جہان بصیرتنوائے خلق

اردو مشاعرہ اور سامعین

مکرمی!

اردو ادب کی ترقی میں جہاں عوامی بول چال تصنیف و تالیف کا بڑا حصّہ رہا ہے وہیں مشاعرے کی روایت کی تاریخ بھی اپنی جگہ آپ ہے اور اردو کی تہزیب و تمدن کی بھر پور طریقے سے عکاسی کرتی ہے رفتارِ زمانہ کے ساتھ جہاں نٸی تہزیبوں نے زبان کے دگر فنون پے بڑا گہرا اثر ڈالا ہے وہیں ہم فنِ شاعری کی بات کریں تو بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوٸ ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام زبان کی مہارت اس کے پیچ وخم ، تراکیب، مشکل الفاظ سے تو نابلد ہے ہی بلکہ سہل نگاری کے نام پر جو آسان الفاظ و تراکیب کی ہوا چلی ہوٸی ہے اس کے باوجود بھی مشاعرے کے سامعین اشعار نہیں سمجھ پاتے ہیں حالانکہ اب وہ ماحول بھی نہیں رہا جہاں تقابلی شاعری کی جاتی تھی اور سامعین بھی شعر کا دادو تحسین سے جہاں حق اداکرتے تھے وہیں اشعار کے اندر اگر کوٸی ذرا سی بھی فنّی خامیاں ہوتی تو تنقید سے بھی شاعر نہ بچ پاتے تھے ۔

ایسا نہ تھا کہ اس زمانےکی عوام میں ہرکوٸی اتنا قابل تھا کہ ہر شعر کی تہہ تک پہنچ جاۓ ۔ اس زمانےمیں دو طرح کے لوگ ہوا کرتے تھے ایک جو شاعری کو بہت اچھی طرح سے سمجھتے تھے اورفوراً شعر کی خوبی اور خامی سے آگاہ ہوجاتے تھے اچھے اشعار پر داد دیتے باقی کو در گزر کرتے تھے دوسرے وہ تھے جو شعر کی فنّی خوبیوں سے تو آگاہ نہیں ہوتے تھے لیکن زبان کی تھوڑی بہت جانکاری ضرور ہوا کرتی تھی ۔ چنانچہ جو شعر انہیں سمجھ میں آتا تھااس پر وہ داد تو دیتے ہی تھے جو نہیں سمجھ آتا اور دیکھتے کہ پڑھے لکھے لوگ دادوتحسین سے نواز رہے ہیں تو وہ بھی ان میں شامل ہوجاتے ۔

لیکن آج کے زمانے کے حالات مختلف ہیں کل رات میں ایک مشاعرے میں شریک تھا وہاں مجھے مشاعرے کے سامعین تین طرح کے نظر آۓ اور شاعر دو طرح کے کچھ شاعروں نے واقعی بڑی اچھی شاعری کی جس کی قدر تو دور کی بات بلکہ سامعین کو ان کے اشعار سننا گوارا نہ تھا دوسرے وہ لوگ تھے جنہیں ہم شاعر تو نہیں بلکہ گویّا کہہ سکتے ہیں جو اپنی اچھی آواز کے بل بوتے چل جاتے ہیں اور پھر کچھ اوچھے ہتھکنڈے بھی اپنے پاس رکھتے ہیں جس سے واہ واہی بھی خوب ملتی ہے ۔ ایک صاحب نے تو حد ہی کردی اردو مشاعرے میں بھوجپوری میں پڑھنے لگے اور وہ بھی کمر اور انگ انگ کی اس انداز میں تعریف کی گٸی کہ شریف آدمی اٹھ کر چلا جاۓ ۔ اچھی بات یہ رہی کہ ناظمِ مشاعرہ نے تنقید کی اور ڈھکے چھپے انداز میں انہیں احساس دلایا ۔

اب رہے سامعین تومیں نے پہلے ہی ذکر کیا ہے وہ مجھے تین قسم کے نظر آۓ ایک تو وہ جو واقعی اشعار سمجھ رہے تھے اور اچھے شعر پر شاعر کی حوصلہ افزاٸ بھی کر رہے تھے لیکن انکی تعداد خال تھی اور انکی آواز ان لوگوں کے شور میں دب جاتی تھی جو واہ اور آہ کے بجاۓ کہتے تھے بھاگو واپس جاٸو ۔

دوسرے وہ تھے جو کچھ اشعار سمجھتے تھے اور کچھ ان کے سر کے اوپر سے گزر جاتا تھا یہی وجہ تھی کہ ان کے سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس اشعار پر داد دیں اور کس پر نہیں نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ انکی آواز بھی ہلڑ بازوں کی آواز میں پیوست ہو جاتی تھی ۔

تیسرے قسم کے سامعین وہ تھے جسے اشعار کی سمجھ تو دور وہ کمر گال اور زلف کے علاوہ اردو زبان کے دوسرے الفاظ سے بھی ناواقف تھے اور یہی وہ لوگ تھے جو شاعر اور شاعرات کی شکل کے حساب سے شور وغوغا مچا رہے تھے جس سے یہ بھی معلوم کرنا مشکل ہورہاتھا کہ انہوں نے داد دی ہے یا کچھ اور ایسے حالات میں مشاعروں کا رات بھر چلنا کم بڑی بات نہیں!!!

حافط حسان مدھو بنی گنور

ایک تبصرہ

  1. السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    محترم جناب ایڈیٹر صاحب!
    گزارش ایں کہ بصیرت آن لائن پہ شائع ہونے والی خبروں یا مضامین کی شائع ہونے سے قبل پروف ریڈنگ کروالی جائے تاکہ اس پورٹل کا معیار بلند ہوتا رہے…

    شکریہ
    محمد وجہ القمر فلاحی
    صدر چراغ ویلفیئر فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker