آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

مال و اولاد کب فتنہ ہیں؟

آج کا پیغام 3 فروری - 27 جمادی الاولی

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

قرآن مجید میں سورہ انفال آیت نمبر ۲۸ اور سورہ تغابن آیت نمبر پندرہ میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے انما اموالکم و اولادم فتنة کیا مال و اولاد سچ مچ انسان کے لئے فتنہ ہے ؟ یہاں فتنہ سے کیا مراد ہے؟ کیا اردو زبان میں فتنہ کا جو مفہوم ہے وہی مراد ہے یا عربی زبان میں فتنہ کا کوئ خاص مفہوم ،تعبیر اور مطلب ہے ؟ آئیے آج ہم قارئین کی خدمت میں مال و دولت اور اولاد کے فتنہ ہونے کا صحیح مفہوم اور مطلب سلف صالحین کی تشریح اور بیان کی روشنی میں پیش کرتے ہیں ۔

یقینا قرآن مجید میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے : و اعلمواانما اموالکم و اولادکم فتنة و اللہ عندہ اجر عظیم( ۲۸ / انفال) اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لئے بہت کچھ ہے ۔

لیکن یہ بات ذھن میں رہے کہ یہاں فتنہ ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مال و اولاد کو چھوڑ دینا چاہیے اور اس سے علیحدہ اور کنارہ کش ہو جانا چاہئیے بلکہ فتنہ کے معنی عربی زبان میں امتحان و آزمائش کے ہیں ،علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال و اولاد تمہارے لئے امتحان و آزمائش کے باعث ہیں اور اللہ تعالی دیکھنا چاہتا ہے کہ تم ان پر شکر ادا کرتے ہو یا نہیں؟ ای اختبار و امتحان منه لکم

فتنہ کے معنی امتحان کے بھی آتے ہیں اور عذاب کے بھی اور ایسی چیزوں کو بھی فتنہ کہا جاتا ہے جو عذاب کا سبب اور ذریعہ بنیں ۔ قرآن مجید کی مختلف آیتوں میں ان تینوں معنی کے لئے لفظ فتنہ استعمال ہوا ہے ۔ مذکورہ آیت کریمہ میں تینوں معنی کی گنجائش ہے بعض اوقات مال و اولاد خود بھی انسان کے لئے دنیا ہی میں وبال جان بن جاتے ہیں اور ان کے سب غفلت و معصیت میں مبتلا ہوکر سبب عذاب بن جانا تو بالکل ظاہر ہے ۔ اول یہ کہ مال و اولاد کے ذریعہ امتحان لینا مقصود ہے کہ یہ چیزیں ہمارے انعامات ہیں ۔ تم انعام لے کر شکر گزار اور اطاعت شعار بنتے ہو یا نا شکرے اور نافرمان ۔ دوسرے اور تیسرے معنی اور مفہوم یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ مال اور اولاد کی محبت میں مبتلا ہوکر اللہ تعالی کو ناراض کیا تو یہی مال و دولت اور اولاد تمہارے لئے عذاب بن جائیں گے ۔ بعض اوقات تو دنیا ہی میں یہ چیزیں انسان کو سخت مصیبتوں میں مبتلا کر دیتی ہیں اور دنیا ہی میں مال و اولاد کو وہ عذاب محسوس کرنے لگتے ہیں ورنہ یہ تو لازمی ہے کہ دنیا میں جو مال اللہ تعالی کے احکام کے خلاف کمایا گیا یا خرچ کیا گیا وہ مال ہی آخرت میں اس کے لئے سانپ بچھو اور آگ میں داغ دینے کا ذریعہ بن جائے گا ۔ جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات اور بے شمار روایات حدیث میں اس کی تصریحات موجود ہیں ۔ اور تیسرے معنی یہ کہ یہ چیزیں سبب عذاب بن جائیں یہ تو ظاہر ہے ہی کہ جب یہ چیزیں اللہ تعالی سے غفلت اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کا ذریعہ اور سبب بنیں تو عذاب کا سبب بن گئیں ۔

آخر آیت میں یہ فرمایا گیا کہ و اللہ عندہ اجر عظیم یعنی یہ بھی سمجھ لو کہ جو شخص اللہ اور رسول کے احکام کی تعمیل میں مال و اولاد کی محبت سے مغلوب نہ ہو اس کے لئے اللہ تعالی کے پاس بڑا اجر اور انعام ہے ۔ ( مستفاد معارف القرآن تفسیر سورئہ انفال)

مفسرین نے اس آیت کے مفہوم میں لکھا ہے کہ :

۰۰انسان کے اخلاص ایمانی میں جو چیز بالعموم خلل ڈالتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان اکثر منافقت ،غداری اور خیانت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے مالی مفاد اور اپنی اولاد کے مفاد سے اس کی حد سے بڑھی ہوئ دلچسپی ہوتی ہے ۔ اسی لئے فرمایا کہ یہ مال اور اولاد جن کی محبت میں گرفتار ہو کر تم عموما راستی (سچائ) سے ہٹ جاتے ہو ،در اصل یہ دنیا کی امتحان گاہ ہیں تمہارے لئے سامان آزمائش ہیں ۔ جسے تم بیٹا اور بیٹی کہتے ہو حقیقت کی زبان میں وہ در اصل امتحان کا ایک پرچہ ہے ۔ اور جسے تم جائداد یا کاروبار کہتے ہو وہ بھی درحقیقت ایک دوسرا پرچئہ امتحان ہے ۔ یہ چیزیں تمہارے حوالہ کی ہی اس لئے گئ ہیں کہ ان کے ذریعہ سے تمہیں جانچ کر دیکھا جائے کہ تم کہاں تک حقوق و حدود (فرائض و ذمہ داریوں) کا لحاظ کرتے ہو ،کہاں تک ذمہ داریوں کا بوجھ لادے ہوئے جذبات کی کشش کے باوجود راہ راست پر چلتے ہو اور کہاں تک اپنے نفس کو جو ان دنیوی چیزوں کی محبت میں اسیر ہوتا ہے ،اس طرح قابو میں رکھتے ہو کہ پوری طرح بندئہ حق بھی بنے رہو اور ان چیزوں کے حقوق اس حد تک بھی ادا کرتے رہو جس حد تک حضرت حق ( اللہ تعالی ) نے خود ان کا استحقاق مقرر کیا ہے۰۰

(بصیرت فیچرس)

(نوٹ پیغام کا اگلا اور آخری حصہ کل ملاحظہ فرمائیں)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker