شعر و ادبمضامین ومقالاتمیزان بصیرت

پاسبان ملت: مرحوم امیر شریعت کی ز ندگی کے نقوش تاباں کی جھلک

تعارف وتبصرہ: شکیل رشید (فیچرایڈیٹر روزنامہ اردوٹائمز، ممبئی) 
نام کتاب: پاسبان ملّت
صفحات: 135۔ قیمت۔40روپئے
شائع کردہ: رابطہ صحافت اسلامی ہند
زیر اہتمام: بصیرت میڈیاگروپ
امیر شریعت حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب نوراللہ مرقدہ کو مرحوم پڑھتے اور لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ مرحوم سے میری ملاقاتیں رہی ہیں۔ کئی بار مختلف اخباروں کے لیے مرحوم سے بات چیت کی ہے۔ بات چیت کے بعد ہر دفعہ مجھ پر مرحوم کی عقیدت اور محبت کے اثرات گہرے سے گہرے ہوئے تھے۔ وہ شرافت کی ایک مثال اور اعلیٰ اخلاق کا مکمل نمونہ اور ایک بہترین عالم تھے۔ ’بصیرت آن لائن‘ کی خصوصی پیش کش ’’پاسبان ملت‘‘ ہاتھ میں لیتے ہوئے مرحوم کا چہرہ نظرو ں میں آگیا۔ اللہ رب العزت اس خصوصی پیش کش کے چیف ایڈیٹر غفران ساجد قاسمی، ایڈیٹر مظفر احسن رحمانی اور مرتب نازش ہماقاسمی کی اس محبت بھری پیش کش کو قبول فرمائے اور ’پاسبان ملت‘ کو مقبول۔
’پاسبان ملت‘ کو مرتبین نے مرحوم کی زندگی کے نقوش تاباں کی ایک جھلک کہاہے، یہ ہے تو جھلک مگر زبردست تاثر چھوڑنے والی جھلک۔ 36عنوانات سے، جن میں پیغام، اظہار مسرت، تاثرات اور آغاز سے پہلے شامل ہیں مولانا سید نظام الدین کی حیات اور خدمات کو اُجاگر کیاگیا ہے۔ نئے امیر شریعت حضرت مولانا محمد ولی رحمانی نے ’پیغام‘ میں ’پاسبان ملّت‘ کے مرتبین کو خصوصی شمارہ کی اشاعت پر سراہا ہے اور مرحوم کے لیے بلندیٔ درجات کی دعا کی ہے۔ ’اظہار مسرت‘ میں حضرت مولانا وصی احمد صدیقی قاسمی نے اس شمارے کی قبولیت عامہ کی پرخلوص دعا کی ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں : ’’(مرحوم) اپنی محنت وخلوص ، مسلسل عمل اور سب سے بڑھ کر ملت اسلامیہ کے لیے درمندی اور رہبری جیسی صفات کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے‘‘۔ نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے ’تاثرات ‘ کے تحت مرحوم کی موت پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے: ’’ان کی خدمات کو ہمیشہ یادرکھا جائے گا‘‘۔ مولانا اسرارالحق قاسمی اور مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کے تاثرات بھی شامل ہیں۔
چیف ایڈیٹر غفران ساجد قاسمی نے ’آغاز سے پہلے‘ کے تحت مولانا مرحوم سے عقیدت ومحبت کا اظہار کرتے ہوئے اس کے مرتبین اور بصیرت میڈیا گروپ کے کارکنان کی دن ورات کی محنت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ’پاسبان ملت‘ کی اشاعت کو انہوں نے مرحوم کی خدمات کے لیے ’بہترین خراج عقیدت‘ قرار دیا ہے۔ مظفر احسن رحمانی نے ’نوائے بصیرت‘ کے تحت مولانامرحوم کی حیات وخدمات کی بھر پور جھلک پیش کی ہے او ر ملک کی موجودہ صورتحال پر نئے امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کی توجہ مبذول کراتے ہوئے مسلم تنظیموں کو منظم اور فعال بنانے کے لیے عملی قدم اُٹھانے کا مشورہ دیا ہے۔
حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی ، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے مضمون ’مولانا نظام الدین صاحب کی وفات ملت کا عظیم خسارہ ہے‘ میں مولانا مرحوم کی خدمات اور ان کی خوبیوں کا ذکر محبت بھرے انداز میں کیا ہے۔ وہ ایک جگہ تحریر کرتے ہیں: ’’انہوں نے بہت مشکل حالات میں بورڈ کے کاموں کو انجام دیا ، بورڈ کی جو ذمہ داریاں ہیں اس کو انہوں نے بہت خوبی کے ساتھ پورا کیا‘‘۔ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنی تحریر میں حضرت مولانا کے انتقال کو ’ملت اسلامیہ کے لیے ناقابل تلافی نقصان ‘ قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ان کے دو اوصاف وہ ہیں جن کو ان کا امتیاز قرار دیاجاسکتا ہے، ایک: صبروتحمل، وہ سخت سے سخت باتوں کو بھی برداشت کرجاتے تھے اور اختلاف سے بچنے کے لیے بہت سے سوالات کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کرتے تھے‘‘ ۔ ڈاکٹر بدرالحسن (کویت) کی رواں دواں تحریر میںامارت شرعیہ میں حضرت مرحوم کی خدمات کا ذکر بڑے خلوص اور محبت سے کیاگیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’امارت کا پیغام وہ ہرجگہ عام کرتے رہے‘‘۔
باقی مضامین میں جن کے لکھنے والوں میں انیس الرحمن قاسمی، شاہ عمران حسن، شاہنواز بدرقاسمی اور محمد عارف اقبال وغیرہ شامل ہیں حضرت مولانا سید نظام الدینؒ کی زندگی کے ہر پہلو کی جھلک مل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس خصوصی پیش کش کو ہر ایک کے ہاتھوں تک پہنچائے۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker