بلاگ

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم !!!

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم !!!

احساس نایاب ( شیموگہ, کرناٹک )
ایڈیٹر گوشہ خواتین واطفال بصیرت آن لائن

سال نو کے آغاز پر ہندوستان سمیت کئی بیرونی ممالک میں مشاعرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے جسکا مقصد اردو کو فروغ دینا لوگوں میں اردو کے لئے دلچسپی و لگاؤ پیدا کرنا ہے اور اس مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی شہروں میں عظیم الشان مشاعرہ کے جلسے منعقد کئے جاتے ہیں جن میں نئے پرانے شعرا کو اپنا کلام پیش کرنے کا موقعہ دیا جاتا ہے تاکہ اُنکی حوصلہ افزائی ہو, ادبی دنیا میں انہیں اپنی پہچان بنانے, مقام حاصل کرنے کا موقعہ ملے جس سے وہ مستقبل میں اپنے شہر , اپنی ریاست , اپنے ملک کا نام روشن کرسکیں اور یہ ایک طرح سے مقامی شعراء کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ان کے لئے اعزاز بھی ہے

اور جہاں اُنکی صلاحیت انکے فن کو سارا ملک ساری دنیا میں سراہا جاتا ہے وہ لمحات کسی بھی شاعر کے ساتھ ساتھ اُس کے آبائی شہر کے لئے بھی ادب کی دنیا میں فخر کی بات ہے

اور ان عظیم وشان مشاعرہ میں شہر کے ذمہ داراں کا فرض بنتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنے شہر کے یعنی مقامی قابل و باصلاحیت شعرا کو ترجیح دیں تاکہ اُنکی قابلیت کے ساتھ ناانصافی حق تلافی نہ ہوسکے اور اُس شاعر,شاعرہ کی کامیابی سے متاثر ہوکر اردو سے لگاؤ رکھنے والی نئی نسلیں انہیں اپنا آئیڈیل مان کر انکے نقش و قدم پہ چلیں اور تاریخ میں جب بھی ادب کا ذکر آئے تو ملک کے ساتھ اُنکے شہر بھی ہمیشہ جگمگاتے رہیں اور ہماری نسلیں رہتی دنیا تک سپاہی بن کر اردو کی دفع کرتی رہیں

مگر افسوس یہ محض خواب ہے کیونکہ یہاں پہ اردو دان خود اپنوں کی بےقدری کرتے ہوئے اپنوں کو مایوس کررہے ہیں ان نازیبا حالات میں کوئی فنکار کیسے ادبی دنیا میں اپنا مقام بنا سکتا ہے ؟

آج ہمارے اپنے اہل ادب اردو کے ذمہ داراں اصل مقصد کو بھلا کر ادب کو بھی اپنے مفاد کے لئے تجارت بنائے ہوئے ہیں جہاں پہ شہر, ریاست یا ملک کا فائدہ نہیں بلکہ ہر کوئی اپنا ذاتی مفاد تلاش کررہا ہے شاید یہی وہ بڑی وجہ ہے جس سے اردو ادب زوال کی طرف تیزی سے گامزن ہے, ویسے بھی جس میدان میں حق تلفی, ناانصافی عروج پہ ہو اُسکو زوال پزیر ہونے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی کیونکہ حق تلفی ایسا گناہ ہے جو ہم سے ہمارا سب کچھ چھیننے کی قدرت رکھتا ہے, باوجود اس کے آج ہم میں سے چند لوگ ایسے ہیں جنہیں اپنی انا اپنی ناک کے آگے صحیح غلط حق ناحق کچھ نظر نہیں آتا وہ اتنے مغرور, تکبر میں چور, مفاد پرست, حق فروش بن چکے ہیں کہ کسی بھی حقدار کا حق چھینتے ہوئے پل بھر کے لئے بھی انہیں خوف خدا کا احساس نہیں ہوتا
ایسا ہی کچھ ریاست کرناٹک کے شہر عزیز شیموگہ میں ہونے جارہا ہے , حال ہی میں ہونے جارہے عظیم و شان مشاعرے میں اپنے ہی شہر کے نامور شعرا کو نظرانداز کردیا گیا ہے جو بیحد شرمناک بات ہے, اپنوں کے درمیان اس قدر سوتیلاپن نا قابل قبول ہے بس اللہ رحم کریں

کل تک حق اور انصاف کی بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کے لئے آج
” گھر کی مرغی ڈال برابر اور پڑوس کی باسی بدبودار دال تنڈری چکن لگنے لگی ہے

اور ان حالات کے مدنظر ہمیں وہ جمعن چچا یاد آرہے ہیں جو ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہا کرتے تھے زندگی میں پہلی بار اچانک انہیں 5 اسٹار ہوٹل میں کھانا کھانے کا موقعہ مل گیا تو وہاں پہ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد جب فنگر باؤل (دست شو پیالہ) دیا گیا( یعنی لیمو اور پانی کا کٹورہ ) جو کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ,
لیکن بیچارے ہمارے جمعن چچا اُس دست شو پیالہ کو شربت سمجھ کر ڈکار گئے اور زندگی بھر گھر میں بننے والے مزیدار لزیز میٹھے لیمو کے شربت میں کئی نقص نکالتے ہوئے اُس کی بےقدری کرنے لگے لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائے کہ اُن کے اس احمقانہ نظریہ سے لذیز شربت کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ تاعمر جمعن چچا خود اس سے محروم ہوگئے
کیونکہ خالص چیز چاہے وہ شربت ہو شعرا ہوں یا کسی بھی پیشے سے مہارت حاصل کئے ہوئے ماہرین کیوں نہ ہوں چند لوگوں کی بےقدری کے باوجود وہ اپنے ہنر اپنی قابلیت کے بل بوتے اپنا مقام ضرور حاصل کرلینگے کیونکہ محنت اور صلاحیت کبھی رائیگاں نہیں جائیگی جس کا جو حق ہے دیر سویر اللہ اُس کو اُس کا حق ضرور دلوائینگے مگر یہ جو تعصب , بےقدری یا جو بھی کہیں وہ تاعمر تلخ یاد بنکر ذہن کے کسی گوشے میں رہ جائیگی

آج بھلے ہم گھر کے پیر کو مسخرہ سمجھ کر کسی اور کو اپنا پیر بنارہے ہیں مگر اس بات کو ذہنشین کرلیں کہ کیرائے پر آنے والے پیر وقتیہ طور پہ جلوہ افروز ہوکر پنچی کی طرح مریدوں کو چھوڑ اُڑ جائینگے مگر وقتاً فوقتاً آسمان پہ اپنے شہر کا پرچم صرف اور صرف اپنے ہی پنچی لہرائینگے اور ساری دنیا کے آگے اپنے ساتھ اپنے شہر کا نام روشن کرینگے جیسے ماضی میں کئی شعرا نے زمانے کی تعصبی ذہنیت کے باوجود تاریخ میں اپنا نام رقم کرنے میں کامیاب رہے اور رہتی دنیا تک اُن کے سروں پہ ادب کا تاج تابناک ہے

خیر جیسے زندگی کے نشیب وفراز کوئی نہ کوئی سیکھ اور لوگوں کے اصلی چہرے دکھا جاتے ہیں بالکل اسی طرح یہاں پر بھی ہمیں کہنی اور کرنی کا انتر ( فرق ) سمجھ آگیا کہ جو بھی آج تک حق انصاف کی بڑی بڑی باتیں کرتے نظر آئے اپنے قلم کو حق کی سیاحی میں بھگونے کے دعوے کرتے رہے آج اُنکے سبھی دعوے کھوکھلے نکلے , اُنکے قلم پہ پڑے سچائی کہ چولے ساری دنیا کے آگے اُتر گئے کیونکہ جو اپنے شہر اپنے آس پڑوس اپنے گھر والوں کے لئے حق و انصاف کا مطالبہ نہیں کرسکتے اُن میں کہاں سے ملک و ملت کو حق کی راہ پہ گامزن کرنے کی تاثیر جاگے گی, جب انہیں کی بغل میں کسی حقدار کی حق تلفی ہورہی ہو وہ کیا اوروں کو حق کی ترغیب دینگے کبھی کبھی تو لگتا ہے یہ ادبی دنیا ہی ڈھکوسلہ ہے جہاں ہوتا کچھ ہے دکھتا کچھ, اور دورِ حاضر میں تو ادب کوڑیوں کے دام میں بک رہا ہے مجبور ضرورت مند کے قلم پہ مالدار کے نقوش جذب ہیں دوسری طرف بس کچھ دعوتیں تحفے تحائف ,سلام پیام کے رشتے قائم کر نااہل ہوتے ہوئے بھی جھوٹی قابلیت کے ڈنکے بجائے جارہے ہیں لعنت ہے ایسے ادب پہ جو تہذیب و ثقافت کا جنازہ اٹھوارہا ہے, جہاں کسی کی قابلیت قبول کرنا بھی کسی کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے اور کسی کی چاپلوسی, میاں میٹھو والی فطرت اُس کی کامیابی کی دلیل بن رہی ہے اور حقیقی حقدار کی صلاحیتوں کو پشت بالا ڈال کر ذاتی اختلافات کو فوقیت دی جارہی ہے , ذاتی اشیوس کو مسلہ بناکر اپنے فرض اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑا جارہا ہے ان حالات میں ادب کا بول بالا کیسے اور کیونکر ہوگا

یہاں پہ ایک اور بات واضح کرنا ضروری ہے کہ ہماری شکایت کسی تاجر یا سیاسی لیڈر سے نہیں ہے کیونکہ ظاہر سی بات ہے کہ تاجر کا مقصد ہرحال میں تجارت اور سیاستدان کا مقصد ہر میدان میں سیاست ہی ہوگا مگر شکایت تو ادب کی دنیا سے جڑے ایک ہی برادری کے ایک ہی حلقے سے تعلق رکھنے والے سپوتوں سے ہے جن میں تمام اردو دان اور مقامی اردو اخبارات ہیں جنہونے اس ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جبکہ ادب , ثقافت اور اردو صحافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن افسوس آج ہر اہل قلم حضرات کے قلم خاموش تماشابین بنے ہیں

اور شاید اس تحریر کے بعد ہمارا بھی پتہ گل ہونے کے امکانات ہیں, آخر تالاب میں رہ کر مگرمچھ سے بیر لینے کی حماقت جو کی ہے جو ادب کی دنیا میں ناقابل قبول ہے جس سے ہمارے قلمی مستقبل پہ اثر پڑسکتا ہے باوجود اس کے الحمدللہ ہمارے قلم کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ہماری نظر میں قلم وہ مقدس ہتھیار ہے جو ناانصافی کے خلاف نہ اٹھے تو بہت جلد اُس کو زنگ لگنے کا خدشہ ہے اور کسی بھی سچے اہل قلم کو یہ گوارہ نہیں کہ وہ اپنے قلم کو حق کے لئے اٹھنے سے روکے, اسی سوچ کو اپنی طاقت بناکر آج ہم نے اس مدعے پہ اپنا قلم اُٹھایا ہے تاکہ ہمارے شہر میں ہورہی یہ ناانصافی کی داستان دفن نہ ہوپائے اور ہر عام و خاص کو اس کا علم ہو کہ کیسے غیروں پہ کرم اور اپنوں پہ ستم ڈھائے جارہے ہیں ……………

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker