Baseerat Online News Portal

اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

امام یزید بن ہارون واسطی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۲۰۶ھج) تبع تابعین میں بڑے مقام و مرتبہ کے مالک ہیں، وہ اپنی طالب علمی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں طلب علم میں کئی سال اپنے اہل و عیال سے دور رہا بغداد پہنچا تو معلوم ہوا کہ مقام عسکر میں ایک تابعی عالم ہیں، میں ان کی خدمت میں گیا اور حدیث بیان کرنے کی گزارش کی تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی ۔
ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالٰی کسی مصیبت میں مبتلا کرے تو اس کو صبر کرنا چاہیے، پھر صبر کرنا چاہیے پھر صبر کرنا چاہیے۔
شیخ نے اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کے علاوہ اور کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا ۔ اس کے بعد میں اپنے وطن واپس چلا آیا ،رات گئے گھر پہنچا اور گھر والوں کی نیند کے خلل کی وجہ سے دروازہ نہیں کھٹکھٹایا اور کسی طرح کھول کر اندر چلا گیا، میری بیوی چھت پر سوئ ہوئ تھی ،میں نے اوپر آکر دیکھا کہ بیوی سوئ ہوئ ہے اور ایک نواجون لڑکا بھی اس کے قریب میں سویا ہوا ہے، میں نے پتھر اٹھا کر اس کو مارنا چاہا مگر عسکر کے شیخ کی (روایت کردہ) حدیث یاد آگئ اور رک گیا اسی طرح دو تین بار پتھر اٹھایا اور رک گیا اسی دوران میری بیوی کی آنکھ کھل گئی مجھے دیکھ کر اس نے جوان کو جگایا کہ اٹھو اپنے باپ سے ملو اور لڑکے نے اٹھ کر میری پذیرائی کی،جس وقت میں طلب علم کے سفر میں نکلا تھا تو اس وقت میری بیوی حمل سے تھی ،اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ حدیث پر عمل کی برکت ہے ۔
(آثار البلاد و اخبار البلاد ص: ۴۰۸ بحوالہ انسانی عظمت کے تابندہ نقوش ص: ۱۰۲)
قارئین باتمکین!
اس واقعہ کو ذہن میں رکھیئے اور پھر غور کیجئے کہ انسانی زندگی میں صبر کی کتنی سخت ضرورت ہے،اس کی کتنی اہمیت ہے اور صبر کا انجام اور نتیجہ کتنا مفید اور ثمر آور ہوتاہے ۔ صبر کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم میں نوے سے زیادہ مقام پر صبر کا تذکرہ آیا ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو مقام سر کا ہے جسم میں ،ایمان میں وہی درجہ اور مقام صبر کا ہے ۔ (نضرة النعیم : ۶/ ۲۴۴۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن مجید نے صاف اعلان کر دیا ہے کہ صبر ہی اللہ تعالٰی کی معیت اور اس کی مدد کی کلید بلکہ شاہ کلید ہے ۔ واللہ مع الصابرین ۔( البقرہ ۲۴۹) اور اللہ تعالٰی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
صبر کا مطلب بزدلی اور تن آسانی نہیں ہے ۔ہتھیار ڈال دیئے اور ظلم پر ظلم سہنے کا نام بھی صبر نہیں ہے اور نہ صبر اپنے موقف اور اپنے ایمان سے پیچھے ہٹ جانے کا نام ہے بلکہ صبر اپنے موقف پر چٹان کی طرح جمے رہنے اور حالات کا سختی سے اور حکمت سے مقابلہ کرنے کا نام ہے ۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے صبر کی اہمیت اور عصر حاضر میں اس کی ضرورت و معنویت پر بڑی مفید اور موثر بات لکھی ہے ۔ مولانا محترم لکھتے ہیں :
قرآن مجید نے خاص طور پر مسلمانوں سے کہا ہے کہ اگر گوئ گروہ تمہارے ساتھ زیادتی کرے تو تمہارے لئے اسی حد تک اس کا جواب دینے کی گنجائش ہے؛ لیکن معیاری اور افضل طریقہ یہ ہے کہ تم انتقام لینے کے بجائے صبر کا راستہ اختیار کرو: ۔ و ان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین۔ النحل : ۱۲۶ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
صبر اصل میں محبت کے تقاضوں میں سے ہے اور تدبیر کے اعتبار سے یہ دشمن کے ہتھیار چھین لینے کے مترادف ہے؛ کیوں کہ تشدد کا جواب اس سے زیادہ تشدد سے دیا جاسکتا ہے؛ لیکن عدم تشدد کا کوئ جواب نہیں ہوسکتا، زبان درازی کے جواب میں اس سے بڑھ کر زبان درازی کی جاسکتی ہے ؛ لیکن خاموشی کا کوئ جواب نہیں دیا جا سکتا؛ اسی لئے داعی کا کام یہ ہے کہ جو قوم اس کی مخاطب ہو،وہ اس کی اشتعال انگیز باتوں کے جواب میں اشتعال کا مظاہرہ نہ کرے، اگر وہ شان و شوکت کا اظہار کرے ،نعرے لگائے اور اپنی سربلندی کے اظہار کے لئے ان ذرائع کو استعمال کرے ، جو آج کی دنیا میں کئے جاتے ہیں، تو داعی گروہ کا کام یہ ہے کہ وہ خاموشی کے ساتھ ظاہری شان و شوکت کے اظہار کے بغیر اپنا کام کرتا رہے؛ یہاں تک کہ مخالفین کے پاس لوگوں کو جوش دلانے ،گرمانے اور مشتعل کرنے کے لئے کوئ مواد ہی نہ مل سکے اور بالآخر لوگ آہستہ آہستہ ان کی مفسدانہ مہم سے دور ہوجائیں۔ (منصف مینارئہ نور جمعہ ایڈیشن ۲۳ اپریل ۲۰۱۰ء)
صبر و تحمل برداشت اور تقوی ہر مصیبت کا علاج ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں جو اوصاف سب سے زیادہ نمایاں ہیں وہ صبر اور تقوی ہی ہے ۔ ان ہی دو خصوصی اوصاف کو اختیار کرنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام انسانی عظمت کے اس بلندی پر پہنچے جہاں بغیر ان دو اوصاف کے پہنچنا عموما ناممکن ہے ۔
مفتی محمد شفیع صاحب رح نے معارف القرآن میں سورہ یوسف کی آیت انه من یتق و یصبر فان اللہ لا یضیع اجر المحسنین(اوربیشک جو اللہ سے ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو اللہ ضائع نہیں کرتا حق نیکی والوں کا) کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ تقوی یعنی گناہوں سے بچنا اور تکلیفوں پر صبر و ثبات قدم ، یہ دو صفتیں ایسی ہیں جو انسان کو ہر بلا و مصیبت سے نکال دیتی ہیں، قرآن کریم نے بہت سے مواقع میں ان دو صفتوں پر انسان کی فلاح و کامیابی کا مدار رکھا ہے ارشاد ہے ۔و ان تصبروا و تتقوا لا یضرکم کیدھم شیئا یعنی اگر تم نے صبر و تقوی اختیار کرلیا تو دشمنوں کی مخالفانہ تدبیریں تمہیں کوئ گزند اور نقصان نہ پہنچا سکی گی۔
(بصیرت فیچرس)

You might also like