مضامین ومقالات

سیاست کے گلیاریوں میں اخلاق کا فقدان

اسجد عقابی
2019 کے پارلیمانی انتخاب کیلئے بساط بچھائی جاچکی ہے، اگرچہ باضابطہ ابھی تاريخ کا اعلان ہونا باقی ہے لیکن تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے مہرے کو استعمال کرنے کے طریقے پر غور و خوض کررہی ہے. ہر کوئی اپنے حریف کو چاروں شانے چت کرنے کیلئے کوشاں ہیں. گٹھ جوڑ کا ماحول بنا ہوا ہے. کل تک جو مخالف تھے آج سیاسی مفاد کی خاطر رفیق ہیں اور جو رفیق تھے وہ رقیب بن گئے ہیں. ان کاموں کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کیا جارہا ہے جو ان کی پہونچ میں ہے، اس بات سے قطع نظر کے اخلاقی اقدار ان امور کی انجام دہی اور انہیں بروئے کار لانے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں. بلکہ اخلاقی اقدار تو موجودہ سیاست میں نسیا منسیا اور قصہ پارینہ بن چکے ہیں جن کی اب سیاسی گلیاروں میں کہیں کوئی گنجائش باقی نہیں ہے. سیاسی ریلیوں کا واحد مقصد فریق مخالف کی کردار کشی اور عوامی جذبات کا استحصال ہوگیا ہے. اپنے کئے ہوئے کاموں کو اس طرح شمار کرایا جاتا ہے گویا کہ وہ جنتا اور عوام پر احسان ہے، اور یہ جنتا ان کے احسانوں تَلے دب کر ان کے ہر رطب و یابس کو قبول کرنے پر مجبور ہو. حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومتوں کی تشکیل کا اصل مقصد عوام کو سکون و اطمینان فراہم کرنا ہے، ان کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا ہے. انہیں ایسا ماحول میسر کرنا ہے جس میں وہ بے خوف اپنی زندگی گزار سکے، انہیں کسی قسم کا کوئی ڈر دامن گیر نہ ہو. لیکن اگر بنظر غائر ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ، اب ایسا نہیں ہے. بلکہ معاملہ برعکس ہوچکا ہے. اب حکومتوں کی تبدیلی زندگی کے تمام شعبہ حیات پر اثر انداز ہوتی ہے. کاروبار زندگی جو انسانی بقا اور دیش کی ترقی کیلئے سب سے اہم اور جزء لاینفک ہے، یہ بھی تبدیلی حکومت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے ہیں. عوامی طرز عمل پر بھی کلی طور پر تفاوت ابھر کر سامنے آتا ہے. حکومت کے حامی افراد دیگر عوام کو کمتر اور ذلیل کرنے کے در پر آمادہ نظر آتے ہیں. بارہا یہ باتیں منظر عام پر آچکی ہے کہ فلاں کی حکومت ہے یعنی (ہماری حکومت) ہے، ہم جو چاہیں کریں ہمیں کسی کا کوئی خوف نہیں ہے. حالانکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جمہوریت میں کسی فرد واحد یا کسی مخصوص پارٹی کی حکومت کو قرار نہیں ہوتا ہے، اور نہ وہ اپنے دم پر اس عظیم عہدہ کے مستحق قرار دیئے جاتے ہیں، بلکہ عوام کا اعتماد اور عوام کی حمایت انہیں یہ طاقت فراہم کرتی ہے. حکومت منتخب ہوجانے کے بعد عوام سب یکساں ہوا کرتی ہے کوئی حامی یا مخالف نہیں ہوتا ہے. حکومت کی پالیسیوں میں سب برابر کے شریک ہوتے ہیں. ہر ہر فرد کے جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری منتخب حکومت کے سر ہوتی ہے. لیکن اب یہ معاملہ نہیں ہے. حکومت کے حامی افراد (جب سیاں بھئیل کوتوال تو ڈر کا ہے کا) کا بھر پور نظارہ پیش کرتے نظر آتے ہیں. وہ بلا خوف و خطر قانون کی ضابطہ شکنی کے در پر آمادہ ہوجاتے ہیں لیکن جب چند دنوں یا چند سالوں کے بعد حکومت بدلتی ہے اور ان کے کالے کرتوتوں کی باز پرس ہوتی ہے، اور ان کے سیاہ کارنامے عدالت تک پہونچتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ، اسے حکومت مخالف ہونے کی بنا پر ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے. کسی پارٹی کا حامی ہونا غلط نہیں ہے، لیکن اس پارٹی کے اثر و رسوخ کا غلط استعمال جمہوری اقدار کے خلاف ہے.
گزشتہ دنوں مغربی بنگال میں جو کچھ ہوا، اور جس طرح سے پورے منظر کو عوامی سطح پر پیش کیا گیا، اسے کسی طرح بھی قابل قدر نگاہوں سے نہیں دیکھا جاسکتا ہے. سی بی آئی ہندوستان کا ایک اہم ادارہ ہے، اس کے اپنے اصول و ضوابط ہیں. اس کا نظام اس قدر مستحکم ہے کہ مرکزی حکومت بھی اس کے معاملات میں دخل اندازی کا حق نہیں رکھتی ہے. لیکن سال گزشتہ جس طرح سی بی آئی کے دو اعلی عہدیداران کے خلاف باتیں سامنے آئی، اور جس طرح الزام تراشیاں کی گئی اور راتوں رات سی بی آئی نے اپنے ہی دفتر پر چھاپہ مارا ہے، اس سے اس معزز ادارہ کا وقار داؤ پر لگ گیا. معاملہ اسی پر اگر ختم ہوجاتا تو کچھ لیپا پوتی کی گنجائش بھی باقی رہتی، لیکن سال رواں جب سپریم کورٹ نے ایک بڑے عہدیدار کو دوبارہ بحال کیا اور اسے آفس سنبھالنے کی اجازت دی گئی تو اسی دن تین رکنی کمیٹی بشمول وزیر اعظم صاحب کے، اس اعلی عہدیدار کی بات سنیں بغیر انہیں باہر کا راستہ دکھا دیا. عوامی سطح پر سی بی آئی کی جو جگ ہنسائی ہوئی تھی ابھی اس کے اثرات مندمل بھی نہیں ہو پائے تھے کہ پھر سی بی آئی سوالات کے گھیرے میں آگئی. آخر ان اداروں کی کون سی پریشانی ہے جو وہ اس قدر مجبور ہوجاتے ہیں یا پھر مجبور کر دئیے جاتے ہیں. ایسا پہلی بار ہوا ہے جب گرفتار کرنے کیلئے پہونچی سی بی آئی خود گرفتار کرلی گئی تھی. سی بی آئی کے ایک سابق بڑے افسر کا بیان ہے کہ لالو یادو جی کے خلاف آئی آر سی ٹی سی معاملہ میں کوئی ثبوت نہیں تھا، پھر بھی انہیں پریشان کرنے کیلئے ان کے خلاف کیس بنایا گیا تھا. علاوہ ازیں کئی ایسے بڑے سیاسی لیڈران ہیں جو اس قسم کا بیان دے چکے ہیں کہ ہمیں ڈرانے اور دھمکانے کیلئے ہمارے خلاف ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا جارہا ہے. آر بی آئی کی حالت بھی کچھ الگ نہیں ہے، حکومت کے قریبی سمجھے جانے والے ارجت پٹیل وقت سے پہلے اچانک استعفی دے کر چلے جاتے ہیں، جب کہ وہ کوئی بڑی وجہ بتانے سے قاصر ہوتے ہیں.
یہ ایک طویل فہرست ہے، جس کا شمار ممکنات میں سے نہیں ہے. مگر اب یہ شکوک یقین میں تبدیل ہوچکے ہیں کہ جمہوریت کے خود مختار ادارے بھی اب سیاسی دنگل کی آماجگاہ بن چکے ہیں.
ایک خفیہ ایجنسی کے چیف نے یہ انتباہ دیا ہے کہ، اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہندوستان میں 2019 کے الیکشن سے قبل فرقہ وارانہ تشدد کو فروغ دیا جائے. اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان اقلیت خصوصا مسلمانوں کو ہوگا. کیا اقتدار کی لالچ اس قدر گہری ہوگئی ہے کہ انسانی لاشوں پر ، اپنے ہی ملک واسیوں کے خون سے حکومت کی عمارت تعمیر کی جائے. انسانیت اور بھائی چارے کا تقاضا تو یہ ہے کہ ملک میں بسنے والے ہر مذہب ہر قوم کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے. لیکن افسوس اب موجودہ سیاست عوامی فلاح و بہبود کے بجائے فریق مخالف کی کمر توڑنے، پریشان کرنے اور نیچا دکھانے کا سبق دیتی ہے. اب وہ باتیں قصہ پارینہ بن چکی ہے جب اپوزیشن اور دیگر اقلیات کا احترام کیا جاتا تھا. ان کی باتوں کو بغور سنا جاتا تھا اور انہیں بھی حکومت کا حصہ تصور کیا جاتا تھا. جمہوریت کی بقاء کیلئے اپوزیشن کا وجود ضروری ہے ورنہ جمہوریت کو آمریت سے بدلنے میں وقت نہیں لگے گا. آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست میں فریق مخالف کے احترام کو برقرار رکھا جائے اور اخلاقی اقدار کی پاسبانی کی جائے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker