مضامین ومقالاتنوائے بصیرت

کوئی مسلمان سی بی آئی ڈائرکٹر کیوں نہیں؟

شکیل رشید

( ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز / سرپرست بصیرت آن لائن)

کیا کوئی مسلمان سی بی آئی ڈائرکٹر نہیں بن سکتا؟
یہ سوال اس لئے کیا جارہا ہے کہ سنیچر کے روز سی بی آئی کے نئے ڈائرکٹر کے نام پر غور کرنے کے لئے جو نام تین رکنی پینل کے سامنے آئے تھے ان میں یوپی کے ایک اعلیٰ ترین مسلم پولس افسر جاوید احمد کا نام بھی شامل تھا ، جو ۱۹۸۴ء کی آئی پی ایس بیچ سے ہیں لیکن ان کے نام پر غور نہیں کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی تین رکنی کمیٹی کے ایک رکن اپوزیشن لیڈر ، کانگریس قائد ملکا ارجن کھڑگے نے جاوید احمد کے نام پر زور دیا تھا لیکن وزیراعظم مودی نے ان کی نہیں سنی ۔ خیر، وزیراعظم سے امید بھی کیا کی جاسکتی ہے ۔ مسلمان تو خیر ان کے لئے کوئی معنیٰ ہی نہیں رکھتے اور اگر رکھتے بھی ہیں تو’ کتے کے اس پلّے کی طرح جو کسی کار کی ٹائر کی زد میں آجائے ‘ انہوں نے تو اعلیٰ ذات ، بلکہ برہمن افسر کو بھی اس لئے ’ ٹھکانے‘ لگادیا کہ اس نے ان کی ’مخالفت‘ کرنے کی ٹھانی تھی اور ان کے انتہائی چہیتے افسر کے خلاف بدعنوانی کے معاملے میں کارروائی کرنے کی جسارت کی تھی۔ میرا مطلب آلوک ورما اور راکیش استھانہ سے ہے ورما اور استھانہ کی جنگ ، سی بی آلی کی وہ جنگ تھی جس نے ملک کی اس انتہائی اہم اور معتبر ایجنسی کی ساکھ کو متاثر کیا ہے ۔ اس جنگ کے سبب ہی یہ بات سامنے آئی ہے کہ سی بی آئی جیسے ادارے میں بھی بدعنوانی کی جاسکتی ہے ۔ راکیش استھانہ پر کروڑوں روپئے کی بدعنوانی کے الزامات ہیں ، ورما اس کی چھان بین کررہے تھے کہ آدھی رات کو ان کے آفس کو سیل کرکے انہیں باہر کی راہ دکھا دی گئی۔وہ سپریم کورٹ سے مودی سرکار کے خلاف ’ مقدمہ‘ جیت کردوبارہ سی بی آئی کے ڈائرکٹر تو بنے مگر صرف ایک دن کے لئے ، دوسرے دن مودی سرکار نے پھر انہیں نکال باہر کیا ۔ اور اب سرکاری حکمنامے کی خلاف ورزی کرنے کے ’ جرم‘ میں انہیں سزا دینے پر اتارو ہے ۔ سرکار کا کہنا ہے کہ آلوک ورما نے وہ جگہ ، جہاں ان کا تبادلہ کیا گیا تھا ، کیوں نہیں سنبھالی، کیوں حکم عدولی کی ؟ ورما کا کہنا ہے کہ وہ سی بی آئی کے ڈائرکٹر تھے ، اسی دوران ان کی مدتِ کار ختم ہوچکی تھی لہٰذا انہیں دوسری جگہ سنبھالنے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ وہ معمول کے مطابق ریٹائر ہوئے ہیں ۔ اس سارے معاملے میں دلچسپ امر یہ ہیکہ راکیش استھانہ جو سی بی آئی کی گھمسان کا سبب بنے اور جن پر مختلف طرح کے الزامات ہیں ، سی بی آئی کا ڈائرکٹر بننے کے لئے پرتول رہے تھے ۔ جی ہاں انہوں نے بھی کوشش کی تھی کہ انہیں یہ عہدہ مل جائے ۔ بات کچھ لمبی ہوگئی پر بات ضروری تھی۔ اس سوال سے بات شروع ہوئی تھی کہ کیا کوئی مسلمان سی بی آئی ڈائرکٹر نہیں بن سکتا ؟ شاید اس سوال کا جواب نہیں میں ہے ۔ شاید یہ کوئی ’غیر تحریری قانون‘ ہے کہ کسی مسلمان کو سی بی آئی کا ڈائرکٹر نہ بنایا جائے ۔ جس طرح یہ ’ غیر تحریری قانون‘ ہے کہ ملک کا وزیراعظم کوئی مسلمان نہیں بن سکتا ۔ ایک اعلیٰ پولس افسر سید آصف ابراہیم نہ جانے کیسے آئی بی کے ڈائرکٹر بن گئے تھے ، ورنہ ڈھونڈے سے بھی ان عہدوں پر جو’حساس‘ کہے جاتے ہیں مسلمان افسروں کو ’ بڑی پوسٹ نہیں دی جاتی ۔ ’را‘ میں کسی زمانے میں ہمایوں کبیر کے پوتے کی صرف اس لئے پوسٹنگ نہیں ہوسکی تھی کہ وہ مسلمان تھے ۔۔۔ جاوید احمد کے نام کو رد کرکے مودی اور ان کی سرکار نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ ان سے سیکولر اور جمہوری قدروں کے احترام کی توقع فضول ہے ۔۔۔ اتنا بتادیں کہ جاوید احمد سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائرکٹر ہیں ۔ وہ یوپی کے ڈی جی پی بھی تھے اور فی الحال این آئی سی ایف ایس کے ڈائرکٹر ہیں ۔ مگر یہ پوسٹ نہ ان کی اہلیت کے مطابق ہے نہ ان کے تجربے کے ، پر کیا کیا جائے، وہ جاوید احمد ہیں اس لئے کچھ تو کھونا پڑے گا !
(بصیرت فیچرس)

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker