جہان بصیرتنوائے خلق

کیا جنگ مسئلہ کا حل ہے؟

مکرمی!

14 فروری 2019  ء کو پلوامہ کے اندر جس طرح ہندوستان کے 48 ۱فواج کو شھید کیا گیا وہ یقینا دردناک اور افسوس ناک خبر تھی اور اس خبر کو سن کر صرف انڈیاں ہی نہیں بکلہ پوری انسانیت کی آنکھیں نم ہوگئیں ۔اس حملہ کے بعد ہندوستان کے افراد کا غصہ ہونا صرف جائز ہی نہیں بلکہ بہت حد تک  ضروری بھی  تھا اس لئے لوگوں نے اخبارات و رسائل سے لیکر ٹی وی ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر  جہاں ایک طرف شھیدوں کے حوصلہ کو سلام کیا وہی دوسری طرف اس حملہ کے ذمہ دار (جیش محمد جنہوں نے ویڈیوں جاری کرکے اس حملہ کی ذمہ داری اپنے سر لی )کو کڑی سے کڑی سزا دینے کی مانگ کی اور یہ سلسلہ روز بروز چلتا ہی رہا ریلیاں ہوتی رہیں اور وزیر اعظم نے لوگوں کو یہ یقین دلائی کہ اس مرتبہ سب  کا حساب ہوگا اور حساب پورا ہوگا ۔حکومت کے ساتھ  اپوزیشن پارٹیاں  بھی کھڑی ہوئی  نظر آئیں اور ان لوگوں نے بھی افواج کے قاتلوں کو کھڑی کھوٹی خوب سنائی ۔آخر کار یہ سلسلہ چلتا رہا ویڈیوں ،ریلیاں ،ریڈیوں، نیوز اور روڈ شو ہوتے رہے اور قاتلوں سے پورا پورا بدلہ لینے کی بات اور زور  پکڑتی گئیں پھر ہندوستانی میڈیاں کے مطابق 26 فروری کا وہ وقت بھی آیا جب  ہندوستانی افواج نے لگ بھگ تین بجے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائک کیا اور جیش محمد کی آتنکی کیمپوں پر بمباری کرکے اسے نیست و نابود کردیا اس میں لگ بھگ 300 یا 350 کے قریب جو لوگ آتنک وادی  گروپ سے جڑے ہوئے تھے ان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جن میں مسعود اظہر کے قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے ۔جب کہ پاکستانی میڈیا کے مطابق 26 فروری کو ہندوستانی افواج پاکستان تو آئے تھے لیکن پاکستانی افواج کی مخالفت کی وجہ کر وہ فورا بھاگ گئے اور جاتے جاتے جنگلوں میں درختوں پر بمباری اور بارود گرا کر گئے  ان دونوں باتوں میں تضاد معلوم ہوتا ہے اور کہاں کی میڈیا جھوٹ اور کہاں کی میڈیا سچ بول رہی ہیں یہ تو صرف اللہ ہی کو معلوم ہے ۔

 

خیر اس حملہ کے بعد جوابی کاروائی میں پاکستان نے ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان میں داخل ہونے کی کوشش کی پھر ہمارے انڈین افوج کی مخالفت کے بعد وہ بھاگ کھڑے ہوئے لیکن ان سب کے بیچ کچھ ہندوستان اور کچھ پاکستان کے طیارے ہلاک ہوگئے اور ہندوستان کے دو جانباز فوج کو پاکستان نے پکڑ لیا ان کی ویڈیوں اور تصاویر بھی آچکی ہیں اور خبروں کی تحقیقی بھی ہوگئی ہیں  ۔

 

ابھی ہندوستان اور پاکستان کا جو ماحول ہے اس کی وجہ کر ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملک آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے لئے مکمل تیار ہیں ۔لکین ان تمام کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنگ مسئلہ کا حل ہے ؟ کیا جنگوں میں دونوں طرف کےمعصوم  لوگ نہیں مارے جائنگے ؟کیا اس جنگ کی وجہ سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا ؟ کیا جنگ کی وجہ سے اس خطے میں چین اور سکون بحال ہو جائے گا ؟  کیا اس کی وجہ کر دونوں ملکوں کی معیشت خراب نہیں ہوگی ؟ کیا اس جنگ کی وجہ سے لوگوں کے چین و سکون باقی رہیں گے  ؟ کیا اس جنگ کی وجہ سے ہمارے شہیدوں کی روح کو شانتی ملے گی؟ یہ اور اس جیسے بہت سارے سوالات ہیں جو اس وقت ایک ذمہ دار انسان ہونے کے اعتبار سے  ہم سے پوچھ رہا ہے لیکن ان تمام سوالوں کے جواب  میں ہمے بے چینی ،بے قراری ، قتل و خون ریزی اور بربادی نظر آتی ہے ۔اس لئے ہماری حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی حکمت علمی کا استعمال کرے جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے کیونکہ تاریخ ہمے بتاتی ہے کہ جنگ کی وجہ کر فیصلہ نہیں ہوتے بلکہ بربادی اور خونریزی ہوتی ہے لاشیں گڑتی ہیں اور معیشت تباہ و برباد ہو جاتی ہے ۔اس لئے جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے جیسا کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم ہمے بتاتی ہے اس لئے بات چیت کرکے دونوں ممالک کو مسئلے کے حل تک پہنچنا چاہئے اور اس جانب عمران خان نے بھی اپنی ویڈیوں میں لوگوں کی اور ہندوستانی حکومت کی توجہ مبذول کرائی ہے کہ وہ بات کرنے اور ثبوت کی بنیاد پر قاتلوں کو سزا دینے کے لئے تیار ہے اس لئے ہماری حکومت کی یہ ذہ داری ہے کہ وہ بات چیت کرے اور انہیں ثبوت فراہم کرے اور اپنے فوجی جو پاکسان کے قبضے میں ہیں اسے بچائے کیونکہ اسی میں عافیت ہے اور راحت ورنہ جنگ کی وجہ کر کوئی کسی کو اپنا گرویدہ کبھی نہیں بنا سکتا بلکہ اس سے تو بدلے کی آگ تیز ہوتی ہے اس لئے دونوں ممالک کے حکمراں کو چاہئے کہ وہ بات چیت کرکے حکمت کا استعمال کرکے بہتر فیصلہ لینے کی کوشش کرے اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرے جس میں الفت ہو ،محبت ہو ،شفقت ہو ،نرمی ہو اگر دونوں ممالک نے ایسا کیا تو یقینا ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لئے بہتر ہوگا  ۔

ذیشان الہی منیر تیمی

مانو کالج اورنگ آباد مہاراشٹرا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker