اسلامیاتمضامین ومقالات

کیا یہی عشق ہے؟

از:-محمد نعمان
ماہ ربیع الاول کی آمد آمد ہے جس میں وہ متبرک اور غم انگیز دن ہے جو شفیع المذنبین کی ولادت باسعادت کے صدقہ میں سراپا بابرکت ہے لیکن سید النبیین کے انتقال پرملال کی وجہ سے باعث قلق واضطراب بھی ہے، جو عالم انسانیت کو گھٹاٹوپ اندھیروں سے نجات کا باعث بھی ہے لیکن یتیموں کے والی کی فرقت کا شاہد بھی ہے، جس نے ’’والضحیٰ‘‘کی چمک کوپروان چڑھتے بھی دیکھا اوراسکی حیات کے سورج کوغروب ہوتے بھی دیکھا۔
اسی نبی آخر الزماں کی آمد کی خوشی میں لوگ ہری جھنڈیوں کے جلوس نکال کر عشاق رسول کے زمرے میں شامل ہونیکی ناکام کوشش کرتے ہیں تو کہیں ڈھول تاشے بجاکرعشق رسول کا ثبوت پیش کرتے ہیں (لیکن افسوس وفات نبی کوبھلا بیٹھے ہیں )سوچنے کی بات ہے کہ کیا عشق نبی ہم سے یہ مطالبہ کررہاہے کہ معشوق کے طریقہ کو توپس پشت ڈال دیا جائے اور اسکے یوم وفات پرخوشیاں منائی جائیں؟ اسکے مامورات سے تو رکا جائے اورمنہیات کا ارتکاب کیا جائے ؟کیا عشق رسول یہی مطالبہ کرتاہے کہ سنت نبوی کو تو نسیامنسیا کردیاجائے اوربدعات وخرافات کی تشہیرو ترویج کی جائے ؟عشق رسول تو بوبکرصدیقؓ کا تھا کہ غزوہ تبوک کے موقع پر معشوق کے حکم پر گھرکی ہرچیز اٹھالائے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معلوم کیا کہ’’ اے ابوبکر! گھروالوں کیلئے کیا چھوڑکر آئے‘‘تو فرمایا ’’اللہ اوراسکے رسول کی محبت‘‘ عاشق رسول توعمرفاروقؓ تھے جنہوں نے ایک منافق کو صرف اسلئے جہنم رسید کردیاتھا کہ اس نے اللہ کے رسول کے فیصلہ کو نہ مان کرفاروق اعظمؓ سے فیصلہ کرواناچاہاتھا۔عاشق رسول تو ہ بچے تھے جواپنی جان کی پرواہ کئے بغیربوجہل پرصرف اسلئے جھپٹ پڑے تھے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنیکی ناکام حرکت کا ارتکاب کیاتھا۔
اورآج ہم عشق رسول کا دعویٰ کرنے والے ہیں کہ دنیاجہاں میں سید المرسلین کوبدنام کرنیکی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے اورہم ہری جھنڈیاں نکال کرعشق رسول کا ثبوت پیش کررہے ہیں پورے عالم میں نبی آخرالزماں کی طرح طرح کی تصاویر بنائی جارہی ہیں اورہم شیرینی و مٹھائیاں بانٹ کر خوش ہورہے ہیں۔ عشق رسول تو ابوخیثمہ رضی اللہ عنہ سے سیکھا جائے کہ جب غزوہ تبوک کے موقع پر اللہ کے رسول نے سخت گرمی کے موسم میں جہاد کیلئے سفرکا حکم دیا تو وہ کسی وجہ سے شامل نہ ہوسکے اورکارواں روانہ ہوگیا۔ ایک دن سخت گرمی میں اس وقت اپنے باغ میں داخل ہوئے جب سورج اپنی آب وتاب سے آگ اُگل رہاتھا اورجھلسا دینے والی گرم ہوائیں چل رہیں تھیں ان کی بیبیوںنے وسائل کے مطابق ٹھنڈک کررکھی تھی ،درختوں کا گھناسایہ ،پانی کا چھڑکائو، آرام دہ بستر،طرح طرح کے میوہ جات سے بھرادسترخوان ودیگرضروریات ولوازمات دستیاب تھے کہ اچانک آپ کے دل میں یہ خیال آیا کہ میں تو یہاں ان نعمتوں سے لطف اندوز ہورہاہوں اوراللہ کے نبی اس چلچلاتی دھوپ میں مصروف جہاد ہوں گے۔ اس بات کا دل میں آناتھا کہ آپ تمام نعمتوں کو چھوڑکر جہاد کیلئے نکل پڑے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملے ۔ یہ تھا اصحاب رسول کا عشق کہ آپ کے ایک فرمان پراپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہوجاتے اورایک طرف ہم عشق رسول کے دعویدار ہیں کہ آپ کی سنتوں کو چھوڑکر بدعتوں کی ترویج میں مسروف ہوگئے ہیں، مرضیات کو ترک کرکے منہیات کے مرتکب ہوگئے ہیں جزاء وخوشنودی کے کاموں کو پس پشت ڈال کر سزا وبدبختی کے کاموں میں مشغول ہوگئے ۔
ہوناتویہ چاہئے تھاکہ ہم سنت نبوی کو اپنا کر عاشق رسول ہونیکا ثبو ت پیش کرتے ،اعمال نبویہ کو چن چن کر ان پر عمل پیراہوتے ہوئے حب رسول کاپیکر بنکر دکھاتے ،رسول اللہ کے احکامات کا سچا پیرو بن کرآپ کی سنتوں کو عام کرتے اوردوسروں کو ان سے روشناس کراکرفیضیاب اور افکارنبوی سے چار سوروشنی کرکے ظلمت و ظلالت کی تاریکیوں کو کافور کرتے۔
لیکن افسوس صدافسوس! ہم عاشق رسول بننے کے بجائے رسول اللہ کو تکلیف پہونچانے کا باعث بن گئے، آپ کی سنتوں کو زندہ کرنے کے بجائے انہیں بدعات وخرافات سے مبدل کرنیکی مذموم کوشش میں مصروف ہوگئے آپ کے ارشادات وپیغامات سے لوگوں کو اگاہ کرنے کے بجائے خود اسے بھول بیٹھے:
جلتے ہوئے چراغ جو گھرگھر میں دھر گیا
وہ شخص اپنے گھر کے اندھیرے میں مر گیا
سنن نبوی پرعمل پیراہونے کے بجائے مختلف النوع بدعات ،خرافات اورواہیات میں مشغول ہوکرشمع رسالت کی لو کو مدھم کرنے لگے۔
لیکن ہم یہ بھول بیٹھے کہ یہ وہ آفتاب ہے جوخلق آدم سے بھی پہلے سے چمک رہاہے یہ وہ شمع ہے جسے ذات کبریا نے کفروبددینی کو ختم کرنے کے لئے روشن کیا ہے، یہ وہ چراغ ہے جس کی نورانیت جزیرۃ العرب سے نکل کر کل کائنات میں پھیل گئی، یہ وہ ذات بابرکت ہے جس کی خود رب العالمین نے یہ کہہ کر دلجوئی کی’’انا کفیناک المستہزئین الایہ‘‘ کہ اے نبی ہرزمانہ میں ہرمعاشرہ ،میں ہرملت میں، ہر قوم میں ،ہرفرقہ میں اورہرکلچر میں کچھ ایسے بدبخت ،شقی القلب اورنادان موجود رہیں گے جوآپ کی ذات بابرکت پر کیچڑ اُچھالنے کی ناکام کوشش کریں گے، آپ کے لائے ہوئے پیغام محبت کوعناد وعصبیت کے سانچہ میں ڈھالنے کی خبیث جسارت کریں گے، آپ اورآپ کے نام لیوائوں کو طرح طرح کے برے القابات سے ملقب کرکے استہزاء وایذاء رسانی کاحدف بنائیں گے لیکن اے نبی آپ کبیدہ خاطر نہ ہوئیے ہم آپ کی طرف سے ایسے لوگوں کیلئے کافی ہیں چاہے وہ بولہب وبوجہل کی شکل میں ہوں یا’’شیطان‘‘ رشدی کی شکل میں ،ہم آپ کو ان تمام فتینوں وملعونوں سے محفوظ رکھیں گے۔
باطل جو صداقت سے الجھتا ہے تو الجھے
ذروں سے یہ خورشید بجھائے نہ بجھے گا
لیکن افسوس! بالائے افسوس !!کہ ہم رسول اللہ کے نام لیوا اورعشق حبیب کے دعویدار ہرظلم وزیادتی ہونٹوں میں تالے ڈالے کھڑے رہتے ہیں اوراپنی آنکھوں کے سامنے سنت نبوی کی دھجیاں اُڑتے دیکھتے رہتے ہیں :
یوں ہر ایک ظلم پہ دم سادھے کھڑے رہتے ہیں
جیسے دیوار میں چنوائے ہوئے لوگ ہیں ہم
اس وقت ہمارا کیا حال ہوگا جب روز محشر حوض کوثر سے محروم کردئے جائیں گے ؟حدیث پاک میں مروی ہے کہ روز قیامت جب کوئی بدعتی حوض کوثر پر سیراب ہونے آئیگا تو فرشتے اسے حوض کوثر سے اس طرح ہٹائیں گے جس طرح آوارہ بیل کوکھیت سے ہٹاتے ہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم معلوم کریں گے کہ ا نہیں کیوں روک رہے ہو توفرشتے کہیں گے کہ آپ نہیں جانتے انہوں نے آپ کے بعد کیا پیدا کیا تویہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے کہ دورہوجائیں وہ لوگ جنہوں نے میرے بعد دین میں کوئی ایسی چیز پیدا کی جواس میں نہیں تھی اسی طرح دوسری حدیث میں منقول ہے کہ رسول اللہ نے فرمایاکہ’’ جس شخص نے دین میں کوئی ایسی چیز پیداکی جواس میں نہیں تھی تووہ مردودہے۔‘‘
اسلئے ہمیں چاہئے کہ تمام خرافات وبدعات سے بازآجائیں اوربارگاہ ایزدی میں دعاگوہوں کہ رب ذوالجلال ہمیں سچے عشق رسول سے سرشار فرمائے اور تمام خرافات و بدعات سے بالکلیہ محفوظ رکھے۔اللہم آمین
٭٭٭
Mob.: 9427242537/ 8171740455
E-Mail:mohammadnoman247@gmail.com
E-Mail:mohammad.noman.1466@facebook.com
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker