Baseerat Online News Portal

ان دریچوں سے جھانکتا ہے زوال!

مولانامحمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

بڑے اور وی آئی پی طبقہ کا نفسانی تعیش ،عیش پرستی ،موج و مستی اور طاؤس و رباب میں انہماک اور مذھبی قیادت کا باہمی اختلاف و انتشار ،بحث و مباحثہ اور مذھبی جھگڑوں میں الجھنا کسی قوم کی بربادی اور زوال و پستی کی علامت ہے ۔ تاریخ شاہد ہے اس کے صفحات بتاتے ہیں کہ ہر دور میں ہر دانشور گروہ اپنے مد مقابل کی اس کمزوری سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے فریق اور مد مقابل کو ان دو کمزوریوں میں مبتلا کر دے ،اس کام کے لئے حکومتیں اور ذہین قومیں بڑی بڑی رقمیں صرف کرتی ہیں اور اس کے لئے باقاعدہ پلانگ اور منصوبے بناتی ہیں، ادارے اور شعبے قائم کئے جاتے ہیں ،فریق مخالف کے درمیان اپنے آدمی اور جاسوس چھوڑے جاتے ہیں اس ادارے اور محکمے میں اعلی صلاحیت کے افراد متعین کئے جاتے ہیں اور ان کو تمام سہولیات کے ساتھ خطیر تنخواہیں دی جاتی ہیں اس شعبے میں کام کرنے والے اعلی وفاداری کا ثبوت دیتے ہیں بظاہر ان کے اخلاق و کردار اور گفتار و انداز ایسے نہیں ہوتے کہ کوئی ان پر شبہ کرے کہ یہ کسی خاص مذہب اور طبقہ کے لئے پری پلانگ کر رہے ہیں ۔ قومیں اگر ان کمزوریوں سے اپنے کو محفوظ نہیں رکھ سکتیں تو فریق مقابل ان کو آسانی سے برباد کر دیتا ہے، اس کو اپنا محکوم اور غلام بنا لیتا ہے اور اس کی حیثیت اور شناخت کو ختم کر دیتا ہے ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے زمانے میں عیسائی قوم کی ان دو کمزوریوں کو پکڑ لیا تھا اور اس سے فائدہ اٹھا کر ایک ہی حملہ میں صلیبی فوجوں کے قدم اکھاڑ دئیے تھے اور ان کی انیٹ سے اینٹ بجا دی تھی ۔

آئیے اس کی تفصیل اور صلاح الدین ایوبی کی اس حکمت عملی کو تاریخ کے روشن اور زریں صفحات میں تلاش کرتے ہیں ۔

عیسائیوں کا مشہور جنگ باز جرنیل رچرڈ فوج کا ایک ٹڈی دل کے ساتھ صلاح الدین کے مقابلہ کے لئے نکلا، صلاح الدین ایوبی ان دنوں بیمار تھا اور اس کی ٹانگ میں بال توڑ پھوڑا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے یہ مجاہد بہادر ایک کروٹ پلنگ پر پڑا رہتا تھا ۔ معالج نے مکمل آرام کا مشورہ دے رکھا تھا ۔ صلاح الدین نے اپنے کمانڈروں کو بلایا اور انہیں رچرڈ کے مقابلہ پر جانے کی ترغیب دی ۔ صلاح الدین نے ان سے بات چیت کے بعد جب یہ محسوس کیا کہ میرے بیمار پڑ جانے کی وجہ سے میری فوج کے حوصلے پست ہوگئے ہیں تو اس نے دو جاسوسوں کو طلب کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ رچرڈ کے لشکر کے حالات سے آگاہ کریں ،جاسوس حالات کا تفصیلی جائزہ لے کر جب واپس آئے تو انہوں نے خبر دی کہ ہم نے عیسائی لشکر کے خیموں میں دو باتیں خاص طور پر دیکھی ہیں ۔ ایک یہ دیکھی کہ فوجی شراب و کباب میں مست ہیں اور رنگ ریلیاں منا رہے ہیں ۔ دوسری بات یہ دیکھی کہ پادری مباحثے اور مناظرے میں مصروف ہیں اور آپس میں اس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا پیشاب پاخانہ پاک تھا یا ناپاک ؟

صلاح الدین ان جاسوسوں کی بات غور سے سنتا رہا اور ایکدم جوش میں آکر کھڑا ہوگیا اور اپنے فوجی جرنیلوں سے مخاطب ہوا ۔ قسم ہے خدا کی ! جو قوم اپنے مذھبی پیشوا کے بارے میں بحث و مباحثہ کرتی ہے، خدا تعالی اسے رسوا کردیتا ہے عیش پرستی اور ہوس رانی بھی کسی قوم کی ہلاکت کے لئے کافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کہہ کر اسی تکلیف کی حالت میں اپنی فوج کو لے کر رچرڈ کے مقابلہ میں آگیا اور ایک ہی حملہ میں صلیبی فوج کے قدم اکھڑ گئے ۔ ( مستفاد چراغ راہ صفحہ ۲۷۳)

ہندوستان کے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے اس وقت جو حالات ہیں اور جس طرح مسلمانوں میں علماء اور مذھبی طبقہ عقائد و نظریات اور مذھبی بحث و مباحثہ میں لگے ہوئے، آپس میں ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں اور ادھر اہل ثروت طبقہ اور خاص طور پر خلیجی حکمراں جس انداز سے اپنے محلوں میں داد عیش دے رہیں ہمارے مخالفین اور ہمارے دشمن ہماری ان کمزوریوں کو بھانپ گئے ہیں اور اپنے جاسوسوں سے معلوم کرلیا ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو کمزوریوں پورے طور پر پیدا ہوگئی ہیں ان سے فائدہ اٹھا کر ان کی شناخت کو مٹا دیا جائے اور ان کی حیثیت عرفی کو ختم کر دیا جائے ۔ خاص طور پر ہندوستان میں تو یہاں فاشسٹ نظریہ رکھنے والے ہماری اس کمزوری کا بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے ہی درمیان اور ہماری ہی صف میں انہوں نے اپنے لوگ تیار کر لئے ہیں جو ان کا کام آسانی سے انجام دے رہے ہیں ۔

کیا اب بھی ہماری شعور و آگہی کی آنکھیں نہیں کھلیں گی؟ ۔ کیا ہم دشمنوں کے آلہء کار بنتے رہیں گے؟ کیا ہم اسی طرح شوری اور مرکز کے جھگڑے میں پڑے رہیں گے اور اپنی توانائی برباد کر دیں گے؟ اور ملت کو متحد کرنے اور قوم مسلم کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی فکر و کوشش نہیں کریں گے؟ ۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندی مسلمانو!

تمہاری داستان تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

(بصیرت فیچرس)

You might also like