مضامین ومقالات

مولاناسالم قاسمی کی حیات پرپیش کیے گئےمضامین کامجموعہ کتابی شکل میں شائع

دیوبند:12/فرور ی(بی این ایس)ایشیاء کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم وقف دیوبند میں فکر دیوبند کے ترجمان، علوم نانوتوی کے شارح حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کے جانشین خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحبؒ کی عالمگیرآفاقی شخصیت اور ان کی ناقابل فراموش خدمات کو خراج عقید ت پیش کرنے کی غرض سے منعقدہ عظیم الشان دو روزہ سہ لسانی بین الاقوامی سیمینار میں ملک کے نامور محققین و باحثین کے پیش شدہ وقیع تحقیقی مقالات کو حجۃ الاسلام اکیڈمی شعبہ بحث و تحقیق دارالعلوم وقف دیوبند نے کتابی شکل میں شائع کردیا ہے، جس کا گذشتہ کل لائبریری حجۃ الاسلام اکیڈمی میں اجراء عمل میں آیا۔

واضح رہے کہ سیمینار میں پیش شدہ تینوں زبانوں کے مقالات کو زبان کے اعتبار سے علیحدہ مستقل کتاب کی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ اس موقع پر دارالعلوم وقف دیوبندکے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے خوشی ومسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ انتہائی قلیل وقت میں مجموعہ مقالات کی یہ معیاری ترتیب واشاعت یقیناًبارگاہ ایزدی میں لائق تشکر وامتنان ہے ، جس کی حسن اشاعت بہ توفیق ایزدی اور ڈائریکٹروکارکنان حجۃ الاسلام اکیڈ می کی جہد عمل اور سعی پیہم کی عکاس ہے ، انہوں نے کہا خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب علیہ الرحمہ کی شخصیت موجودہ اس قحط الرجال کے دور میں اسلاف کے حسنات وکمالات کی عکس جمیل اور ان کے علوم معارف کی مظہر اتم تھی ۔ انہوں نے سلف کے منہاج علم وفکر کو خلف تک بڑی دیانتداری کے ساتھ منتقل کیا ہے ، اب اخلاف کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے علوم ومعارف اور ان کے افکار ونظریات کا مطالعہ کریں اور اسلاف کے ان علوم وافکار کی روشنی میں منہاج سلف پر اسلام کی خدمت اور اشاعت اسلام کا فریضہ انجام دیں ،وحدت دین کے پیغام کے ذریعہ امت میں اتحاد کے پیغامبر بنیں ، حضرت خطیب الاسلام ؒ کی حیات کے مختلف گوشوں سے یہی چیز مترشح ہوتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حضرت علیہ الرحمہ کا ایک خاص وصف اصابت رائے تھا، ہر موقع سے انھوں نے دیوبند کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیا ہے، دارالعلوم اور علمائے دیوبند کے مقام وقار کو انہوں نے استحکام بخشا ہے، وہ صبر و استقامت ، شکر و شکیبائی کا پیکر جمیل تھی، زہد و قناعت ان کا خاص وصف تھا، وہ ہمیشہ اپنے ایک موقف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے، اور بحیثیت وارث علوم نانوتوی، شارح فکر دیوبند اوربہ طور جانشین حکیم الاسلامؒ اپنے وجود کا احساس دلاتے رہے، کوئی موقع ہو یا کوئی بزم ہر جگہ قیادت وسیادت سے امت کی رہنمائی فرماتے رہے،نیز ان کے ذریعہ تراث سلف کے احیاء کے لئے کئے گئے ناگزیر اقدامات آپ کی روشن روایات کا حصہ ہیں۔
دارالعلوم وقف دیوبند کے صدرالمدرسین وناظم تعلیمات مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے تینوں زبانوں میں مجموعہ مقالات کی حسن ترتیب واشاعت کو سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی اور کہا کہ سیمینار میں حضرت علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات کے تقریباً تمام گوشوں کے احاطے کے لئے وقیع اور جامع مقالات پیش کئے گئے تھے۔ جس سے حضرت کی شخصی آفاقیت اور ان کا امتیازو تفوق نمایاں ہوتا ہے انھوں نے ستر سال تک امت کی قیادت و سیادت اور دعوت و تبلیغ کا جس انداز میں فریضہ انجام دیا ہے، وہ ایک مثالی نمونہ ہے، قیام دارالعلوم وقف دیوبند کے وقت انھوں نے جس صبرو تحمل اور جہد مسلسل کا ثبوت پیش کیا اور جس اخلاص و للّٰہیت کا مظہر بنے آج اسی کا نتیجہ دارالعلوم وقف دیوبندکا قیام ، استحکام اورمقبولیت عامہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حضرت علیہ الرحمہ کی فکر و نظر میں حضرت نانوتویؒ کے اعتدال پسندانہ نظریات کا عکس، حضرت فخرالاسلامؒ وحضرت حکیم الاسلامؒ کی آفاقی فکر کا پر تو نمایاں طور پر نظر آتا ہے ۔موجودہ دور میں وہ اتحاد بین المسلمین اور اعتصام باللہ کے عظیم داعی تھے۔ ان کی حیات کے مختلف گوشوں سے ہمیں کیا درس ملتا ہے اور مشکل حالات میں بھی کس اندازمیں ہمیں اس پر غور کرکے ہمیں میدانِ عمل میں آنا ہوگا، کس معتدل انداز میں انہوں نے تبلیغ دین کا فریضہ انجام دیا ہے، مقالات کے یہ مجموعے ہماری اسی جانب رہنمائی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دارالعلوم وقف دیوبند کے شعبہ بحث و تحقیق حجۃ الاسلام اکیڈمی کے ذریعہ تراث سلف کے احیاء کے لئے کی جارہی مختلف کوششیں اور متعدد اقدامات قابل مبارکباد ہیں۔ امید ہے کہ تراث سلف صالحین اور تذکار اکابر کا یہ تسلسل آئندہ بھی جاری رہے گا۔ حجۃالاسلام اکیڈمی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد شکیب قاسمی نے تینوں مطبوعات کا تعارف کراتے ہوئے ہوئے کہا کہ حضرت خطیب الاسلام ؒ حیات وخدمات کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی سیمینار میں تینوں زبانوں میں تقریبا ۱۰۳ وقیع علمی وتحقیقی مقالات پیش ہوئے ، جن میں ۶۶ مقالات اردو زبان میں ۲۴؍مقالات عربی زبان جب کہ ۱۳؍مقالات انگریزی میں تھے، جنہیں تین مستقل کتاب کی شکل میں شائع کیا گیا ہے جو کہ بحمداللہ مطبوعہ شکل میںآج آپ کے سامنے ہے، جب کہ تاثراتی مضامین ان کے علاوہ ہیں جنہیں ماہنامہ ندائے دارالعلوم وقف دیوبند کی خصوصی اشاعت خطیب الاسلام نمبر میں سیمینار کے موقع پر شائع کیا جا چکا ہے۔ ان کتابوں میں سیمینار کے موقع پر پیش شدہ تحقیقی مقالات شامل اشاعت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اکابرین کے علوم معاف کی موجودہ مروجہ زبان و بیان میں تشریح، توضیح و تسہیل کا فریضہ انجام دے کر عالم اسلام کو اکابرین دیوبند کے علوم و معارف اور ان کی عظیم وناقابل فراموش خدمات سے متعارف کرایا جائے، نئی نسل کیلئے ضروری ہیکہ اسلام کی ترویج و اشاعت کے باب میں ان کی کوششوں ، کاوشوں اور اس کے لئے اختیار کئے گئے طرق ہائے کار کو سمجھ کر موجودہ دور میں اشاعت اسلام کے لئے میدان عمل میں آئیں، بحمداللہ! دارالعلوم وقف دیوبند میں حجۃ الاسلام اکیڈمی اس باب میں مسلسل سرگرم عمل ہے۔ اس موقع پر ادارے کے مختلف اساتذہ موجود رہے ۔

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker