے لئے بالکل تیار بیٹھے ہیں، گائیڈ نے پہلے ہدایت کر دی تھی کہ اسرائیلی ایمیگریشن میںڈرانے کے لئے نفسیاتی طور پر اس طرح کی حرکت کی جاتی ہے، اگر ایسا ہو تو لوگ بالکل خاموشی سے بیٹھے رہیں؛ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، تقریباََ ایک ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد بغیر کسی تفتیش اور چیکنگ کے ہم لوگوں کو روانہ کر دیا گیا۔

دنیا میں شاید ہی کسی ایمیگریشن میں اتنے بداخلاق اور بدطینت لوگ پائے جاتے ہوں؛ تاہم مجھے اس پر تعجب نہیں ہوا؛ کیوں کہ جس قوم نے پیغمبروں کے ساتھ یہاں تک کہ خود اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بدسلوکی کی ہو، اس سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے؟

بیت المقدس کے اس سفر سے جو چند تأثرات قائم ہوئے، وہ یہ ہیں:

۱۔فلسطینی مسلمان بے حد مدد کے مستحق ہیں، انہیں بے گھر کیا جا رہا ہے، ان کے ساتھ کھلی ہوئی زیادتی کی جاتی ہے، حد یہ ہے کہ ہم جس ہوٹل میں مقیم تھے، وہاں سے قریب ایک فلسطینی کی دوکان تھی، اس نے بتایا کہ ہم نے زندگی میں ایک ہی بار مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کی ہے، ہمیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، وہ دیوار بھی دیکھی، جس نے غزہ کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے، اور اس کے علاوہ بھی جگہ جگہ فلسطینی آبادیوں کو دیواروں سے گھیر دیا گیا ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ نہ وہ تجارت کر سکتے ہیں نہ ملازمتوں کے دروازے ان پر کھلے ہوئے ہیں، اگر بچے کچھے فلسطینی بھی فلسطین سے باہر نکل جائیں تو اسرائیل کا مقصد پورا ہو جائے گا، اور وہ پوری سرزمینِ فلسطین پر قابض ہو جائے گا؛ اس لئے پورے عالم کے مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنے فلسطینی بھائیوں کی مالی مدد بھی کریں اور میڈیا کے ذریعہ بھی ان کی مظلومیت اور اسرائیلیوں کے ظلم وجور کو نمایاں کریں، نیزجو فلسطینی وہاں آباد ہیں، ان کو حوصلہ بڑھائیں، وہ حقیقت میں سرحد کے محافظین ہیں۔

(۲)اسرائیل یہی چاہتا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کے لئے مسلمان کم سے کم آئیں،بدامنی کے بعض واقعات اگرچہ پیش آتے رہتے ہیں؛ لیکن صورت حال اتنی خراب بھی نہیں ہے کہ وہاں جایا نہیں جا سکے، بیت المقدس کے اندر داخل ہونے کے بعد عبادت کرنے کی پوری آزادی ہوتی ہے؛ اس لئے مسلمانوں کو جرأت سے کام لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فلسطین کا سفر کرنا چاہئے اور مسجد اقصیٰ کی زیارت کرنی چاہئے؛ورنہ اسرائیل کے اس دعویٰ کو تقویت پہنچے گی کہ چوں کہ مسلمانوں کے پاس مکہ ومدینہ موجود ہے اور بیت المقدس سے ان کا زیادہ تعلق بھی نہیں رہا؛ اس لئے ان کو اب اس سے دستبردار ہو جانا چاہئے۔

(۳)عالم اسلام کو خصوصاََ اور پوری دنیا کے مسلمانوں کو عموماََ اس بات کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ منظم طور پر سائنسی علوم میں آگے بڑھیں، اگرچہ کہ اس سلسلہ میں زیادہ اہم کردار مسلم ممالک ہی انجام دے سکتے ہیں؛ تاہم ہندوستان کے مسلمان بھی اس میں اپنا حصہ ادا کر سکتے ہیں؛ کیوں کہ ہندوستان سائنس وٹکنالوجی کے میدان میں ابھرتا ہوا ملک ہے، اور اس کی اس صلاحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے؛ مگر افسوس کہ اولاََ تو ہم تعلیم کے میدان میں پیچھے ہیں اور جو کچھ حاصل کر رہے ہیں، اس میں بھی صرف معاشی پہلو کو سامنے رکھ کر میدان کا انتخاب کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ہے کہ شاذونادر ہی کسی مسلمان کا ملک کے سائنس دانوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو لوگ عصری تعلیم کے میدان میں کام کر رہے ہیں، ان کو خاص طور سے اس پر توجہ دینی چاہئے۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker