Baseerat Online News Portal

تونے شکر کی پٹی تو کبھی نہ باندھی

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

حضرت رابعہ بصریہ (رحمۃ اللہ علیہا) ایک مرتبہ کہیں کھڑی تھیں۔ ان کے قریب سے ایک نوجوان گزرا ۔اس نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئ تھی ۔ انہوں نے پوچھا بیٹا کیا ہوا ؟ اس نے کہا اماں ! میرے سر میں درد ہے جس کی وجہ سے پٹی باندھے ہوئے ہیں ۔ پہلے تو کبھی درد نہیں ہوا ؟ رابعہ نے پوچھا ، بیٹا آپ کی عمر کتنی ہے؟ وہ کہنے لگا ،جی میری عمر تیس سال ہے ۔ یہ سن کر وہ فرمانے لگیں ،بیٹا تیرے سر میں تیس سال تک درد نہیں ہوا تو نے شکر کی پٹی تو کبھی نہیں باندھی ،تجھے پہلی دفعہ درد ہوا ہے تو نے شکوے کی، اور شکایت کی پٹی فورا باندھ لی ۔

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی بڑی صاحبزادی مولانا محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی کی بڑی ہمشیرہ (بہن) کے دانت اخیر عمر میں خراب ہوگئے تھے اور یکے بعد دیگرے انہیں کئی دانت نکلوانے پڑے ۔ جس میں انہوں نے کافی تکلیف اٹھائ ،ایک مرتبہ وہ دانت نکلوا کر اپنے والد ماجد حضرت حضرت مفتی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئیں ،آپ نے ان کا حال پوچھا تو اپنا حال بتاتے ہوئے ان کے منھ سے یہ بات بھی نکل گئی کہ ابا جان ! یہ دانتوں کا معاملہ بھی عجیب ہے ،یہ جب بچپن میں نکلتے ہیں تو اس وقت بھی تکلیف دیتے ہیں اور جب ٹوٹنے پر آتے ہیں تو اس وقت بھی تکلف دیتے ہیں.

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رح نے جب صاحبزادی کی زبان سے یہ بات سنی تو قدرے ناگواری کے ساتھ فرمایا: بیٹی ! تمہیں ان دانتوں کی بس یہ دو باتیں یاد رہیں کہ انہوں نے آتے وقت بھی تکلیف دی تھی اور جاتے وقت بھی تکلیف دے رہے ہیں، اور ان دونوں واقعات کے درمیان سالہا سال تک تم نے اس خدائی مشین کو استعمال کرکے جو لذت و راحت حاصل کی اس کی طرف کوئی دھیان نہیں-

ان دونوں واقعات سے اندازہ لگائے کہ ہمارے اسلاف اور اکابر اپنے متعلقین اور مسترشدین کو اللہ تعالی کی نعمتوں کے استحضار اور ان پر ادائے شکر کی کس طرح تلقین فرماتے تھے ۔ اور ان کی ادنی لغزش اور فرو و گزاشت پر کس طرح تنبہ فرما دیا کرتے تھے تاکہ مستقبل میں زبان سے کوئی ناشکری کے کلمات نہ نکل سکے ۔

آج ہم لوگوں کا حال یہ ہے کہ ہم برساہا برس اور سالہا سال اللہ کی ہزاروں نعمتیں استعمال کرتے ہیں اور عیش و عشرت اور راحت و سکون کی زندگی گزارتے ہیں ۔ ہم اس کا کما حقہ شکر تو کبھی ادا نہیں کرتے لیکن جب ذرا سی تکلیف پہنچتی ہے اور تھوڑی دقت اور پریشانی آتی ہے تو بجائے صبر کرنے کے شکوے کرنا شروع کر دیتے ہیں اور بعض نادان تو ایسے کلمات بھی استعمال کرنے لگتے ہیں کہ خطرہ ہونے لگتا کہ کہیں ایمان و اسلام کے دائرے سے نکل کر کفر و عصیان کے حدود میں نہ داخل ہو گئے ہوں ۔

اللہ تعالٰی ہم سب کو شکر کی حقیقت و اہمیت اور اس کی ضرورت کو سمجھنے اور اللہ کے انعامات پر شکر بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے آمین.

(بصیرت فیچرس)

You might also like