Baseerat Online News Portal

مال اور اولاد کب فتنہ ہیں؟ (2)

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

و اعلمواانما اموالکم و اولادکم فتنة و اللہ عندہ اجر عظیم.

اور جان کہ بیشک تمہارے مال اور اولاد خرابی ڈالنے والے ہیں اور یہ کہ اللہ کے پاس بڑا اجر و ثواب ہے ۔

مذکورہ آیت کا مضمون تو تمام مسلمانوں کو عام اور شامل ہے ،سارے مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے اور سب کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ مال اور اولاد آزمائش اور امتحان کا ذریعہ اور سبب ہیں ۔ مگر اس واقعہ کا شان نزول ایک خاص واقعہ اور پس من ہے ،اکثر مفسرین کے نزدیک یہ واقعہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے جو غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر پیش آیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے بنو قریظہ کے قلعہ کا اکیس روز تک محاصرہ جاری رکھا جس سے عاجز ہوکر انہوں نے وطن چھوڑ کر ملک شام چلے جانے کی درخواست کی آپ نے ان کی شرارتوں کے پیش نظر اس کو قبول نہیں فرمایا بلکہ یہ ارشاد فرمایا کہ صلح کی صرف یہ صورت ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تمہارے بارے میں جو کچھ فیصلہ کریں اس پر راضی ہو جاو ۔ انہوں نے درخواست کی کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بجائے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کو یہ کام سپرد کیا جائے ۔ کیونکہ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال اور جائداد بنو قریظہ میں تھے ،ان سے یہ خیال تھا کہ وہ ہمارے معاملہ میں رعایت کریں گے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی درخواست پر ابو لبابہ کو بھیج دیا ۔بنو قریظہ کے سب مرد و عورت ان کے گرد جمع ہو کر رونے گڑگڑانے لگے اور یہ پوچھا کہ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اتر آئیں تو کیا ہمارے معاملہ میں وہ کچھ نرمی فرمائیں گے ۔ابو لبابہ کو معلوم تھا کہ ان کے معاملے میں نرمی برتنے کی رائے نہیں ہے ۔ انہوں نے کچھ ان لوگوں کی گریہ و زاری اور رونے دھونے سے اور کچھ اپنے اہل و عیال کی محبت سے متاثر ہوکر اپنے گلے پر تلوار کی طرح ہاتھ پھیر کر اشارہ سے بتلا دیا کہ ذبح کئے جاو گے ۔ گویا اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا راز اور بھید فاش کر دیا ۔

مال و اولاد کی محبت میں یہ کام کر تو گزرے ۔ مگر فورا تنبہ ہوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کی ۔ جب واپس ہوئے تو اس درجہ ندامت سوار ہوئ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹنے کے بجائے سیدھے مسجد میں پہنچے اور مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ اپنے کو باندھ دیا اور قسم کھائ کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہوگی اسی طرح بندھا رہوں گا چاہے اسی حالت میں موت آجائے ۔ چناچہ سات روز مکمل اسی طرح بندھے کھڑے رہے ان کی بیوی اور لڑکی نگہداشت کرتی تھیں ،انسانی ضرورت کے وقت اور نماز کے وقت کھول دیتی اور فارغ ہونے کے بعد پھر باندھ دیتی تھیں ،کھانے پینے کے پاس نہ جاتے تھے یہاں تک کہ غشی و بیہوشی طاری ہو جاتی تھی ۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اول اس کی اطلاع ملی تو فرمایا اگر وہ اول ہی میرے پاس آجاتے تو میں ان کے لئے استغفار کرتا اور توبہ قبول ہوجاتی اب جب کے وہ یہ کام کر گزرے تو اب قبولیت توبہ ہونے کا انتظار ہی کرنا ہے ۔

چنانچہ سات روز کے بعد آخر شب میں آپ پر یہ آیتیں ان کی توبہ قبول ہونے کے متعلق نازل ہوئیں بعض حضرات نے ان کو خوشخبری سنائ اور ستون سے ان کو کھولنا چاہا مگر انہوں نے کہا جب تک خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نہیں کھولیں گے میں کھلنا اور بندھن سے نکلنا پسند نہیں کروں گا ۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے وقت مسجد نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تشریف لائے تو آپ نے اپنے دست مبارک سے ان کو کھولا ۔ آیت مذکورہ میں جو خیانت کرنے اور مال و اولاد کی محبت سے مغلوب ہونے کی ممانعت کا ذکر آیا ہے اس کا اصل سبب یہ واقعہ ہے ( و اللہ اعلم و علمہ اتم) ( مستفاد معارف القرآن تفسیر سورئہ انفال )

یہ حقیقت ہے کہ مال و اولاد انسان کے لئے فتنہ اور امتحان و آزمائش ہیں، مال و اولاد کی محبت میں مغلوب ہو کر اکثر انسان شاہ راہ عدل اور مقام راستی سے ہٹ جاتا ہے ،اکثر گناہوں اور معصیتوں میں خصوصا حرام اور مشکوک و مشتبہ کمائ میں ان ہی کی وجہ سے انسان مبتلا ہوتا ہے ،ایک حدیث میں ہے کہ روز قیامت بعض اشخاص کو بلایا جائے گا اس کو دیکھ کر لوگ کہیں گے :-

اکل عیاله حسناته یعنی اس کی نیکیوں کو اس کے اہل و عیال نے کھا لیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کے بارے میں فرمایا :مبخلة مجبنة یعنی یہ بخل اور جبن یعنی نامردی اور کمزوری کے اسباب ہیں ۔ ان کی محبت کی وجہ سے آدمی اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے رکتا ہے ،ان ہی کی محبت کی وجہ سے جہاد اور کار خیر میں شرکت سے رہ جاتا ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :الویل کل الویل لمن ترک عیاله بخیر و قدم علی ربه بشر ( مسند الشھاب القضاعی جلد ۲/ صفحہ ۲۶ رقم الحدیث ۳۰۴)

یعنی کامل تباہی و بربادی ہے اس شخص کے لئے جس نے موت کے وقت اپنے عیال کو اچھی حالت میں چھوڑا ،اور خود برے حال میں اپنے رب کے پاس پہنچا ۔

بعض سلف صالحین کا قول ہے العیال سوس الطاعات یعنی عیال و اولاد اور بچے انسان کی نیکیوں کے لئے گھن ہے ۔ جیسے گھن غلہ کو کھا جاتا ہے یہ اس کی نیکیوں کو کھا جاتے ہیں ۔ ( مستفاد معارف القرآن تفسیر سورئہ تغابن)

آج کے زمانہ کا سب سے زیادہ مہلک مرض ،بیماری اور بیگاڑ و کمزوی جس میں زیادہ تر لوگ مبتلا ہیں

وہ حب مال و زر اور حب اولاد کی وہ شکل اور صورت ہے جس میں انسان اپنی اولاد کی خاطر اور دنیا کی بے جا حرص و ہوس کی خاطر اپنی آخرت تباہ کر رہا ہے ۔ یہ بلا شبہ بڑی محرومی ہے کہ دوسروں کی دنیا بنانے کے لئے اپنی آخرت تباہ کر لے ۔ مزید یہ کہ یہی اہل و عیال جن کو آدمی اپنا سب کچھ دے دیتا ہے وہ موت کے بعد اس سے اس طرح جدا ہو جاتے ہیں کہ دوبارہ اس کو کبھی نہیں ملتے ۔

(بصیرت فیچرس)

You might also like