مضامین ومقالات

حقوقِ نسواں کا فریب

حقوق نسواں کا فریب

محمد افسر علی

( سب ایڈیٹر بصیرت آن لائن)

اسلام کی حقوق نسواں کی تاریخ درخشاں روایات کی امین ہے۔ روزِ اول سے اسلام نے عورت کے مذہبی، سماجی، معاشرتی، قانونی، آئینی، سیاسی، اور انتظامی کرادر کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اس کے جملہ حقوق کی ضمانت بھی فراہم کی،تاہم یہ ایک المیہ ہے کہ آج مغربی اہل علم جب بھی عورت کے حقوق کی تاریخ مرتب کرتے ہیں تو اس باب میں اسلام کی تاریخی خدمات اور بے مثال کردار سے یکسر صرف نظر کرتے ہوئے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، اسلام کی آمد عورت کے لئے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی، اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کردیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں،اور عورت کو وہ حقوق عطا کئے جس سے وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔
اسلام نے مرد کی طرح عورت کوبھی عزت، تکریم، وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد معاشرے کا ایک فعال حصہ ہوتا ہے، اسلامی معاشرے میں خواتین اسلام کے عطا کردہ حقوق کی برکات کے سبب سماجی، معاشرتی، سیاسی اور انتظامی میدانوں میں فعال کردار ادا کرتے ہوئے معاشرے کو اِرتقاء کی اَعلیٰ منازل کی طرف گامزن کرنے کا باعث بنتی ہیں۔
مغربی ڈاکو صرف حقوق نسواں مناتے ہیں مگر دیتے نہیں،بلکہ حقوق نسواں کے نام پہ عورت تک پہونچنے کاراستہ ہمورا کرتے ہیں آپ اندازاہ لگائیں انکے چند عجیب فلسفہ سے کہ اگر عورت اپنے گھر میں اپنے لئے اور اپنے شوہر کےلئے اور اپنے بچوں کےلئے کھانا تیار کرتی ہے تو یہ رجعت پسندی اور دقیانوسیت ہے۔
اور اگروہی عورت ہوائی جہاز میں ایئر ہوسٹس بن کر سینکڑوں انسانوں کی ہوسناک نگاہوں کا نشانہ بن کر ان کی خدمت کرتی ہے تو اس کا نام آزادی اور جدت پسندی ہے۔
اگر عورت گھر میں رہ کر اپنے والدین،بہن بھائیوں کےلئے خانہ داری کا انتظام کرے تو یہ قید اور ذلت ہے،لیکن دکانوں پر “سیلز گرل”بن کر اپنی مسکراہٹوں سے خریداروں کو متوجہ کرے یا دفاتر میں اپنے افسروں کی ناز برداری کرے تو یہ “آزادی”اور اعزاز ہے۔
جو لوگ یورپ اور امریکہ دیکھ کر آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ صبح کے بعد گھر میں تالا لگ جاتا ہے،شوہر اپنی ملازمت میں مشغول ہوتا ہے اسے اپنی بیوی کا پتہ نہیں،بیوی کو شوہر کا پتہ نہیں،بیٹے کو باپ کا اور باپ کو بیٹے کا پتہ نہیں،اس طرح زندگی بنالی کہ خاندان کا شیرازہ بکھر گیا۔
یہ کبھی نہیں سوچا کہ بچے کو بڑے فعال ادارے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ؛ ماں کی گود کی ضروت ہوتی ہے، اور اسکے نتیجہ میں ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہوگیا ہے۔
اگر موازنہ کیا جائے کہ جتنی پیداوار انہوں نے عورت کو باہر نکال کر حاصل کی ہے اس کے مقابلہ میں جو کچھ کھویا یعنی خاندانی نظام یہ اسکے مقابلہ میں بہت بڑا نقصان ہے۔
آج کل کی عورت اس دھوکہ میں ہے کہ باہر نکل کر میرااعزاز بڑھ گیاہے،میری عزت بڑھ گئ ہے،میری شہرت میں اضافہ ہوگیاہے،اور اس کو یہی سوجھایا گیااور دھوکہ دےکرباہر نکالا گیااور اب وہ باہر سے اندر آنے میں تذبذب کا شکار ہے۔
دھوکہ یہ دیاگیا ہےکہ تم باہر نکلو اور مرد جتنے اعزازات حاصل کررہےہیں یہ سب تم حاصل کرو!
تم بھی سربراہ حکومت بنو!
تم بھی بڑے بڑے کام کرو جیسے کہ دوسرے مرد کررہےہیں لیکن اٹھاکر دیکھ لیں کہ ان کڑوروں خواتین میں جن کو باہر لایا گیاتھا کتنی خواتین صدر بنیں اورکتنی وزیر اعظم
انگلیوں پر گنی جانے والی ہیں اور باقی ساری عورتوں کو سڑکوں پر گھسیٹ دیاگیا۔

(Email) afsarqasmi0@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker