جہان بصیرتنوائے خلق

مسلمانوں میں بگڑتی معاشی صورت حال :لمحہ فکریہ

مکرمی!
جس طرح اس وقت مسلمانوں کو مذھبی سیاسی سماجی عائلی مسائل درپیش ہیں اسی طرح معاشی مسائل بھی انکی زندگی کا لازمی حصہ بنتا جارہا ہے آسائش زندگی تو درکنار سامان زندگی بھی صحیح سے میسر نہیں اشیاء خورد و نوش کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں جب بھی ملک میں مسلمانوں کی بگڑتی معاشی صورت حال پر بحث ہوتی ہے یا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے تو عام طور سے تعلیمی بحران کو اسکا ذمہ دار مانا جاتا ہے جب کہ بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے ہیکہ تعلیمی بحران کے ساتھ ساتھ ٹائلینٹ کے باوجود مسلمانوں کو روزگار کے مواقع نہیں ملتے بعض کا کہنا ہیکہ زیادہ تر مسلمان مدرسہ کی تعلیم سے وابسطہ ہیں اور مدرسوں میں جدید تعلیم صفر ہے جسکی وجہ سے مدرسوں کے فارغین طلبہ کو معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے چونکہ آج کےدور میں معاشی نظام صرف زراعت اور دست کاری پر ہی منحصر نہیں بلکہ جدید ٹکنالوجی سے زیادہ مربوط ہے حالانکہ انکا یہ تجزیہ صحیح نہیں ہہے اسلئے کہ مسلم بچوں کا تعلیمی اداروں میں جو تناسب ہے وہ کچھ اسطرح ہے چار فیصد مدرسہ میں تیس فیصد پرائویٹ اسکولوں میں اور چھیاسٹھ فیصد سرکاری اسکولوں میں اسلئے مسلمانوں کی موجودہ معاشی بد حالی کا ذمہ دار مدرسہ کو ٹھرانا بےجا ہے بعض تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہیکہ مسلمانوں میں غربت بھوک مری کی شرح زیادہ ہے اسی وجہ سے انکے بچے تعلیمی اداروں میں نہیں جا پاتے اور وہ مجبوراً کار خانوں فیکٹریوں کا رخ کرتے ہیں تجزیہ کرنے والوں نے مسلمانوں میں معاشی بحران کے مختلف اسباب پیش کئے ہیں حالانکہ غور سے مطالعہ کیا جائے تو تمام اسباب و وجوہات کے پیچھے ایک ہی بات سامنے آتی ہے اور وہ ہے حکومت کی بے توجہی حکومت چاھے بی جے پی کی ہو یا کانگریس کی مسلمانوں کے مسائل کو کھبی سنجیدگی سے نھیں لیا گیا انہیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا گیا نتیجہ یہ ہیکہ آج مسلمان ہر جگہ حاشیہ پر نظر آرہے ہیں تعلیمی بحران کا مسئلہ ہو یا غربت و افلاس کا یا مذھبی تعصب کا حکومت براہ راست اسکی ذمہ دار ہے حکومت خواہ کسی پارٹی کی ہو عوام کے مسائل کو سمجھنا اور اسکو حل کرنا اسکی زمہ داری ہے چونکہ یھی عوام اپنے ووٹ کا استعمال کرکے پارٹی کو اقتدار اعلی تک پہنچاتے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی پارٹیاں عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال دیتی ہے جو کہ ایک جمہوری ملک کے بنیادی ڈھانچہ کے خلاف ہے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق اعلی سرکاری ملازمتوں میں جو مسلمانوں کا تناسب ہے وہ یقیناً لمحہ فکریہ ہے
آی اے ایس تین فیصد ، آی پی ایس چار فیصد انڈین ریلویز چار اشاریہ پانچ فیصد ، تعلیم ریاستی سطح پر چھ اشاریہ پانچ فیصد، شعبہ صحت چار اشاریہ پانچ فیصد ، عدلیہ میں ملازمت سات اشاریہ آٹھ فیصد ہی ہے ، مسلمانوں کی معاشی زبوحالی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے مسلمانوں کی کل تعداد کا تناسب چودہ فیصد ہے اور بھیکاریوں کا تناسب پچیس فیصد ہے یہی وجہ ھیکہ مسلم نوجوان ذریعہ معاش کی تلاش میں در بدر بھٹکتے ہیں اور جب انہیں روزگار نہیں ملتا تو مجبورا اپنا گھر بار چھوڑ کر بیرون ممالک کا سفر کرتے ہیں اور وہاں کی مختلف کمپنیوں دکانوں اور کار خانوں میں کام کرتے ہیں اسکے علاوہ نوکروں خادموں کے طور پر بھی کام کرتے ہیں ویکیپیڈیا کے مطابق عرب امارات میں ٢ ملین انڈین رہتے ہیں جو وہاں کی کل آبادی کا ٢٧ فیصد ہے جنیمیں زیادہ تر مسلمان ہیں یقینا یہ ملت کے لئے لمحہ فکریہ اور سلگتا ہوا مسئلہ ہے دیگر مسائل کی طرح اس پر بھی زور دینے کی ضرورت ہے ملی رہنماوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکومت کو اس طرف متوجہ کرے اور ساتھ ہی بگڑتی معاشی صورت حال پر کسی حد تک قابو پانے کے لئے جو ممکن پیش رفت ہو کریں.
ساجد ندوی
جامعہ ام سلمہ پرسونی مدھوبنی بہار

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker