آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

اگر آپ دین کے داعی اور خادم ہیں؟

آج کا پیغام - 12 فروری ،6 جمادی الثانی

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

امت مسلمہ ہندیہ اس وقت عجیب کشمکش سے دو چار دو راہے پر کھڑی ہے، ہم جیسے کم علم اور کم فہم لوگ تو مضطرب و پریشان ہیں ہی، لیکن ہم لوگوں سے زیادہ بیچارے سیدھے سادھے عوام جو بالکل سادہ لوح ہیں اور جو علماء کرام اور اہل علم و دانش کو اپنا مقتدی اور مرجع تسلیم کرتے ہیں وہ سارے کے سارے عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں، وہ کنفیوز ہیں کہ کن کو حق اور سچ مانیں اور کس کو غلط، ہم کس کی رہبری کو تسلیم کریں، ہم کن کی قیادت میں چلیں ،ہم کن کے اشارے پر آمنا و صدقنا کہیں اور کس ادارے اور جماعت و تحریک کو اپنا مرکز سمجھیں، کس دار العلوم اور دار الافتاء سے مشکل مسلئہ اور صورت حال میں گائڈ لائن لیں۔
غرض پوری امت مسلمہ ہندیہ اس وقت عجیب بے چینی اور بے کلی کے عالم میں ہے ۔ وہ خواص امت (چند موقر فرشتہ اور ولی صفت انسان کو چھوڑ کر) اور رہبران قوم جس کو اللہ تعالی نے عقل و خرد ، فہم و بصیرت اور علم و فراست اور صلاحیت و لیاقت کی بے پناہ نعمت اور دولت سے نوازا ہے ان سے امت کو یہ امید تھی کہ وہ ایسی مشکل اور نازک گھڑی میں ترجیحات کو طے کریں گے، اور اس کی روشنی میں امت کی رہنمائی کریں گے، ان کی تشنگی کو دور کریں گے اور امت مسلمہ ہندیہ کے موجودہ مرض کی تشخیص کرکے وہی ڈوز اور دوا دیں گے جس ڈوز اور دوا کی ان کو ابھی سخت ضرورت ہے ۔ لیکن افسوس کہ امت کا مرض کچھ اور ہے بیماری کی تشخیص کچھ اور ہے لیکن دوائ کچھ اور چلائی جا رہی ہے ۔
ہندوستان کی باطل طاقتیں اور فاشسٹ تنظیمیں (یعنی ہمارے دشمن) خوش ہیں کہ بیچارے مسلمان کتنے نادان اور بیوقوف ہیں کہ وہ فریق مخالف کے لئے تیاری کے بجائے خود آپس میں ایک دوسرے سے الجھے ہوئے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں،ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مست ہیں اور آپس ہی میں منتشر و دست و گریباں ہیں ہمارے لئے یہ کہیں رکاوٹ نہیں بن رہے ہیں اور آرام سے ہمیں دو ہزار انیس میں پوری تیاری کا موقع دے رہیں ہیں ۔
اس نازک وقت میں مجھ سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ امت کے کس طبقہ کی اصلاح اور علاج وقت کی اولین ضرورت ہے تو چھوٹا منھ بڑی بات ہوگی لیکن کہنا پڑے گا کہ اس وقت خواص امت کی خود اصلاح کی زیادہ ضرورت ہے وہ خود دوا کے زیادہ محتاج ہیں کیونکہ ڈاکٹر اور طبیب جب خود بیمار ہوں گے تو وہ بھلا مریض کی کیا دوا و معالجہ کریں گے وہ تو اس بیمار امت کو بدحواسی اور الجھن میں ایکسپائری دوائیاں کھلانے لگیں گے بلکہ کھلا رہے ہیں ۔ مرض کچھ ہے اور علاج کچھ کر رہے ہیں ۔
امت مسلمہ ہندیہ میں دعوت و تبلیغ کو لے کر جو موجودہ اختلاف و انتشار کا ماحول گرم ہے اور ہر شخص جو اپنے ہی کو صحیح اور حق پر سمجھ رہا ان کی خدمت میں چند باتیں عرض ہیں اس وضاحت کیساتھ کہ ان معروضات کا اول مخاطب خود یہ خاکسار ہے ۔
آپ سب کو یہ معلوم ہے کہ اختلافات کی بنیاد ہمیشہ یاد تو غلط فہمی یا اپنی ذات کے سلسلہ میں تنگ نظری پر ہوتی ہے اسی لئے اختلافات کو ختم کرنے کا طریقہ ایک داعی دین اور خادم اسلام کے نزدیک ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کے سلسلے میں فراخدلی کی اور دوسروں کی غلطیوں اور لغزشوں سے چشم پوشی کرنے کی امتیازی صفت پیدا ہو،بہت پرانا قول ہے اپنے بھائی کے لئے ستر عذر تلاش کرو اگر کوئی عذر نہ ملے تو کہو کہ ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو جو مجھے معلوم نہیں ہے۔ داعی دین اور خادم قوم و ملت کے عظیم مقصد اور ہدف پر نظر ڈالتے ہوئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے چشم پوشی کی صفت پیدا کرے۔جو ایک قافلے کے مسافروں سے سرزد ہوتی رہتی ہے ۔ اللہ تعالٰی اپنے نبی ص کو مخاطب کرکے فرماتا ہے : و دع اذاھم و توکل علی اللہ و کفی باللہ وکیلا ۔ اور کوئی پروا نہیں کرو ان کی اذیت رسائی کی اور بھروسہ کرو اللہ پر اور اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کرے۔
کوئی عقلمند آدمی کسی بڑی اور نفع بخش چیز کو اس لئے ختم نہیں کر دیتا ہے کہ اس میں کچھ خرابی آگئی ہے بلکہ سب سے پہلے وہ ان خرابیوں کی اصلاح کی کوشش کرتا ہے تاکہ بڑی چیز بیکار نہ ہوجائے ،اسی طرح بہترین اور نیک عناصر اس معاشرہ میں بہت کم ہوا کرتے ہیں اس لئے اگر ان سے غلطیاں ہوجائیں تو ایک بڑے نفع کی امید میں انہیں درگزر کر دینا چاہیے قرآن مجید میں ہے :فاعف عنہم و استغفر لھم و شاورھم فی الامر ۔ ان کے قصور معاف کردو ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو ۔ دعوتی اور دینی مزاج کی خصوصیت یہ ہے کہ اتحاد و اتفاق کو پسند اور افتراق و مخالفت ناپسند کرتی ہے ۔محبت پریم اخوت اور بھائ چارہ کے بیج بوتی ہے اور بغض نفرت حسد تعصب اور تنگ نظری کی بیخ کنی کرتی ہے ،قلیل کو قربان کرتی ہے تاکہ کثیر حاصل ہوسکے ۔یاد رکھئیے جو ان چیزوں کو سمجھ کر انہیں عملی جامہ پہنائے گا ،صحیح معنوں میں وہی صراط مستقیم کا پیرو ہے۔
خدا تعالی ان حقائق کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی ہمت ہم سب کو بخشے اور ہماری ذات سے قوم و ملت کو کبھی کوئی ضرر اور نقصان نہ پہنچے آمین.

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker