شمع فروزاں

اصحاب کہف کی بستی میں!

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
(سکریٹری وترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
ہم لوگ سعودی ائیرلائنزکے ذریعہ تقریباََ ایک بجے دن حیدرآباد سے نکلے اور جدہ میں مختصر وقفہ کے ساتھ ساڑھے نو بجے شب میں اُردن کی راجدھانی عمان کے ائیرپورٹ پر پہنچے، یہ ائیرپورٹ اگرچہ بہت بڑا نہیں ہے؛ لیکن چھوٹا بھی نہیں ہے، جب ہم لوگ ائیرپورٹ پہنچے تو سارے لوگ ٹھنڈک سے کانپ رہے تھے، اور ٹھنڈک کی جتنی بھی چیزیں میسر تھیں، لوگوں نے وہ سب پہن رکھی تھیں، جیکٹ، سوئیٹر، اِنر، گرم پائجامہ، گرم موزے، دستانے اور سرپر گرم ٹوپی یا رومال، موسم کی خنکی کے ساتھ سردہوائیں لوگوں کی قوت برداشت کا امتحان لے رہی تھیں، اُردن ائیرپورٹ کا عملہ بہت شریف اور خوش اخلاق ہے؛ چنانچہ ہم لوگوں کو باہر نکلنے میں دیر نہ لگی اور چالیس پینتالیس منٹ میں سب لوگ باہر آگئے، ہمارے ٹور آپریٹر نے وہاں کے مقامی ٹور آپریٹر سے اپنا رابطہ قائم کر لیا تھا، اور وہی پورے گروپ کے لئے گائیڈ، ٹرانسپورٹ، رہائش اور کھانے کا ذمہ دار تھا، جیسے ہی ہم لوگ باہر نکلے، آرام دہ لگژری بس کے ساتھ میزبان کے نمائندہ باہر موجود تھے، ہم لوگ بس میں سوار ہوئے اور ایک ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کر کے اس ہوٹل میں پہنچے، جہاں ہمارا قیام تھا، یہ ہوٹل شہر کے قدیم علاقہ میں واقع ہے، جب ہم لوگ پہنچے تو کھانا آخری مرحلہ میں تھا؛ چنانچہ عبدالوحید صاحب کے حسب ہدایت کمروں میں جانے کے بجائے ہم لوگ سیدھے ریسٹورنٹ میں گئے اور کھانے سے فارغ ہو کر اپنے اپنے کمروں میں منتقل ہوگئے، بحیثیت مجموعی یہ سفر تقریباََ بارہ گھنٹے کا ہو چکا تھا، اور بہت سے لوگوں کو گزشتہ رات بھی سونے کا موقع نہیں ملا تھا، بعض حضرات کریم نگر اور اضلاع سے آئے تھے، ان لوگوں نے چوبیس گھنٹے سے آرام نہیں کیا تھا؛ اس لئے جلد ہی تمام لوگ گہری نیند کی آغوش میں چلے گئے، جہاں ایک طرف تکان کا شدت سے احساس تھا، وہیں غیر معمولی خوشی ومسرت بھی تھی کہ اس وقت ہم لوگ سرزمینِ شام میں ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی فضیلت بیان فرمائی ہے، اور جو عہد نبوی میں موجودہ شام، اردن، لبنان، اسرائیل اور فلسطین پر مشتمل تھا ۔
پروگرام کے مطابق ۵؍جنوری کو ہم لوگ صبح ساڑھے آٹھ بجے ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہو کر بس پر سوار ہوئے، ہماری پہلی منزل وہ چرچ تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک ماہ یا ۴۰؍دن کا وقت گزاراتھا، گویا اعتکاف کیا تھا، یہ بڑا سا چرچ ہے اور عیسائی وقف کے زیر انتظام ہے، اس چرچ میں پینٹنگ کے ذریعہ تورات میں مذکور بعض واقعات کو ظاہر کیا گیا ہے، جیسے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پرورش وغیرہ، یہ چرچ ایک پہاڑی پر واقع ہے، چرچ کے باہر ایک لمبا سا عصا اور اس میں لپٹا ہوا سانپ دکھایا گیا ہے، اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات– عصا اور سانپ– کی طرف اشارہ ہے، اس پہاڑ کی چوٹی سے دریائے اُردن اور بحر مردار تک کا علاقہ نظر آتا ہے، لوگوں نے بتایا کہ جب موسم صاف ہوتا ہے تو قبۃ الصخرۃ (سنہرا گنبد) بھی نظر آتا ہے، یہودیوں کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ بھی اس پہاڑی پر تشریف لائے تھے، انہوں نے یہاں مختصر قیام کیا تھا، اور یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا تھا کہ خدا کی طرف سے کون سی سرزمین ان کو عطا کی گئی ہے، اس روایت کی بنیاد پر یہود فلسطین، موجودہ اسرائیل اور اُردن کے بڑے حصہ کو ارض بنی اسرائیل قرار دیتے ہیں، اس پہاڑی سے خاصے فاصلہ پر پانی کے چند چشمے نظر آتے ہیں، یہودیوں اور عیسائیوں کا خیال ہے کہ یہی وہ چشمے ہیں جو اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لاٹھی مارنے پر نکل آئے تھے، تاہم یہ حصہ صحراء سینا سے کافی دور ہے، جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی کی دعاء کی تھی، یہ تمام واقعات جو اس خوبصورت اور بلند پہاڑی کی طرف منسوب ہیں، اسرائیلی روایات پر مبنی ہیں، قرآن وحدیث میں ان کا تذکرہ نہیں آیا ہے، اس پہاڑ کا نام بھی جبل موسیٰ ہے۔
یہاں سے ہم لوگ بالکل مخالف سمت میں چلے اور ڈیڑھ دو گھنٹے کا سفر طے کر کے اس میدان سے گزرے، جو ’’موتہ‘‘ کہلاتا ہے، یہ ایک مقام کا نام ہے، جہاں جمادی الاخریٰ ۸ھ میں مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان جنگ ہوئی تھی، اس جنگ کا سبب یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف روسائے مملکت کو قبول اسلام کے لئے دعوتی مکتوب بھیجے؛ چنانچہ حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شام کے مقام بُصری کے فرماروا کے پاس بھیجا، جب یہ موتہ کے پاس پہنچے تو قیصر روم کے ایک گورنر شرحبیل بن عمرو غسانی نے انہیں قتل کر دیا؛ حالاں کہ اُس وقت روم کی طاقت سے مسلمانوں کی طاقت کی کوئی نسبت نہیں تھی؛ لیکن یہ بات ضروری سمجھی گئی کہ غسانی کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے؛ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار افراد پر مشتمل ایک فوج وہاں کے لئے روانہ فرمائی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فوج کا امیر مقرر فرمایا، نیز یہ بھی ہدایت فرمادی کہ اگر زید بن حارثہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کمان سنبھالیں ،اور اگر ان کی بھی شہادت ہو جائے تو حضرت عبداللہؓ بن رواحہ امیر لشکر ہوں گے، اور اگر یہ بھی شہید ہو جائیں تو پھر جس پر مسلمانوں کا اتفاق ہو جائے،وہ امیر ہوگا، اس مختصر فوج کے مد مقابل رومیوں کا لشکر جرار تھا، جو ایک لاکھ فوجیوں پرمشتمل تھا، مسلمانوں نے بہت ہی حوصلہ وہمت سے کام لیا؛ لیکن تعداد میں غیر معمولی فرق تھا؛ اس لئے یکے بعد یگرے آپ کے مقرر کئے ہوئے تینوں امرائے لشکر شہید ہوگئے، پھر حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنے ہاتھ میں کمان لی اور اپنی ذہانت ، بہادری اور صلاحیت کے ذریعہ مسلمانوں کی فوج کو کسی نقصان کے بغیر نکال لائے، یہ واقعہ جمادی الاخریٰ ۸ھ میں پیش آیا۔
ہم لوگ میدان موتہ (جہاں جہاد کا واقعہ پیش آیا تھا) سے گزرتے ہوئے ان تینوں شہداء کے مزار پر حاضر ہوئے، حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت جعفر بن ابی طالب ؓکے مزارات ایک ہی جگہ پر واقع ہیں، اور وہاں ان صحابہ کی قبر کے ساتھ بڑی عظیم الشان مسجد تعمیر کی گئی ہے، جس میں وضوء اور استنجاء وغیرہ کی تمام سہولتیں حاصل ہیں، اور زائرین کی آمد ہوتی رہتی ہے؛ لیکن یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ان قبروں پر سجدہ نہیں کیا جاتا ،نہ حاجت مندوں کی چٹھیاں لگائی ہوئی ہیں، جیسا کہ ہندوستان میں بعض بزرگوں کے مزارات پر ہوا کرتا ہے، اس مسجد کی عمارت کی تجدید کا کام ۵۸۳ھ میںہوا، یہاں سے کچھ فاصلہ پر حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی قبر ہے، وہاں بھی حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، حقیقت یہ ہے کہ جب آدمی صحابہ کی قبروں کی زیارت کرتا ہے تو لگتا ہے کہ وہ اُسی عہد میں پہنچ گیا ہے، اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان رفقائے عالی مقام کی قربانیوں سے دل بھر آتا ہے۔
آج کے نظام میں اصحاب کہف کے غار کو دیکھنا بھی شامل تھا؛ لیکن اس مقام پر پہنچتے پہنچتے جس کو اصحاب کہف کی خواب گاہ قرار دیا جاتا ہے، عشاء کے قریب کا وقت ہو چکا تھا، اصحاب کہف کے غار پر آج کل ایک دروازہ لگا ہوا ہے، جو پانچ بجے شام میں بند کر دیا جاتا ہے، جب ہم لوگ وہاں پہنچے اور وہاں کے ایک پہرے دار سے گزارش کی تو اس نے ان صاحب کو خبر کی جن کے پاس کنجی ہوتی ہے، اللہ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ وہ ہم لوگوں کے مسافر ہونے کا خیال کرتے ہوئے آئے اور قفل کھولا، غار کے اندر بھی لائٹ لگی ہوئی ہے، ہم سب لوگ اندر گئے، غار کے اندر چار قبریں موجود ہیں، بقیہ تین قبریں نہ معلوم سطح زمین کے اندر ہیں یا شہر کے کسی اور حصہ میں، قرآن مجید میں جو تفصیل بتائی گئی ہے کہ سورج کا نکلنے اور ڈوبنے کے وقت کچھ اس طرح گزرہوتا تھا کہ دھوپ اندر نہیں آتی تھی، غار کے سامنے کا دروازہ اور پیچھے کی طرف کا ایک کھلا ہوا حصہ اسی انداز کا ہے، ایک قبر میں اوپر کے حصہ میں چھوٹا سا سوراخ ہے ،کہا جاتا ہے کہ اس سے انسانی ہڈیاں نظر آتی ہیں، ہمارے بعض ساتھیوں نے بھی موبائل کا ٹارچ روشن کر کے دیکھنے میں کامیابی حاصل کی، یہاں دعاء کا اہتمام کیا گیا اور اصحاب کہف کے واقعہ کو مختصر طور پر شرکاء کے سامنے پیش کیا گیا، قرآن نے نہ صرف اس واقعہ کو ذکر فرمایا ہے؛ بلکہ ایک سورت ہی اسی نام سے نازل فرمائی ہے، واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ روم کا بادشاہ دقیانوس ایک بُت پرست بادشاہ تھا اور وہ کسی مسلمان کے زندہ رہنے کا روادار نہیں تھا؛ چنانچہ راجح قول کے مطابق سات مسلمان نوجوان اپنے ایمان کو بچانے کے لئے آبادی سے بھاگ نکلے، اور طرسوس کے قریب ایک مقام پر ایک غار میں جا چھپے، اللہ تعالیٰ نے اُن پر نیند مسلط کر دی اور وہ تین سو سال گہری نیند سوتے رہے، پھر جب ان کی آنکھ کھلی تو انہیں ایسا لگا کہ گویا وہ صرف ایک آدھ دن سوئے ہیں، انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو شہر بھیجا کہ کھانے کی چیزیں لے کر آئے، جب وہ شہر گئے تو سکہ دیکھ کر لوگوں کو اندازہ ہوا اور پھر یہ راز کھلا ، اس وقت اہل ایمان کی حکومت قائم ہو چکی تھی، یہ اپنے غار واپس آئے اور اللہ نے ان کو موت دے دی، پھر لوگوں نے اس غار پر ایک مسجد تعمیر کر دی، اب وہ مسجد باقی نہیں ہے؛ لیکن اس سے متصل ایک بہت بڑی مسجد تعمیر کی گئی ہے، جو تمام سہولتوں سے آراستہ ہے، اس طرح اصحاب کہف کی زیارت کا شرف حاصل ہوا؛ اگرچہ اصحاب کہف کے مقام کے سلسلہ میں مفسرین اور جغرافیائی ماہرین کی رائیں مختلف ہیں؛ لیکن قرائن کی روشنی میں بظاہر یہی مقام اصحاب کہف کا معلوم ہوتا ہے، اصحاب کہف کے اس واقعہ میں مسلمانوں کے لئے عبرت ہے کہ صاحب ایمان کو مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کرنی چاہئے اور جب ایک مسلمان ثابت قدمی اختیار کرتا ہے تو اللہ کی طرف سے اسے غیبی مدد حاصل ہوتی ہے۔
ہم لوگ رات گئے اپنے ہوٹل میں واپس آئے، اور دیر تک وہی مقامات دماغ پر چھائے رہے، جہاں آج جانے کا موقع ملا تھا، آئندہ دن ہمیں فلسطین یعنی موجودہ اسرائیل کی طرف جانا تھا؛ چنانچہ صبح کو ہم لوگ اسی تیاری کے ساتھ نکلے اور جاتے ہوئے عمان سے باہر ایک اور شہر میں پہنچے، اور کئی چڑھائیوں کو عبور کرتے ہوئے نسبتاََ ایک اونچے پہاڑ پر آکر رُکے، یہاں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قبر ہے، جو حضرت یوسف علیہ السلام کے پوتے تھے، وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم خاص تھے، اور ایسے ہی جاں نثار تھے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے بعد انہیں نبوت سے سرفراز کیا گیا، قرآن مجید میں بھی دو مواقع پر ان کا ذکر خیر آیا ہے، اور حدیث میں ان کے ایک معجزہ کا ذکر آیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کے دن مشرکین کی کسی آبادی کا محاصرہ کر لیا تھا، اور تورات کی تعلیم کے مطابق ہفتہ کے دن جہاد کی ممانعت تھی؛ اس لئے انہوں نے دعاء فرمائی کہ جب تک فتح حاصل نہ ہو جائے سورج غروب نہ ہو، اور معجزاتی طور پر ان کے حق میں یہ بات پوری ہوئی۔
حضرت یوشع کے نام سے جو قبر پائی جاتی ہے، وہ کافی طویل تقریباََ ۱۲؍گز کے آس پاس ہے، اور اس پر سبز چادر بچھادی گئی ہے، یہاں پر حضرت یوشع کے نام سے ایک مسجد ہے، یہاں کا منظر بھی بڑا پُر کیف تھا، سرسبزو شاداب پہاڑی، اونچی اونچی عمارتیں، نشیب وفراز میں بَل کھاتی سڑکیں اور نیچے ہرے بھرے زیتون کے خوبصورت باغات، گویا دل کے سرور کے ساتھ آنکھوں کے سرور کا سامان بھی تھا، اسی دن ہم لوگو ں کا گذر ’’ اغوار‘‘ نامی جگہ سے ہوا، جہاں دو جلیل القدر صحابہ حضرت ابوعبیدہؓ بن جراح اور حضرت ضرارؓبن اَزوَر کی قبریں ہیں، حضرت ابوعبیدہؓ کو خود بارگاہ نبوی سے امین اُمت کا خطاب ملا تھا، اور ان کے مرتبہ ومقام کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے لئے جن حضرات کا نام پیش کیا گیا ، ان میں ایک نام اُن کا بھی تھا، عہد صدیقی میں آپ ہی لشکر شام کے امیر بنائے گئے، اور عہد فاروقی میں شام کے گورنر مقرر ہوئے، یہ حضرت ابو عبیدہؓ ہی کے ہاتھوں سلطنت روم مسلمانوں کے زیر اقتدار آئی، جو اس وقت دنیا کی سُپر طاقت تھی؛ لیکن خود حضرت ابوعبیدہؓ کے زہدو فقر کا حال یہ تھا کہ حضرت عمرؓ جیسے درویش صفت فرماں روا کی آنکھیں بھی ان کی حالت دیکھ کر نم ہو گئیں۔
حضرت ابو عبیدہؓ کے بعد حضرت ضرار کی قبر پر حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، شام کی فتوحات میں ان کی شجاعت وبہادری کا نمایاں حصہ ہے، اس میں اختلاف ہے کہ وہ کہاں شہید ہوئے؛ لیکن ایک روایت کے مطابق حضرت ضرار غزوۂ یرموک میں شامل تھے اور ان کا انتقال دمشق میں ہوا، اس وقت چوں کہ یہ پورا خطہ شام ہی کا حصہ تھا؛ اس لئے یہاں اُن کی قبر کا ہونا مستبعد نہیں، بہر حال یہاں بھی فاتحہ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی،ان مقامات سے گزرتے ہوئے ہم لوگ سرحد پر پہنچے اور وہاں سے فلسطین میں داخل ہوئے۔
یہ بات بہت محسوس ہوئی کہ اُردن اور اس کی راجدھانی عمان شہری ترقی، صفائی ستھرائی، کشادہ سڑکوں اور خوبصورت مسجدوں کے اعتبار سے تو ہے ہی بہتر، اس کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگ نرم خو، خوش گفتار اور محبت کرنے والے ہیں، مسافروں اور مہمانوں کے ساتھ عزت اور سلیقے سے پیش آتے ہیں، دینی کیفیت بہتر ہے، مسجدیں آباد ہیں، نمازوں کے بعد مسجد کے مائک سے قرأت قرآن مجید کا بھی رواج ہے، اور نوجوانوں کے چہرہ پر کثرت سے داڑھیاں بھی ہیں؛ البتہ مغربی سیاح بکثرت آتے ہیں اور ان کی آمد کی وجہ سے جو اثر پڑتا ہے، وہ ظاہر ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ اُردن میں بھی اور مصر میں بھی مقامی سیاح نے ہندوستان سے بڑی محبت کا اظہار کیا، اور اس کا سبب بتایا کہ شاہ رُخ خان، سلمان خان اور امیتابھ بچن کا تعلق ہندوستان سے ہے، وہ خاص کر شاہ رُخ خان کا بار بار تذکرہ کرتا تھا، اس سے ان کی فکری پستی اور ثقافتی اعتبار سے منفی تبدیلیوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جو ایک سمندری سونامی کی طرح عالمِ عرب پر حملہ آور ہے۔
(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker