شمع فروزاں

دفاع اسلام علماء کی ایک اہم ذمہ داری (۲) ٍ

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

ٍ جب مغربی استعماریت مشرق کی طرف بڑھی ، مسلم حکومتیں کمزور پڑ گئیں اور مغرب نے ان کو روند ڈالا تو لادینیت کا جو زہر وہ اپنے ساتھ لائے تھے ، انھوںنے یہاں بھی اس کے انجکشن لگانے شروع کئے اور یہ حقیقت ہے کہ مغرب کے نظریۂ لادینیت اور پھر مشرق کے بڑے خطے پر کمیونزم کے اقتدار نے مسلمانوں کے ایک طبقہ کو اس سے بہت زیادہ متاثر کیا ، شاید یہ کہنا بے جا نہ ہو کہ عالم عرب میں مصر اور عالم عجم میں برصغیر اس فکر کی تبلیغ کا مرکز بن گیا ، دیگر اہل مذاہب نے تو فوراً ہی انکار مذہب کی اس تحریک کے سامنے ہتھیار ڈال دیا ؛ کیوںکہ مذہب کے نام پر چند عباداتی رسوم کے سوا کوئی اور چیز ان کے یہاں موجود نہیں تھی ، یا تھی تو وہ انسانی آمیزشوں میں اپنے وجود کو گُم کرچکی تھی ، اور اس میں ایسی نامعقول باتیں شامل ہوگئی تھیں ، جن میں حقائق کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں تھی ؛ اس لئے انھوںنے فوراً ہی ہتھیار ڈال دیا اورصرف فرد کی نجی زندگی میں مذہب پر عمل کرنے کی گنجائش باقی رہ جائے ، اسی کو اپنے لئے کافی سمجھا ؛ چنانچہ آج مسلمانوں اور کسی قدر یہودیوں کے سوا کم و بیش تمام قوموں کی یہی صورتحال ہے ، خود ہمارے ملک میں راسخ العقیدہ برادرانِ وطن یہ تو کہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا کو ختم کردیا جائے ؛ لیکن کسی کو یہ کہنے کی جرأت نہیں ہے کہ ’’ منوسمرتی ‘‘ پر مبنی حقیقی ہندو قانون کو لایا جائے ؛ اس لئے کہ اس کو وہ بھی ناقابل عمل اورفرسودہ سمجھتے ہیں ۔
اب چوںکہ لادینیت کے فلسفہ کے مقابلہ میں صرف اسلام ہے ؛ اس لئے ان کی طرف سے سارے حملے اسلام پر کئے جاتے ہیں ، اسلام چوںکہ خالق کائنات کا بھیجا ہوا دین ہے ؛ اس لئے وہ کائنات کی فطرت ، عقل اورانسانی ضرورت و مصلحت سے صد فیصد ہم آہنگ ہے ؛ اس لئے عمومی طورپر مسلمانوں پر یہ جادو نہیں چل پاتا ہے ، آج بھی اُمت ِمسلمہ کی غالب ترین اکثریت اسلام پر بھرپور یقین رکھتی ہے ، اور ایمان کی جڑیں ان کے دل و دماغ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں ؛ اس لئے جیسے مغرب و مشرق کی دوسری قوموں نے اس فلسفہ کو قبول کرلیا ، مسلمانوں کو فتح کرنے میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ؛ اس لئے مغرب نے مسلمانوں میں سے دو طبقوں کو اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کی اور اعتراف کرنا چاہئے کہ انھیں اس میں ایک حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ، ایک : مغرب نواز فرمانرواؤں کو مسلم ملکوں پر مسلط کرنا ، جنھیں عوامی انتخاب کے ذریعہ نہیں ؛ بلکہ فوجی انقلاب کے ذریعہ تخت اقتدار پر پہنچایا جائے ، اور ان سے جبر و تشدد کے ذریعہ مغربی نظام حیات کو نافذ کرایا جائے ، اسلام کے قانون تعزیرات ، قانون مالیات ، سیاسی نظام اور تعلیمی نظام کو تو ختم کر ہی دیا جائے ، ساتھ ساتھ عائلی زندگی کا تعلق چوںکہ فرد کی نجی زندگی سے ہوتا ہے ؛ اس لئے اس میں بھی احتیاط کے ساتھ اور تدریجی طورپر کاٹ چھانٹ کی جائے ، مغرب کی اس ریشہ دوانی سے شاید ہی کوئی مسلم ملک محفوظ ہو ۔
دوسرے : مسلمانوں کے جدید تعلیم یافتہ لوگوں میں ایک ایسا گروہ پیدا کیا جائے ، جس کے نام تو مسلمانوں کے سے ہوں ، جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں اور جو مسلمانوں کی بہت سی سماجی تہذیبی روایت کو اپنائے ہوئے ہوں ؛ لیکن حقیقی معنوں میں اسلام پر ان کا یقین نہیں ہو ، وہ حدیث کا انکار کرتے ہوں ، جو چیز مغربی مفکرین کے نزدیک ناقابل قبول ہو اور قرآن مجید میں اس کا ذکر آیا ہو ، اس کی دُور ازکار تاویل کرتے ہوں ، شریعت کے جن احکام کو مغرب کی طرف سے خلاف ِعقل قرار دیا جاتا ہے ، ان کو عارضی اور وقتی عمل قرار دے کر ان سے دامن بچاتے ہوں ، وہ اسلام کا ایک ایسا ایڈیشن تیار کرنے کی کوشش کریں ، جس میں مغرب کے جذبۂ لذت اندوزی اور شہوت پرستی میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے ، یہ کام قریب قریب ایک ہی زمانہ میں مصر اور ہندوستان میں شروع ہوا ، علماء ربانیین کی کوششوں اور اسلام کی اپنی طاقت کی وجہ سے عوامی سطح پر انھیں اس سلسلہ میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی اور مستشرقین کی طرف سے بھی غذا فراہم کرنے کے باوجود وہ اس میں ناکام ہی رہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی ناکام ہی رہیں گے ، واللّٰه متمّ نورہ ولو کرہ الکافرون ۔
لیکن انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی کے اس دور میں ایک نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ جو جھوٹ اورجعلسازی کتابوں کے دفینوں میں پڑی رہتی تھی ، اب میڈیا اور بالخصوص الکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اس کو لمحوں میں ہر کچے پکے مکان میں پہنچا دیا جاتا ہے ، اور میڈیا اس فلسفہ پر عمل کرتا ہے کہ جھوٹ کو اتنا دوہراؤکہ وہ سچ ہوجائے ، بدقسمتی سے نہ مسلمانوں کے پاس اپنا میڈیا ہے ، اور نہ نیشنل اور انٹر نیشنل میڈیا ان کی آواز لوگوں تک پہنچاتا ہے ؛ اس لئے جدید تعلیم یافتہ لڑکوں اور لڑکیوں کے ایک حلقہ میں شکوک و شبہات کے کانٹے بوئے جارہے ہیں ، جیسے کمیونسٹ روس کے عہد ترقی میں مسلمانوں میں ایک اچھا خاصا دین بیزار گروہ پیدا ہوگیا تھا اوراپنے آپ کو ترقی پسند قرار دیتا تھا ، اسی طرح اب پھر ایسا گروہ اُبھررہا ہے ، جس نے اسلام بیزاری کا راستہ اختیار کیا ہے ، حدیث کا انکار ، قرآن مجید کی تشریح و توضیح میں دُور ازکار معنی آفرینی ، قانون شریعت پر اعتراض ، اسلامی شعائر کا تمسخر ، داڑھی کا استہزاء ، غیر مسلموں کے ساتھ نکاح کے بڑھتے ہوئے واقعات ، مسلم سماج میں بڑھتی ہوئی بے حجابی ، مخلوط تعلیم کی طرف رجحان ، خاندانی زندگی کی قید سے آزادی اور خاندان کا بکھراؤ ، ہمسایہ قوموں کے مذہبی تہواروں میں شرکت اور اس کو انسانیت دوستی کا نام دینا ، مسلمانوں کے زیر انتظام عصری تعلیمی اداروں میں مخلوط کلچرل پروگرام اور غیر اسلامی یونیفارم اور اس کے باوجود مسلمانوں کی طرف سے اس کی پذیرائی وغیرہ وہ باتیں ہیں ، جو ایک سیلاب بلاخیز کی طرح آگے بڑھ رہی ہیں ، یہ ایک تہذیبی اور فکری ارتداد ہے ، یہ ایسا ارتداد ہے جو دبے پاؤں آتا ہے اور ایک سست رفتار زہر کی طرح کسی قوم کے پورے وجود میں پھیل جاتا ہے ۔
اس وقت اس فتنہ کا مقابلہ علماء کی ایک بڑی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے دو باتیں ضروری ہیں : ایک یہ کہ علماء منبر و محراب سے عام اصلاحی باتوں کے ساتھ ساتھ فکری پہلو پر بھی خطاب کریں ، جمعہ کے خطابات ، سیرت اوراصلاح معاشرہ کے جلسوں اور تعلیم یافتہ دانشوروں اور عصری درسگاہوں کے طلبہ و طالبات کے درمیان پروگراموں کے ذریعہ اسلام کی حقانیت اور آخرت کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی کامیابی کے لئے اسلامی تعلیمات کی ضرورت واہمیت کو دلائل کے ذریعے سمجھایا جائے ، دل سے بھی خطاب ہو اور دماغ سے بھی ، جیساکہ اس وقت مسلم پرسنل لا سے متعلق چند مسائل پر تفہیم شریعت کے پروگرام رکھے جاتے ہیں اور بحمد اللہ اس کے بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
دوسرا اہم کام جو اسی سے متعلق ہے ، یہ ہے کہ جیسے ہم علم کلام کو پڑھتے ہیں اور ایمانیات کی تفصیلات سے واقف ہوتے ہیں ، اسی طرح ہم اسلامی معتقدات کی عقلی بنیادوں کو بھی جاننے کی کوشش کریں ؛ کیوںکہ انسانی عقل ہر بات کا ادراک کرلے یہ ضروری نہیں ؛ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدا کا کوئی حکم عقل کے خلاف نہیں ہوسکتا ، سلف صالحین اور خاص کر ماضی قریب کے علماء میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے یہاں اس کی بہترین مثالیں ملتی ہیں ، انھوںنے کتنی قوت کے ساتھ اور آفاق و انفس کی دلیلوں سے ایمانیات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ؛لہٰذا جیسے ہم فقہ کو پڑھتے ہیں ، ہم احکام شریعت کے ساتھ ساتھ شریعت کے اسرار و مقاصد کا بھی مطالعہ کریں ، اسی طرح آج اعدائے اسلام ، اسلام پر جو سوالات اُٹھاتے ہیں ، ہمیں ان سے بھی واقف ہونا چاہئے اور علمی و فکری اعتبار سے اس کے رد کے لئے تیار رہنا چاہئے ، کسی فوج کے فتح مند ہونے کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ صرف اپنے ہتھیار سے واقف ہو ؛ بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ہتھیار سے بھی آگاہ ہو ۔
فکری اعتبار سے عیسائیت ، ہندو مت یا دیگر ادیان باطلہ کا مقابلہ دشوار نہیں ہے ؛ کیوںکہ ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہے نہ عقل و خرد کے شواہد اور نہ عقلائے روزگار کی تائید ؛ لیکن لادینیت کے پیچھے ان مغربی مفکرین کی قوتیں ہیں ، جن کو کھوٹے ہونے کے باوجود سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ، ضرورت ہے کہ علماء اس پہلو سے اسلام کا مطالعہ کریں ، آج کے مسلمہ طرز استدلال کے مطابق اسلام کو پیش کریں ، اس موضوع پر لکھیں ، اس کو اپنی علمی کاوشوں کا موضوع بنائیں اور اس طرح کے مضامین کو دینی جامعات کے نصاب میں شامل کریں ؛ ورنہ اس فتنہ کا اثر بہت خراب ہوگا اور خدا نخواستہ وسط ایشیاء اور مشرقی یورپ کے بعض مسلم گروہوں کاسا حال ہوجائے گا ، اللہ تعالیٰ اس فتنہ سے اُمت کی حفاظت فرمائے اور علماء اُمت کو پوری فکر مندی اور ذہانت کے ساتھ اس سے نبرد آزما ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker