آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

ان سوالات کے جواب کے لیے تیار رہئیے

آج کا پیغام : 31 جنوری - 24 جمادی الاولی

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

فضول، بے مقصد اور لا یعنی زندگی گزارنا آج کے دور کا ایک فیشن بن گیا ہے ۔ اور تماشہ بلکہ طرفہ تماشہ یہ کہ ان ہی حضرات سے جو وقت کو فضول، بے مقصد اور لا یعنی کاموں میں ضائع کرتے رہتے ہیں ان ہی سے دین و ملت اور سماج و سوسائٹی کی خدمت اور دین کے تقاضے کے لئے کچھ وقت مانگئیے تو ڈھرلے سے کہتے ہیں کہ صاحب ! بہت مصروفیت ہے آج کے ٹائم میں فرصت کہاں ہے جناب !۔ ان نواجون کے اس جواب پر حیرت اور تعجب ہوتا ہے جو دن اور رات کے زیادہ تر حصے میں گیم یا موبائل پر واٹسیپ،فیس بک،یو ٹوب اور ٹویٹیر وغیرہ پر کمنٹس میں فیاضی کے ساتھ قیمتی لمحات و اوقات کو برباد اور ضائع کرتے رہتے ہیں ۔

عام مشاہدہ یہی ہے کہ اچھے خاصے باصلاحیت ،کریم اور قیمتی و جنیس لوگ ملٹی میڈیا موبائل پر اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور قیمتی لمحات و اوقات کو ضائع کرتے نظر آتے ہیں ۔ اگر یہ نوجوان نسل جو موبائل پر نقد و تبصرہ اور کمینٹ پر اپنی صلاحیتوں کو ضائع اور برباد کر رہے ہیں اگر وہ کسی بڑے کی نگرانی اور سرپرستی میں علمی دینی سماجی اور ملی کام کرنا شروع کردیں اور ہمارے بڑے بھی دین و ملت اور سماج و معاشرہ کی خدمت کے لئے سکینڈ لائن علماء اور خادمین دین کی ٹیم کی تیاری کی فکر کرلیں تو یہ قیمتی سرمایہ ضائع ہونے سے بچ جائے اور قوم و ملت کو دین کی خدمت کرنے والے مناسب اور معیاری و جنیس افراد بآسانی مل جائیں ۔

لیکن افسوس کہ کوتاہی دونوں طرف سے ہو رہی ہے نئ پود اور نسل کو گائڈ لائن دینے والے اور ان کی سرپرستی کرنے والے نطر نہیں آرہے ہیں تو دوسری طرف نئے فارغین اور نوجوان وہ بھی بڑوں سے دوری اور فاصلے بنائے ہوئے ہیں ۔ ممکن ہے میری باتوں سے بہت سے لوگ اتفاق نہ کریں ۔ لیکن یہ حقیقت کہ اچھے اچھے باصلاحیت ذی استعداد اور قابل نوجوان ضائع اور بے کار ہو رہے ہیں اور انہیں احساس ہی نہیں ہو پارہا ہے کہ ان کے قیمتی ایام اور اوقات کن کاموں میں ضائع اور برباد ہو رہے ہیں،؟عمر کو کن کاموں میں کھپا رہے ہیں؟ جوانی کن کاموں میں لگا رہے ہیں مال کیسے اور کہاں سے حاصل کرہے ہیں اور کہاں صرف کر رہے ہیں اور بڑے بڑے جامعات اور مدارس سے جو سند لے کر آئے ہیں اس کے تقاضے کو پورا کر رہے ہیں یا نہیں؟ سچائ یہی ہے کہ ہم لوگوں سے اگر یہ تمام سوالات کر لئے جائیں تو بغلیں جھانکنے لگیں گے اور جواب دینے سے قاصر رہیں گے ۔

یاد رکھئیے ! حشر کے میدان میں ہر شخص سے پانچ ضروری سوالات ہوں گے اس کے بغیر آدم کے کسی بچے کے دونوں قدم خدا کے حضور میں اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے جب تک اس سے پانچ سوال نہ کرلئے جائیں

۱ عمر کن کاموں میں کھپائ ۔

۲جوانی کن کاموں میں لگائ ۔

۳ مال کن ذرائع سے کمایا

۴اور کن کاموں میں صرف کیا۔

۵ اور جو علم حاصل کیا اس پر کہاں تک عمل کیا ۔(ترمذی شریف )

آخرت کے یہ پانچ سوال ہیں جن میں سے ہر ایک کا جواب لازمی اور ضروری ہے ان میں سے کوئ سوال زائد نہیں ہے کہ اس کا جواب نہیں پوچھا جائے گا ۔

حشر کے میدان میں ہر شخص سے خواہ وہ مرد ہو یا عورت لازما پانچ باتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔ ان پانچ سوالوں کا جب تک وہ شخص جواب نہ دیدے خدا کے حضور سے اس کے قدم ہٹ نہیں سکتے ۔

علماء کرام نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ: *اصل یہ زندگی ایک مہلت عمل ہے جس میں ہر طرح کے وسائل و ذرائع دے کر یہ موقع دیا گیا ہے کہ آدمی ان پانچ سوالوں کے جواب تیار کرے ۔ یہ پانچ سوال کیا ہیں؟ اللہ عز و جل کے رئوف اور رحیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفصیل دنیا میں ہی بتا دی ہے ۔

ان پانچ سوالوں کے صحیح جواب دینے والا کامیاب ہے ۔اور جو ان سوالوں کے صحیح جواب مہیا نہ کرسکا وہ ناکام و نامراد ہے ۔

آخرت کی سعادت اور دائمی کامیابی و کامرانی اس پر منحصر ہے کہ انسان شعور ،سنجیدگی ،فکر مندی لگن اور تن دہی کے ساتھ ان سوالوں کا صحیح جواب دینے کے لئے خود کو تیار کرے اور پوری زندگی اس دن کی کامیابی و کامرانی حاصل کرنے کے لیے لگا دے ۔ انسان کو گو شعور ہو یا نہ ہو وہ چاہے یا نہ چاہے وہ ان پانچ سوالوں کو متعین طور پر جانتا ہو یا نہ جانتا ہو ۔ اور وہ یونہی لا پروائی اور غفلت کی زندگی گزار رہا ہو ۔ ہونا بہر حال یہی ہے کہ وہ چار و ناچار ایک دن داور حشر کے دربار میں کھڑا ہوگا اور اس سے یہ پانچ سوال کئے جا رہے ہوں گے ۔ اور اس وقت وہ اپنے قدم اللہ کے حضور سے نہ ہٹا سکے گا جب تک جواب نہ دے لے ۔ خوش نصیب انسان وہ ہے جو اس زریں موقع کو ضائع نہ ہونے دے اور شعور کی زندگی گزارے ۔ ورنہ کل پچھتانے کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔ یہ مہلت عمل جو آج حاصل ہے کل حاصل نہ ہوگی اور پھر کبھی حاصل نہ ہوگی۔

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker