مضامین ومقالات

مسلمانوں کی زبوں حالی کی وجہ اور عظمت رفتہ کا حصول

 

مفتی وصی احمد قاسمی
چھوراہی.مدہوبنی.بہار

آج سے تقریبا چودہ سوسال قبل جب دنیا کفروشرک ؛جہالت وسفاہت اور سفاکیت وعنادیت کی گھٹاٹوپ تاریکیوں میں گھڑی والجھی ہوئی تھی احد پہاڑ ؛طور کی چٹان ؛اور جبل ابوقبیس کی چوٹیوں پرسکوت وخاموشی غالب وطاری تھی ؛طائف کے مرغزار پژمردہ ؛مرجھائے ہوئے تھے خلوص ومحبت کے چشمے درشت وخشک ہوچکے تھے مکارم اخلاق کا لہلہاتاچمن نذرزوال وخزاں ہوچکاتھا ؛حق پرستی کے پودوں سے قوت شامہ زائل وختم ہوچکی تھی ؛خداترسی کی بزم ویران وکھنڈر اور احسان ومروت کے میخانے خراب وخستہ ہوچکے تھے خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسانوں سے انسانیت بہت دور جاکر واس ووسیرا اختیار کرلیاتھاکہ یکایک بطحاکی سنگ لاخ پہاڑیوں سے رشدوہدایت کا ماہتاب اپنی ضیاپاشیوں کے ساتھ ظاہر ونمودار ہوا اور مشرق ومغرب شمال وجنوب غرض دنیاکے ہرکونے کو آنا فانا اپنے نور سے منورومجلی کردیا اور صرف 23 برس کی قلیل مدت میں بنی نوع انسان کو اس معراج ترقی وبلندی پہ پھنچادیا کہ تاریخ عالم اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجزوقاصر ہے اور وہ مشعل نور وہدایت ؛فلاح وبہبود مسلمانوں کے ہاتھوں میں دی جس کی روشنی میں ہمیشہ شاہراہ ترقی پہ گام فرسا وگامزن رہے اور صدیوں اس شان وشوکت سے دنیا پہ حکمرانی وبادشاہی کی کہ ہرمخالف طاقت وقوت کو ٹکرا کر پاش پاش وتارتار ہوناپڑا کہاجاتاہے کہ لگ بھگ مسلمان ایک ہزار سال تک دنیا کی ایک بڑی طاقت وقوت رہے ہیں علم وحکمت ؛فہم وفراست ؛تدبیر وسیاست اور دولت وحشمت میں کوئی قوم ان کاموازنہ ومقابلہ نہیں کرسکتی تھی اور یہ ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے کہ جن کو تاریخ بھی مستردوفراموش نہیں کرسکتی لیکن چندعرصے سے مسلمان انفرادی واجتماعی اعتبارسے ذلت ورسوائی ؛مفلسی وتنگدستی ؛خواری وناداری اور انحطاط وزبوں حالی کے شکار ہیں کیا ہم نے کبھی سوچاکہ وہی قرآن مقدس ؛احادیث مبارکہ کے ذخائر صحابہ کرام کے اقوال وحالات سلف صالحین وارثین انبیاء واولیااللہ کے نمایاں کارنامے اور روحانی تقوی وطہارت سے لبریزمعلومات وواقعات ہمارے سامنے ہیں اتناہی نہیں بلکہ آج بھی مسلمانوں کو دیگر ادیان ومذاہب پربرتری وفوقیت حاصل ہے اللہ عزوجل کی تمام نعمتیں مسلمانوں کے پاس ہیں اس ترقی یافتہ دور کے اہم اقتصای آلات وہتھیاڑ یعنی تیل وسوناچاندی سے بھی مسلمان ممالک مالا مال ہیں علمی وذہنی صلاحیتوں میں بھی کسی سے کم نہیں ہیں بلکہ جدید سائنسی علوم وایجادات میں اغیار بھی ان کی مہارت کے قائل ومعترف ہیں مدارس ومساجد کی خوب کثرت وبہتات ہے واعظوں ؛خطیبوں اور شاعروں کی بھی کمی نہیں دینی رسائل اور اسلامی کتب کی فراوانی ہے اسلام کے نام پہ بین الملکی وبین الاقوامی اجتماعات وکانفرنسوں کا اہتمام وانصرام بھی جوش وخروش سے ہوتاہے. ان تمام امور کے ہوتے ہوئے بھی آج کا مسلمان ہردواعتبار میں دینی ودنیوی لحاظ سے ترقی کرنے کے باوجود اس کا گراف وترسیم نیچے کی طرف گررہاہے دینی لحاظ سے جو مقام ومرتبہ گزشتہ ادوار کے مسلمانوں کو باوجود کم علمی ووسائلی کے حاصل تھا وہ بھی اور دنیاوی لحاظ سے جو رعب ودبدبہ تھا وہ بھی مفقود وندارد ہے
اس انحطاط وزبوں حالی کے کئ اسباب ووجوہات ہوسکتے ہیں مگر سب سے اہم اور بڑی وجہ جسکی طرف ہم ذہنوں کو متوجہ ومبذول کراناچاہتے ہیں وہ ہمارے معاشرے وماحول کا غیر شرعی ہوناہے مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا ماحول ومعاشرہ ایک مثالی وقابل تقلید ہوناچاہئے تھا زبان سےہم سارا دن اسلامی احکامات کے ثمرات وبرکات کا تذکرہی نہیں کرتے بلکہ ذرائع ابلاغ کا بھی خوب استعمال کرتے ہیں مگر قرب وجوار گردوپیش تو اسلامی ہونا تو دور کی بات ہے مگر ہم اپنے چندفٹ کے اوپربھی اسلام کو جاری ونافذ نہیں کرسکتے اگر کوئی پوچھے کہ آپ کی شکل وشباہت ؛لباس وپوشاک اور اطوار وعادات غیرمسلموں کے مانند ومشابہ ہے تو غلطی تسلیم کرنے کے بجائے نہایت بے باکی وبے نیازی سے جواب دیدتے ہیں کہ ظاہری شکل وصورت حقیقی مسلمان سا ہونے کی کیا ضرورت ہے مسلمانی تو ہمارے دل ودماغ میں ہے، یہی حال اپنے قریب سے قریب ترین عزیزوں مثلا اہل وعیال کے بارے میں ہے کہ اہل وعیال کے سربراہوں وسرپرستوں کو غیر شرعی رسم ورواج و اعمال وافعال کے مسائل تو اکثروبیشتر معلوم ہوتے ہیں مگر اپنے گھروں میں رائج کرنے اور غلط رسم ورواج کو ختم کرنے کا دھیان وخیال نہیں ہوتا. گھر سے باہر خاندان ومعاشرہ، ماحول وسماج کا جائزہ لیجئے تو معلوم ہوگا کہ ساری برائیاں اور خرابیاں ہمارے خاندان وسماج میں موجود ہیں لیکن ان کے ممبروں کو ان کو دور کرنے کا تصور وخیال بھی نہیں ہوتا اور حدیث کے مطابق اپنے ضعیف الایمانی کا ثبوت دیکر ان سے دل میں کدورت ونفرت بھی پیدا نہیں ہوتی. حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ جوشخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اس کو چاہئے کہ اپنے ہاتھ روک دے اگرہاتھ سے روکنے کی طاقت نہیں ہے تو زبان سے اسے روک دے اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے اسے برا جانے یعنی اس برائی کا دل میں غم ہو اور یہ ایمان کا سب سے کمترین درجہ ہے. اسلام کے بہترین اوصاف مثلا امانت داری ؛دیانت داری سچائی ہمدردی اور باہمی تعاون وتکافل جیسے اصول غیر مسلموں نےاپناکر دنیاتو اپنی سنوار لی اور ہم نے وہ اوصاف اسلامی ترک کرکے اپنے گھر ؛خاندان سماج اور معاشرہ میں غیروں کی نقل وحرکت شروع کرکے دنیا بھی بربادکی اور آخرت بھی. اگر ہم مسلمانوں کی عظمت رفتہ کے حصول کے خواہاں ہیں تو یہ مقصد نہ تو صرف تقریروں ؛تحریروں ؛جلسوں ؛مشاعروں ؛مطالبوں اور احتجاجوں سے حاصل ہوگا اور نہ صرف دعاؤں سے بلکہ اپنے اور قرب وجوار کو صحیح انداز میں اسلام کے قالب میں ڈھالنے سے حاصل ہوگا یہ جذبہ وشوق قرآنی آیت اے ایمان والواللہ تعالی سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ کی روشنی میں اسی وقت بیدار ہوگا جب دل میں خشیت الہی ہوگی اور عقیدت ومحبت کے ساتھ علماء وصالحین کی صحبت ومجالست اختیار کریں گے
صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker