جہان بصیرتمضامین ومقالاتنوائے بصیرت

عشق و وفا کی بستی حیدر آباد کا ایک خوشگوار سفر

المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے تربیتی ورکشاپ کے تعلق سے ایک خصوصی تحریر

مظفر احسن رحمانی

ایڈیٹر بصیرت آن لائن

دیار محبت ، عشق و وفا کی بستی جہاں میرا بچپن پہاڑوں کی دامن میں اٹھکھیلیاں کرتا ہوا گذرا ،جوانی کے بیش قیمتی وقت لا ابالی پن میں بتائے گئے، عقل وشعور جب اپنے پروں کو تول رہا تھا تو اس عین موقعے پر ہمارے محسن اور کرم فرما اساتذہ نے اس خوبصورت ڈھنگ سے تربیت فرمایا کہ آج بھی اسی تربیت کے سہارے اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات نہایت خوبصورتی کے ساتھ بتا رہا ہوں.

صبح کی خنک اور مستی بھری ہواؤں کی بانہوں سے فراٹے مارتی اور مچلتی اپنی شوخ اداؤں کے ساتھ بل کھاتی لہراتی سفید رنگ کی اسکارپیو اگرچہ کہ ہمارے اس گاؤں سے چلی جہاں محبت کی بولی،بولی جاتی ہے،پیار کے سوداگر بستے ہیں،وفا کادرس دیا جاتا ہے، جسے عالمگیر شہرت یافتہ اسلامی اسکالر اور فقیہ قاضی مجاہدالاسلام قاسمی رحمہ اللہ کے ساتھ فقیہ العصر، بین الاقوامی شخصیت کے حامل عالم دین حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ العالی جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا وسکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی نسبت حاصل ہے،ابھی ہماری گاڑی نے بہت زیادہ رفتار بھی نہیں پکڑی تھی کہ میں خواب وخیال کی وادی سے گذرتا ہوا زندگی کے اس حصے میں پہونچ گیا جہاں ایک 12/سالہ لڑکا ایک لمبی مسافت طے کرکے چکا چوند شہر میں قدم رکھ رہا ہے،بہت زیادہ یاد تو نہیں ہے لیکن اتنا یاد پڑتا ہے کہ کہیں لکھا ہوا پڑھا تھا “حیدرآباد” بلیوں کود پڑا اور ایسا لگا کہ سب سے خوبصورت شہر میں آیا ہوں،تیز رفتار بھاگتی دوڑتی گاڑیاں،کشادہ سڑکیں،بلندو بانگ مزین عمارتیں، میناروں اور گنبدوں سے ڈھکا ہوا، بلب اور قمقموں سے جگمگاتا ہوا،یہ سب کچھ دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی جگہ پر پہونچا جو گویا پہاڑ کے دامن میں بسا ہواایک گاوں ہو،دوچند ایسبیٹاس شیڈ کے کمرے ایک رو میں اور دو چند کمرے دوسرے رو میں تھے ، اور الگ سے ایک چھوٹی سی عمارت جس میں گویا پورا مدرسہ سمٹا ہوا ہو،ایک جگہ کسی دیوار پر دارالعلوم سبیل السلام لکھا ہوا تھا،سناٹا رات،ہو کا عالم،اندھیری رات میں جب تیز ہوا چلتی تو پہاڑی پر سینہ سپر پیڑوں کے ٹکرانے سے دل کو دہلادینےوالی آواز ایک معصوم بچے کو ڈرنے پر مجبور کر دیتی،آخر ڈر اور خوف کے بیچ صبح کی سپیدی نمودار ہوئی، زندگی کو حوصلہ اور توانائی ملی،لیکن رات کے تقریبا حصے میں جب تک آنکھ کھلی رہی دو نامانوس ناموں کو سنتا رہا وہ دونام میں سے ایک نے زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھایا اور دوسرے نام نے زندگی کے برتنے،پرکھنے،نشیب وفراز سے آگاہ کیا اور یہی سچ ہے آج بھی ان ہی کا نام میری زندگی کوعزت بخشتا ہے،جن کے نام نے ہر جا جگہ دیا،اول الذکر ایک جہان کے بادشاہ حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی رحمہ اللہ،اور آخرالذکر ہمارے مربی،مشفق،نہایت ہی کرم فرما محسن،حضرت استاد محترم فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم تھے.

مولانا کہاں آپ کھوئے ہیں پیچھے سے ہمارے رفیق سفر مفتی عامر مظہری سلمہ جو ہمارے بہت ہی عزیز شاگرد ہیں اور جنہیں میں اپنی اولاد کی طرح چاہتا ہوں، آواز آئی یہ دیکھئے حافظ عبد الناصرصاحب بھی آگئے، (حافظ عبد الناصر صاحب سبیل السلام کے زمانے کے بہت مہربان دوستوں میں ہیں، مجھ سے چار پانچ سال بڑے تھے لیکن اپنی طبیعت کی کشادگی اور وسعت ظرفی کی وجہ سے ہر ایک میں مقبول تھے ،ابھی اپنے گاوں کے ایک معیاری مدرسہ “دارالسلام “اجرا مدھوبنی کے مہتمم ہیں،داڑھی اب تقریبا سفید ہوگئی ہے،کمر جھکتی جارہی ہے ،آنکھ پر موٹا چشمہ پہنتے ہیں جس سے بینائی کی کمزوری کا بھی احساس ہوتا ہے،لیکن آج بھی وہی انداز ہے جو زمانہ طالب علمی میں تھا)اب پٹنہ بھی قریب ہے.

دانا پور اسٹیشن پر دوگھنٹے انتظار کے بعد چھک چھک کرتی ٹرین ایک سمت سرپٹ دوڑ رہی ہے،ہمیں انتظار ہے اس لمحے کا جب میں بیتے ہوئے ان لمحوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ پاؤنگا،اور بہت ہی محبت کرنے والے مشفق کریم اور مہربان مربی استاد فقیہ العصر عالمی شہرت یافتہ عالم دین حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا، سکریٹری وترجمان مسلم پرسنل لا بورڈ سے مل سکونگا ، اور ان کی باتوں کو سن کر اپنی زندگی کو پھر سے ایک رخ دینے کی سعی کرپاؤنگا اور خواہش ہے کہ اپنے ان تربیت کرنے والوں کو جو ہندوستان کی عظیم دینی درسگاہ اور تربیت گاہ المعہد العالی الاسلامی حیدر آباد تشریف لا رہے ہیں سن سکوں، جہاں فضلاء معہد کی ایک بڑی جماعت بھی موجود ہوگی ان میں مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی، بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر مولانا غفران ساجد قاسمی، المعہد الولی کے ناظم مفتی محمد نافع عارفی، جامعہ فاطمۃ الزھراء ململ مدھوبنی بہار کے جواں سال اور فعال ناظم مولانا فاتح اقبال ندوی سے ملاقات ہوگی ،وہاں کے ذمہ دار اورمخلص و مشفق اساتذہ مولانا اشرف علی قاسمی ،مفتی شاہد قاسمی ،مفتی اعظم ندوی ،مولانا محبوب ،بھائی مفتی محمد، صاحبان سے بھی ملنے کا شوق ہے.

محبت کی اس بستی میں میرا مادر علمی( دارالعلوم سبیل السلام ) بھی ہے جسے دیکھنے کے شوق نے بے چین کر رکھا ہے اور وہاں ہم سے محبت کرنے والے اساتذہ خاص طور پر محب گرامی اور ہمارے رفیق درس مولانا شمشیر نعمانی سے ملاقات کی خواہش کروٹ لے رہی ہے ،میں اپنےاس مادر علمی (دارالعلوم سبیل السلام) کے ذرے ذرے سے بے حد محبت رکھتا ہوں،جہاں آج بھی ہمارے اساتذہ میں حضرت مولانا مفتی عبدالودود صاحب اس کے زلف برہم کو سنوارنے میں لگے ہیں.

ایک جہاں کے بادشاہ (حضرت مولانا محمد رضوان القاسمی رحمہ اللہ بانی وناظم دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد)جو وہیں آسودہ خواب ہیں ان کے سرہانے جاکر اپنی غلطیوں کی معافی تلافی کرواؤنگا.

کاش آج ہمارے بہت ہی مشفق استاد حضرت مولانا برکت اللہ قاسمی رحمہ اللہ ، حضرت مولانا محمد یسین قاسمی رحمۃاللہ ہوتے تو وہ آج کتنے خوش ہوتے اللہ ہمارے ان اساتذہ کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے آمین اور ہمیں خدا سلامتی کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچائے. آمین

(بصیرت فیچرس)

*ایڈیٹر بصیرت آن لائن

*معتمد رابطہ عامہ دارالعلوم سبیل الفلاح جالے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker