Baseerat Online News Portal

بدگمانی اور افواہ طرازی مذموم عمل

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

دوست و احباب اور اہل تعلق میں نفرت کی آبیاری کرنا، ان کے درمیان دوری پیدا کرنا، ایک بھائ کی طرف سے دوسرے بھائ کے دل میں میل پیدا کرنا اور ان میں بد ظنی قائم کرنے کی کوشش کرنا، میاں بیوی کے دل میں رنجش کے بیج بونا، مالک اور آقا کے تعلقات خراب کرنا ،ایک ادارہ اور جماعت کے افراد میں بدمزگی اور تلخی پیدا کرکے اپنا الو سیدھا کرنا اور قوم و ملت کو بیوقوف بنانا یہ وہ بدترین حرکت ہے جس کا کرنے والا اسلامی معاشرہ میں بد سے بدتر ہے اور انسانوں کے درمیان نفرت و دشمنی کا بیج بو کر شیطانی کام کا مرتکب ہوتا ہے ،اسلامی سوسائٹی اور اسلامی نظام معاشرت میں ایسوں کی کوئ گنجائش نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :-جو شخص کسی کی عورت یا کسی کے نوکر کو بہکاوے اور دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے. (ابو داؤد)

اس وعید میں وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو دوسرے کے گھروں میں جاکر میٹھی میٹھی باتیں کرتی ہیں ،اور ان کے ان کے گھروں کی عورتوں سے اپنے مطلب اور مقصد کی باتیں سن کر اس کا چرچا اور پروپیگنڈہ کرتی ہیں اور شوہر اور دوسرے لوگوں کی نظر میں اس طرح عورت کو ذلیل و خوار اور رسوا و بے حیثیت کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔

اسی طرح جو مرد بیٹھکوں، مجلسوں اور محفلوں میں جاکر محلہ بھر کے لوگوں کی گھریلو باتیں کرتے ہیں اور ہر طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں اور آپس میں لڑائی کرا کر اور دشمنی پیدا کرکے تماشہ دیکھنے والے ہیں ۔

اکثر جگہوں پر اور خاص طور پر ملی اور تعلیمی اداروں میں ایسے لوگ اور ایسی اوچھی حرکت کرنے والے بہت ہوتے ہیں ان کا باقاعدہ جھتا اور ٹولہ ہوتا ہے اور یہ لوگ باضابطہ کچھ لوگوں کو اس مہم کے لئے خاص کرتے ہیں اور اپنی دشمنی نکالنے کے لئے بے گناہ ملازم اور اساتذہ کی شکایتیں کرتے کراتے ہیں ۔

دوسری طرف کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں کا آج یہ مشغلہ ہی ہے کہ کسی ادارہ یا جماعت کے افراد میں لگائ بجھائی کی مذموم کوشش کی جائے اور انتشار و خلفشار کا ماحول پیدا کیا جائے اور امت کو بے چین و مضطرب اور بے سکون رکھا جائے ایسے لوگ ہمیشہ ایسی خبروں کے انتظار میں رہتے ہیں کہ اس تنظیم اور جماعت کے اختلاف سے متعلق خبریں عام ہوں اور نمک مرچ لگا کر اس پر تبصرہ کیا جائے ۔

خاص طور پر موجودہ تبلیغی جماعت کے قضیہ کے سلسلہ میں دونوں فریق کے لوگ متضاد اور جھوٹی خبریں زیادہ پھیلا رہے ہیں اور بے بال و پر خبریں ادھر ادھر پوسٹ کرتے رہتے ہیں ۔

سورہ حجرات کی آیت نمبر چھ میں ہم مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے اور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ادھر تم سے کسی نے بات کی اور ادھر تم نے اسے سچ مان لیا ۔ بالخصوص ایسے مسائل اور معاملات میں تو ہمیں بہت احتیاط کرنی چاہیے جن کا تعلق قومی اور اجتماعی نقصان سے ہو ۔ ان معاملات میں بسا اوقات ذرا سی بے احتیاطی بے حد سنگین اور خطرناک غلطیوں کا باعث بن جاتی ہے ۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ جب بھی ایسی خبر ہم سنیں اسے مان لینے اور اس پر یقین کرنے سے پہلے اچھی طرح اس کے بارے میں تحقیق اور چھان بین کر لیا کریں ۔

قرآن مجید نے بدگمانی پھیلانے ہی کی طرح افواہ پھیلانے کو شیطانی عمل قرار دیا ہے اور معاشرے میں سرگوشی اور کانا پھوسی کرنے والوں کی سخت مذمت کی ہے ۔ سرگوشی کے علاوہ افواہ جھوٹ بھی ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسلمان اور سب کچھ ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا ۔ یہی نہیں کہ افواہ پھیلانے والا ہی جھوٹا ہوتا ہے بلکہ بلا تحقیق و تصدیق جو آدمی اسے صحیح مان کر آگے پھیلانا شروع کر دیتا ہے اسلام کے نزدیک وہ بھی جھوٹا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ جو بات سنے اسے بغیر تحقیق اور تصدیق کے دوسروں تک بیان کرنا شروع کردی ۔

قرآن مجید مسلمانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ یونہی کسی بات کے پیچھے نہ ہو لیا کریں ،فرمایا :

ولا تقف مالیس لكم به علم ان السمع و البصر و الفئواد کل ذلک الخ اور جس بات کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ ہو لیا کرو ،کیونکہ کان ،آنکھ اور دل ان سے قیامت کے دن پوچھ ہوگی ۔

اس لئے ہماری ذمہ داری اور فرض منصبی ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے خبر دار رہیں اور معاشرے میں ایسا شعور اور احساس بیدار کریں کہ وہ ایسے عناصر کا وجود ہی برداشت کرنے سے انکار کردے ۔

دوسری طرف ان تحریکوں اور جماعتوں کے سربراہوں اور سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ختم کرکے صلح کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں اور اپنے کو اصلاح سے بے نیاز مت سمجھیں امت کو انتشار سے بچائیں اپنے حامیوں اور تائید کرنے والوں کو غلط شہ نہ دیں ۔ جمہور اور اکابر اہل علم جس علمی فرو گزاشت پر پکڑ کریں ٹوکیں ،اسے تسلیم کریں ،غلط رائے اور نظریہ نہ قائم کریں ۔

(بصیرت فیچرس)

You might also like