شعروادبمضامین ومقالات

غزل

جہان سارا ہی قرباں ہے میری سیرت پر

غزل
عزیز بلگامی

جہان سارا ہی قرباں ہے میری سیرت پر
مَلاہے غازۂ خوں میں نے اپنی صورت پر
نہ روئو،دُنیا پرستو! مری شہادت پر
یقین ہے کہ نہیں تُم کو، اجرِ جنّت پر؟
خدایا مجھ کو بھروسہ ہے تیری رحمت پر
یہی سبب ہے کہ قائم ہوں دینِ فطرت پر
گنوائی جب سے جوانوں نے دولتِ کردار
زمانہ ہنستا ہے اب قوم کی ہزیمت پر
محبتوں کی میں دیوار کا ہوں سایہ نشیں
ہے ناز اِن کو بہت اپنے قصرِ نفرت پر
مرے قلم سے تونگر بنا جہاں سارا
توجہ کی نہ کسی نے مری ضرورت پر
میں سانس کیسے لوں! چیخوں کے درمیان عزیزؔ
کہ نغمہ باری بھی اب بار ہے سماعت پر…

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker