شمع فروزاں

دفاع اسلام علماء کی ایک اہم ذمہ داری (۱)

یہ وہ کلیدی خطبہ ہے جو اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے اٹھائیسویں فقہی سیمینار منعقدہ : ۱۷؍۱۸؍۱۹؍نومبر ۲۰۱۸ء میوات میں دیا گیا، اس خطبہ میں جو بات پیش کی گئی ہے اس کی اہمیت کی وجہ سے اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے، اس کے اصل مخاطب تو علماء ہیں؛ لیکن یہ اپنی اہمیت کے اعتبار سے تمام مسلمانوں کے لئے قابل توجہ ہے(رحمانی)
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

علماء انبیاء کے وارث ہیں ، اس لئے انبیاء سے جتنی ذمہ داریاں متعلق تھیں ، سلسلہ نبوت کے تمام ہونے کے بعد یہ ساری ذمہ داریاں علماء اُمت کے کاندھوں پر آگئی ہیں ، ان ذمہ داریوں میں ایک اہم ذمہ داری مجادلہ حسنہ ہے ، یعنی بہتر طوپرر دلیل وبرہان کے ساتھ اسلام کا دفاع۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ’’ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ‘‘ ( النحل : ۱۲۵) اس آیت میں دیکھئے ، قرآن مجید میں موعظت کے لئے ’’ حسنہ ‘‘ کی صفت استعمال کی گئی ؛ لیکن مجادلہ کے لئے اسم تفضیل کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے فرمایا گیا : ’’ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ‘‘ موعظت میں دل سے خطاب ہوتا ہے اور ناصحانہ اُسلوب کافی ہوجاتا ہے ، اور مجادلہ میں دماغ سے خطاب ہوتا ہے اوردلائل وبراہین کی ضرورت پیش آتی ہے ، موعظت حسنہ ، غافلین کے لئے کافی ہوجاتی ہے، یعنی ان لوگوں کے لئے جو ناواقفیت ، لا علمی اور غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے راہ راست سے منحرف ہوگئے ہوں ، اور’جدال احسن ‘ ان لوگوں کے لئے ہے ، جو انکار و جحود میں مبتلا ہوں ، بعض دفعہ یہ انکار لوگوں کی زبان پر آجاتا ہے ، اور بعض دفعہ ماحول ، روایت اورخاندانی پس منظر وغیرہ کی وجہ سے زبان تو خاموش رہتی ہے ؛ لیکن دل اس کا مریض ہوتا ہے اور اس میں شکوک وشبہات کے کانٹے چبھتے رہتے ہیں ، اگر کبھی ایسے ماحول میں انسان پہنچ جائے ، جس میں کوئی ٹوکنے اورروکنے والی زبان موجود نہ ہو تو دل کا خیال زبان پر آجاتا ہے ، یہ فکری ارتداد کا فتنہ ہے ، جو تیزی سے مسلمانوں کی نئی نسل اور اپنے آپ کو دانشور خیال کرنے والے طبقہ میں در آرہا ہے ۔
اس کا پس منظر یہ ہے کہ یورپ میں طویل عرصہ جو تقریباً تین صدیوں پر محیط تھا ، ایسا گزرا کہ کلیسا نے زندگی کے تمام شعبوں کو اپنے پنجۂ استبداد میں لے لیا تھا ، شاہانِ مملکت بھی پوپ کے سامنے دم بخود رہتے تھے ، پوپ نے تصور دیا تھا کہ وہ زمین پر خدا کا نائب ہے اوراس کا ہر قول و فعل اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ، اسی من گھڑت عقیدہ کے تحت مغفرت نامے فروخت کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ، پوپ مرنے والوں کے لئے نہ صرف مغفرت نامہ لکھ کر دیا کرتا تھا ؛ بلکہ جنت میں ان کی جگہ بھی متعین کرتا تھا اور یہ تعیین پوپ کو پیش کئے جانے والے نذرانوں کے لحاظ سے ہوتی تھی ، آخر اس استحصال کے خلاف جرمنی کے ایک پادری مارٹن لوتھر 1483-1546) Martin Luther )نے علم بغاوت بلند کیا ؛ چوںکہ پورا یورپ پوپ کے ظلم سے عاجز تھا ؛ اس لئے یورپ کے مختلف ملکوں میں اس کے مؤیدین اُٹھ کھڑے ہوئے ، اس تحریک نے یہ نعرہ دیا کہ بندے اور خالق کا تعلق بلا واسطہ ہونا چاہئے ، اس میں پوپ کے واسطہ کی ضرورت نہیں ، پوپ کے مظالم کے جہاں حکومت اور عوام شکار تھے ، وہیں اہل علم بھی اس سے دوچار تھے ، کلیسا کی طرف سے اپنے مخالفین کو نہایت سخت سزائیں دی جاتی تھیں ، اٹلی کے فلسفی اور سائنسداں برونوBruno 1548)-1600)کو زندہ جلا دیا گیا ، مشہور ماہر فلکیات گلیلیو Galileo (1564-1642)کو تین سال قید خانہ میں بند رکھا گیا ، جہاں اس سے توبہ نامہ کا ورد کرایا جاتا رہا ۔
عیسائی علماء کو اپنے غیر سائنسی اور غیر منطقی افکار پر اس درجہ اصرار تھا کہ اس کے خلاف کچھ کہنا یا لکھنا ناقابل برداشت جرم تھا ؛ چوںکہ حضرت عیسیٰ زمین پر پیدا ہوئے اور ان کے عقیدہ کے مطابق زمین پر بطور کفارہ ان کے پھانسی دیئے جانے کا واقعہ پیش آیا ؛ اس لئے وہ کرۂ ارضی کو کائنات کا مرکز مانتے تھے ، جس کے گرد سورج کے بشمول تمام سیارے گردش کرتے ہیں ، جب بعض سائنسدانوں نے اپنی تحقیق پیش کی کہ زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے ، تو عیسائی مذہبی رہنماؤں نے اسے مذہب کے خلاف سمجھا اور جن سائنسدانوں نے اس طرح کی بات کہی ، انھیں سخت سزائیں دی گئیں ، وہ اس بات کو بھی بددینی سمجھتے تھے کہ زمین کو گول قرار دیا جائے اور کہا جائے کہ اس کے دونوں جانب انسان بستے ہیں ، ان کا خیال تھا کہ اگر ایسا ہوتا تو عیسیٰ مسیح دوسری طرف بھی جاتے اور دوبار انسان کے لئے مصائب برداشت کرتے ’’ سینٹ آگسٹائن ‘‘ (Saint Augustine)جیسا مذہبی رہنما بھی اس کا قائل تھا ، کلیسا کا ایک با اختیار عہدیدار ’’ ریگن ‘‘ کہا کرتا تھا کہ نچلی فضا کے بادلوں میں عفریت چھپے رہتے ہیں ، یہی قہر اور بیماریاں لاتے ہیں ؛ چنانچہ عیسائی خانقاہیں اس کا علاج کرتیں ، چیچک اور ہیضہ وغیرہ کو خداکی طرف سے نازل ہونے والا قہر قرار دیا جاتا تھا اور اس کے علاج کو گناہ سمجھا جاتا تھا ؛ کیوںکہ یہ خدا کو مزید ناراض کرنے کے مترادف ہے ؛ اس لئے وہ بیماریوں کے ٹیکہ لگانے کے سخت مخالف تھے ، چیچک کے ٹیکہ کے موجد ’’ ڈاکٹر بوائلسٹن‘‘ کی اتنی مخالفت کی گئی کہ جس شخص نے اسے اپنے گھر میں پناہ دی، اس کے گھر پر جلتا ہوا آگ کا گولہ پھینک دیا گیا ، از منۂ وسطیٰ کے عیسائیوں اور پادریوں کو اس بات پر شدید اصرار تھا کہ شہاب ثاقب کا گرنا قدرتی اور طبعی اسباب کا نتیجہ نہیں ہے ، اس کو خدا بدکردار دنیا کی طرف پھینکتا ہے ، دسمبر۱۴۸۴ء میں ’’ انوسینٹ‘‘ (Pope Innocent V111)نے حکم جاری کیا کہ جادو ہی انگور کے کھیتوں ، باغوں ، چراگاہوں اور فصلوں کی تباہی کا نتیجہ ہے ؛ اس لئے کلیسا کے فرمان پر ہزاروں عورتیں قید کرلی گئیں اور انھیں ایسی تکلیفیں پہنچائی گئیں کہ ان کے متعلقین عرض گذار ہوئے کہ ان کو موت کی سزا دے دی جائے ؛ تاکہ وہ اس اذیت اور تذلیل سے تو چھٹکارا پاجائیں ، اس طرح کے حالات تھے ، جن کی وجہ سے مغرب میں عیسائیت کے خلاف بغاوت کا طوفان اُٹھا اور اس نے کلیسا کے قصر اقتدار کو زمین بوس کرکے رکھ دیا ۔
اگر بات یہیں تک رہتی کہ یہ تحریک کلیسا کے نامعقول عقائد اور جبر و ظلم کے ذریعہ اس کو منوانے کی کوشش کے خلاف ہوتی تو یہ بات خلاف انصاف نہیں ہوتی ؛ لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا ؛ بلکہ یہ تحریک عیسائیت سے آگے بڑھ کر مذہب کے خلاف ہوگئی ؛ حالاںکہ اسلامی تاریخ کے اُس دور میں بھی جب مسلمان علوم و فنون کی امامت کررہے تھے ، اور اُس دور میں بھی جب اپنی تن آسانی کی وجہ سے وہ اس علمی مقام سے محروم ہوگئے تھے ، انھوںنے نہ کبھی سائنسی تحقیق کی مخالفت کی ، نہ سائنسدانوں پر جبر و ظلم کیا اور نہ نامعقول و خود تراشیدہ افکار کو بزور قوت منوانے کی کوشش کی ؛ لیکن جب اس تحریک نے مذہب مخالف رُخ اختیار کیا ، تو اب اس نے ان افکار کو بھی نشانہ بنایا ، جن پر اسلام کے بشمول تمام آسمانی مذاہب کا یقین رہا ہے ، جیسے اسحاق نیوٹن Isac Newton (1642-1727)نے دعویٰ کیا کہ کائنات خود بخود وجود میں آئی ہے اور طبعی قوانین کے تحت چل رہی ہے ، اس دعویٰ نے خدا کے وجود کے یقین کو ذہنوں میں متزلزل کردیا ؛ کیوںکہ خدا کے وجود کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے اور اسی دلیل کو قرآن مجید نے بھی بار بار پیش کیا ہے کہ کسی خالق اور صانع کے بغیر کائنات وجود میں نہیں آسکتی اور وہی خالق وصانع خدا کی ذات ہے ۔
قیامت کا عقیدہ اس اساس پر قائم ہے کہ مادہ بھی فانی ہے ، ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ پوری کائنات فنا ہوجائے گی اور عالم آخرت شروع ہوجائے گا ؛ لیکن فرانس کے ایک سائنسداں (لوائے زر ) “Lavoisier” نے دعویٰ کیا کہ مادہ غیر فانی ہے ، یہ اپنی شکلیں بدلتا رہتا ہے ، مگر فنا نہیں ہوتا ، پھر یہی بات ’’ ٹائٹ ‘‘ 1876 P.G Tait (امریکہ )نے کہی کہ کائنات کی حقیقت صرف مادہ ہے اور انسان مادہ کو نہ فنا کرسکتا ہے اور نہ پیدا کرسکتا ہے ، اسی کو بعد میں جرمنی کے مشہور مفکر ہیگلHegal (1770-1830)( جرمنی ) نے تقویت پہنچائی اورکہا کہ عالم غیب کوئی چیز نہیں ہے ، جو اس کائنات میں موجود ہے ، بس وہی موجود ہے ، نیوٹن نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ کائنات کے وجود میں آنے کے لئے خدا ضروری ہے ، ’’ ڈارون ‘‘ 1809-1882 Darwin نے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا کہ خود انسان کی تخلیق بھی کسی خالق کے بغیر ہوئی ہے ، اس طور پر کہ طبعی قوانین کے تحت دنیا میں حیات نمودار ہوئی ، اس نے یک خلیہ جرثومہ سے ترقی کرتے کرتے انسان کی شکل اختیار کی ، گویا خدا کا وجود اور قیامت کا تصور ان دونوں کو ماننے کی ضرورت نہیں رہی ۔
رہی سہی کسر ’’ فرائڈ ‘‘ نے پوری کردی کہ انسان ایک جنس پرست حیوان ہے ، اور یہی جنسی جذبہ زندگی کا خلاصہ ہے ، یہاں تک کہ بچے کا ماں کے سینے سے دُودھ پینا اور انگوٹھا چوسنا بھی جذبہ جنسی کا مظہر ہے ، جہاں ’’ڈارون ‘‘ اور’’نیوٹن ‘‘ نے خدا کے تصور پر حملہ کیا تھا ، وہیں ’’ فرائڈ ‘‘نے مذہبی اخلاقیات کو تار تار کرکے رکھ دیا ، اورانسان کو منبع شہوت قرار دے دیا ، مذہب کی بنیاد ، وحی اور مابعد الطبعی علم پر ہے ؛ اسی لئے آسمانی اور غیر آسمانی جتنے مذاہب ہیں ، ان کے پاس مذہبی صحائف رہے ہیں ، جو ان کے خیال کے مطابق خدائی ہدایت نامہ ہے ، اسی لئے متکلمین اسلام نے حواس ، اور عقل کے ساتھ ساتھ خبر صادق کو بھی علم کا ایک ذریعہ مانا ہے ، مگر فرانس کے مشہور فلسفی اور سائنسداں ’’ ڈی کارٹ ‘‘Descartes (1597-1650) (فرانس) نے تصور پیش کیا کہ صرف عقل و حواس ہی علم کا ذریعہ ہیں اور کوئی علم کا ذریعہ نہیں ہے ، گویا اس طرح وحی کے انکار کا راستہ فراہم کردیا گیا ۔
خدا کے وجود کی ایک اہم دلیل اس کی رزاقیت ہے ، اٹھارہویں صدی میں مالتھس Malthus (1766-1834) (انگلستان ) پیدا ہوا اوراس نےدعویٰ کیا کہ بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی وجہ سے وسائل رزق ناکافی ہوجائیں گے اوراسی نے تحدید نسل کی تجویز پیش کی ، جس کا جادو آج پوری دنیا میں سرچڑھ کر بول رہا ہے ؛ لیکن مالتھس کی اس پیشین گوئی پر دو سو سال گزرنے کو ہے اور دنیاکی آبادی اس وقت کے مقابلہ میں تقریباً دس گنا بڑھ گئی ہے ؛ لیکن اس کی نوبت نہیں آئی کہ کائنات میں وسائل رزق کا دامن تنگ ہونے کی وجہ سے انسان کے مرنے کی نوبت آجائے ، گویا یہ بالواسطہ اللہ تعالیٰ کی رزاقیت کا انکار ہے۔
ان تصورات کا اثر یہ ہوا کہ بعضوں نے تو سرے سے مذہب ہی کا انکار کردیا گیا ، جیساکہ ’’ کارل مارکس ‘‘Karlmarx
(1818-1883)(جرمنی ) نے مذہب کو افیون قرار دے دیا ؛ لیکن جو چیز سماج میں ہزاروں سال سے رچی بسی ہو ، اس کو بالکل نکال پھینکنا آسان نہیں ہوتا ؛ اس لئے ایک دوسرا گروہ پیدا ہوا ، جس نے مذہب کا کلیۃً انکار کرنے بجائے اس کی عمل داری کو محدود کردیا ؛ چنانچہ فرانس کے ’’ فری میسن لاج ‘‘ Free Mason Lage (1766)نے پہلی بار لادینی طرز حیات کا تصور پیش کیا اور انقلاب فرانس (1789ء) کے بعد فرانس کے لوگوں نے اپنے لئے اسی لادینی جمہوریت کا انتخاب کرلیا ، پھر آہستہ آہستہ یہ پورے مغرب کا سب سے مقبول نظریہ ہوگیا ، اس نظریہ میں مذہب کو فرد کی ذاتی زندگی تک محدود کردیا گیا ، اور زندگی کے تمام شعبوں سے مذہب کو نکال باہر کیا گیا ؛ چنانچہ بعض مغربی ممالک اس شدت کے ساتھ اس کے قائل اور اس پر عمل پیرا ہیں کہ وہاں مذہبی علامتوں کے استعمال کو بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے ، جیسے حجاب اوربرقعہ وغیرہ ۔ (جاری)
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker