Baseerat Online News Portal

باتیں ان کی یاد رہیں گی

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

ملفوظات مجموعہ ہوتے ہیں ان بیانات کا جو اخلاق فاضلہ اور اعمال صالحہ کی ترغیب و تحریص کے لئے بزرگ اور اللہ والے اپنے مریدین اور تعلق والوں کے مجمع میں بیان کیا کرتے تھے اور کرتے ہیں، ان میں سامعین کی استعداد کا،ان کے امراض قلبی کے دفعیہ

کا اور ان کی روحانی ترقی کا پورا پورا لحاظ ہوتا ہے،اکابر اولیاء اللہ کا ذکر بھی آجانا ہے ۔ جو اثر و تاثیر کو دوبالا کر دیتا ہے ۔ ملفوظات ہی سے قریب قریب اکابر کے اقوال زریں ہوتے ہیں جس میں حکمت و دانش کی باتیں ہوتی ہیں اور ایک ایک جملہ ہزاروں صفحات پر بھاری ہوتا ہے ۔

ملفوظات و مواعظ اور بزرگوں کے اقوال زریں کو زمانہ قدیم سے اہمیت اور مقبولیت حاصل ہے ،انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں اصلاح حال کے لئے مفید اور نفع بخش مانا جاتا ہے ۔

آئیے آج کے پیغام میں حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے جامع اور عبرت انگیز فرمودات میں سے کچھ کا تذکرہ کرتے ہیں ۔

امام شافعی رحمہ اللہ (۱۵۰ ھج میں ۲۰۴ھج ) (قرآن و حدیث اور فقہ و تفقہ کے ساتھ) زبان و بیان اور لغت کے اعتبار سے بھی امام تھے ،آپ کے بہت سے جامع اور عبرت انگیز فرمودات آپ کے تذکرہ نگاروں نے نقل کئے ہیں ۔ جن میں سے چند حسب ذیل ہیں :

انسانیت کے لئے چار شرطیں ہیں بہتر اخلاق ،سخاوت و فیاضی ،تواضع اور شکر.

دنیا میں انسان چار چیزوں کے ذریعہ درجہ کمال کو پہنچتا ہے : دیانت، امانت،اپنے نفس کی گناہ سے حفاظت و صیانت اور دوسروں کے ساتھ چشم پوشی.

لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے سے بڑے ہمنشیں پیدا ہوتے ہیں اور بالکل کھنچے رہنے سے عداوت و دشمنی پنپتی ہے.

بلا دلیل علم حاصل کرنا ایسا ہی ہے جیسے لکڑیوں کے ساتھ سانپ باندھ لینا.

تقوی علماء کی زینت ہے ،حسن اخلاق ان کا زیور ہے اور قناعت ان کی خوبصورتی.

جس شخص کو علم سے محبت نہیں اس میں کوئی بھلائی اور خیر نہیں، ایسے شخص سے کوئ تعلق نہیں رکھنا چاہیے.

جو شخص دوستی کے وقت تم میں وہ صفات بیان کرے جو تم میں موجود نہ ہوں تو دشمنی کے وقت وہ شخص ایسے عیوب بھی بیان کرے گا جن سے تم پاک ہو.

تین کام بڑے مشکل ہیں :تنگی میں سخاوت، خلوت میں تقوی ،اور امید یا خوف کے درمیان راست گوئ.

زبان سے کی جانے والی بات پتھر سے زیادہ سخت ، سوئ سے زیادہ چھپنے والی ،ایلوے سے زیادہ کڑوی ،چکی کے پاٹ سے زیادہ پھرنے والی اور نیزہ کی نوک سے زیادہ تیز ہوتی ہے.

( چراغ راہ صفحہ ،۳۵۵ از مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب رح )

(بصیرت فیچرس)

You might also like