Baseerat Online News Portal

حافظ قرآن کا مقام و مرتبہ

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

قارئین باتمکین!

راقم ان دنوں آندھراپردیش کے سفر پر ہے ۔ اور کل دن بھر ویشاکھا پٹنم میں قدرت کے حسین و دلکش مناظر دیکھنے کا بھر پور موقع ملا ۔ اور حکم ربانی قل سیروا فی الارض پر عمل ہوا اور خدا کی حیرت انگیز نشانی دیکھ کر ایمان مزید پختہ اور مستحکم ہوا ان شاء اللہ یہاں کے جغرافیائی و علاقائی حالات اور سفر کے تاثرات کسی دن لکھوں گا ۔ کیوں مشغولیت اس کی اجازت نہیں دے رہی اور تکان کی وجہ سے ذھن و دماغ اتنا حاضر بھی نہیں ہے ۔ خیر اس وقت میں تعلقہ سالور ضلع وجیہ نگرم کے مدرسہ حسینہ سالور میں ہوں، رات دس بجے یہاں پہنچا۔ یہ مدرسہ اگر چہ بہت بڑا نہیں ہے صرف ایک سو دس طلبہ ہاسٹل میں زیر تعلیم ہیں۔ لیکن الحمد للہ تعلیم و تربیت کا نظام نیز بچوں اور اساتذہ میں اخلاقی ڈسیپلن زبردست ہے یہ مدرسہ اس علاقہ کے لئے ہی نہیں بلکہ آندھرا پردیش کے ویشاکھا پٹنم کمشنری کا ایک آیڈیل مدرسہ ہے حفظ قرآن مجید کی تعلیم صحت تلفظ کے ساتھ اس مدرسہ کا خاص امتیاز ہے اور اس خطہ میں جہاں بھی کسی امام کی تقرری ہوتی ہے پہلے دو مہینے یہاں ان کی تربیت اور ٹریننگ ہوتی ہے تبھی وہ امامت کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں ۔ تبلیغی جماعت کے پرانے ساتھی اور قدیم احباب جس میں آندھرا اور اڑیسہ(یہ مدرسہ اڑیسہ کے باڈر سے قریب ہے سالور سے بیس کلو میٹر مغرب اڑیسہ کا خطہ شروع ہوجاتا ہے) کے ساتھی شامل ہیں ان کے مشورے سے یہاں کا پورا نظام چلتا ہے ۔ مدرسہ کے ذمہ دار مولانا علیم الدین صاحب اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا نور الدین صاحب قاسمی ہیں اول الذکر عربی اول و دوم میں مدرسہ ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی میں میرے کلاس ساتھی بھی رہے ( عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے ایک طرح سے میرے ابتدائی مربی بھی تھے ) یہ دونوں میرے انتہائی قریبی عزیز و رشتہ ہیں ۔ ان دونوں نے سرکاری ملازمت نہ اختیار کرکے جب کے ان دونوں کے لئے اس کا حصول آسان تھا دین کی خدمت اور دینی اعتبار سے بلکہ معاشی اعتبار بھی انتہائی پسماندہ مسلم علاقے میں تعلیم کے فروغ کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیا اور آندھرا کے اس علاقہ کو اپنی محنت کا مرکز بنایا ۔ ان دونوں عزیزوں کی محنت قربانی خلوص اور اللہ کی ذات پر زبردست یقین پر رشک آیا اور تعلیم و تربیت کے لائن سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا نیز حوصلہ کو مہمیز بھی ملا کہ انسان چاہ لے تو کسی بھی علاقہ کو چاہے وہ کتنا کوردہ اور بنجر کیوں نہ ہو زرخیز بنا سکتا ہے ۔

یہاں آنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہمارے تین بھتیجے( ہم زلف کے صاحبزادے محمد احسن محمد افضل اور محمد اکمل سلمھم اللہ تعالی) اور ایک خالہ زاد بھائی محمد عامر سلمہ آج حافظ قرآن ہو رہے ہیں اور ایک عظیم دولت سے مالا مال ہو رہے ہیں ۔ (اس مدرسہ میں حفظ کی صحیح اور مناسب تعلیم و تربیت کی وجہ سے میرے کئی عزیز بھی میرے مشورے سے برابر یہاں زیر تعلیم رہے اور اب ہی ہیں اور پھر آگے کی عربی تعلیم کے لئے مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ آتے ہیں)

خالص تکمیل حفظ قرآن کی تقریب میں شرکت کے میرا یہ سفر ہوا ہے اور قرآن مجید کی نسبت پر جب میرے عزیز بھائی (ہم زلف ) قاری مصلح الدین صاحب (حال متوطن حیدر آباد ) نے دعوت دی کہ میرے تینوں بچے ایک ساتھ تکمیل حفظ قرآن مجید کر رہے اور آپ کو اس تقریب میں شرکت کرنی ہے تو تمام تر عوارض اور مجبوریوں کے باوجود اس عظیم نسبت (نسبت قرآن) کی وجہ سے میں انکار نہیں کرسکا اور اس سفر کے لئے آمادہ ہوگیا ۔ بعید نہیں اللہ تعالٰی اس نسبت کی بنیاد پر ترقی درجات فرما دے اور اس سفر کو آخرت کے کامیاب سفر کے لئے ذریعہ بنا دے آمین ۔

قارئین کرام!

قرآن مجید اور حفاظ کرام کی عظمت کا کیا کہنا ۔ اللہ تعالٰی نے کس قدر واضح اور دو ٹوک انداز اور الفاظ میں یہ اعلان کیا ہے ۔ کہ انا نحن نزلنا الذکر و انا لہ لحافظون اس نصیحت نامہ یعنی قرآن کو ہم نے ہاں ہم ہی نے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ و نگہبان ہیں ۔

اور بار گاہ ربانی کی اس عطا کی کوئ حد ہے کہ جو صفت اللہ نے اپنے لئے مخصوص رکھی تھی ،اسے بندہ کو بھی نواز دیا یعنی اللہ ۰۰حافظ الذکر ۰۰یعنی قرآن کے محافظ و نگہبان ہیں تو بندہ کو توفیق بخش دی کہ وہ تیس پاروں کو حفظ کرکے حافظ قرآن کا مسعود و مبارک لقب حاصل کرے ۔ سچ ہے کہ

یہ رتبئہ بلند ملا جس کو مل گیا

 

حافظ قرآن کا درجہ اور مقام و رتبہ اسلام کی نظر میں بہت ہی بلند ہے ۔ قرآن مجید کی تعلیم و تعلم میں مصروف رہنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں اچھے اور پسندیدہ ہیں، چنانچہ ارشاد نبوی ہے کہ تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن کریم سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ۔خیرکم من تعلم القرآن و علمہ (بخاری فضائل القرآن )

حافظ قرآن کا اللہ تعالی کے نزدیک بڑا مقام ہے اور یہ مقام اور تقرب حفظ قرآن مجید کی برکت کی وجہ سے بے ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مبارک مجلس میں ارشاد فرمایا : کہ اللہ تعالی کے کچھ خاص بندے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کے اس ارشاد پر صحابئہ کرام رضی اللہ عنہم متوجہ ہوئے اور اشتیاق و تجسس کے ساتھ سوال کیا ،یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حافظ قرآن، ان کا بڑا مقام ہے اور یہ لوگ اہل اللہ اور خاصان خدا ہیں ۔( ابن ماجہ )

نسبت بڑی اونچی چیز ہے اور نسبت ہی سے کسی چیز کی قیمت متعین ہوتی ہے ۔ چوں کہ قرآن مجید کلام ربانی ہے ۔ خدا کا کلام ہے جو تمام کلاموں میں اعلی اور ارفع ہے ۔ اسے جب اپنے سینے میں محفوظ کرلیا جائے تو اس نسبت سے حافظ قرآن کا مقام و رتبہ تو بلند ہو ہی جائے گا ۔ اس حقیقت کو ہم اس مثال بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جب کسی شخص کا کسی بادشاہ حاکم یا بڑے عہدے دار سے کسی طرح کا تعلق اور رابطہ ہو جاتا ہے تو اس کا شمار خاص لوگوں میں ہونے لگتا ہے اور وہ شخص اس تعلق کو اپنے لئے فخر و عزت کی چیز سمجھنے لگتا ہے گویا اسے بہت بڑی دولت ملی گئی، جب اس عارضی فانی اور ناپائیدار دنیا کے تعلق کا یہ عالم ہے تو اس شخص کی خوشی کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے جو اپنے رب حقیقی کا مقرب اور خاص ہوجائے ۔ واقعتا وہ انسان قابل رشک اور لائق صد فخر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حفاظ کرام کو خاصان خدا کہا گیا ہے ۔

امت کا یہ طبقہ یعنی حفاظ کرام کےطبقہ کو بڑی عزت اور وقار حاصل ہے ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : اللہ تعالٰی کی تعظیم میں بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا اور اس حافظ قرآن کا اکرام کرنا جو افراط و تفریط سے خالی ہو اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا ہے ۔ (ابو داؤد ) طبرانی کی ایک روایت ہے کہ حفاظ قرآن جنتیوں کے مانیٹر ہوں گے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس کو حفظ کیا اور اس کے حلال و حرام کو سمجھا ۔ اللہ تعالٰی اس کو جنت میں داخل فرمائے گا اور اس کے گھرانے میں سے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں سفارش قبول کرے گا جن کے لئے جہنم واجب ہوچکی ہو۔ (مشکوة)

ایک روایت میں ہے جس کا ذکر التبیان میں بھی ہے کہ تین قسم کے لوگوں کے حق میں سوائے منافق کے اور کوئی ہلکا نہیں جانتا امام عادل یعنی انصاف ور بادشاہ و حاکم بوڑھا مسلمان اور حافظ قرآن ۔

لیکن یہ یہ بات بھی ذھن میں رہے کہ حفاظ کرام کو ملی یہ بشارتیں صرف ان حفاظ کرام کے لئے ہیں جو قرآن کریم کے تقاضوں پر عمل بھی کرے جن کے اندر تقوی و خوف خدا ہو ۔ صالحیت ہو ۔ حفظ قرآن کی جو یہ عظیم دولت ملی ہے اس کی حفاظت کی فکر بھی کرتے ہوں ۔ اور ساتھ ہی اپنی نشست و برخاست عادات و اطوار اخلاق و کردار وضع قطع وہ ثابت کریں کہ وہ واقعتا حافظ قرآن اور خدا کے نمائندے ہیں ۔ نیز ان کا سینہ طمع لالچ اور تمام اخلاقی و روحانی بیماری پاک ہو ۔

 

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حافظ قرآن کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور بہت سے امور میں ان کو فوقیت اور ترجیح دیتے تھے اور جن کو قرآن زیادہ یاد ہوتا سفر میں اور گاؤں اور قبیلہ کی مسجد میں ان کو امامت کے لئے متعین کرتے تھے ۔ بلکہ بہت سے موقع پر فوج کی قیادت کے لئے بھی زیادہ قرآن مجید یاد رکھنے والے کو آپ نے قائد اور امیر فوج بنایا ۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ تم میں سب سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے تو سب نے تفصیلات بتائیں ۔ ایک صحابی نے جب یہ کہا کہ مجھے سورہ بقرہ اور فلاں فلاں فلاں سورہ حفظ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہی اس فوج کا امیر مقرر فرمایا ۔ ایک صحابی نے اپنے والد سے روایت کردہ اس واقعہ کو بیان کیا کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میرے قبیلے کے لوگ مسلمان ہوئے اور اسلامی احکام و مسائل سیکھنے کے لئے قبیلے کا ایک وفد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ روانہ ہوا جس میں میں بھی شامل تھا کچھ دنوں کے بعد جب وفد کی واپسی ہوئی تو اس موقع پر میں نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول! ہم میں سے امامت کا فریضہ کون انجام دے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کو قرآن زیادہ حفظ ہوگا چنانچہ اس وفد میں سب سے زیادہ سورتیں مجھ ہی کو یاد تھیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہی امامت کے لئے مکلف بنایا اور مجھے ہی اس کا اہل قرار دیا ۔

ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان قریش کی امامت کیا کرتے تھے اور ان کے پیچھے عبد الرحمن بن ابی بکر بھی ہوتے تھے یہ محض اس لئے کہ وہ سب سے زیادہ قرآن مجید جانتے تھے ۔ (ابن سعد) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جس وقت اہل دیوان کا حصہ مقرر کیا تو جس طرح نیکیوں میں اور اسلام لانے میں سبقت کرنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جہاد کرنے والوں کو حصہ دئے جانے میں ترجیح دی جاتی تھی اس طرح انہوں نے قرآت قرآن کے اعتبار سے بھی فضیلت دی تھی یعنی جن لوگوں کو قرآن زیادہ یاد تھا ان کے حصے اوروں سے زیادہ مقرر کئے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں حفاظ کرام کے لئے باضابطہ وظائف بھی جاری فرمائے تھے ۔( ابن سعد) بحوالہ سہ ماہی زبان خلق )

(بصیرت فیچرس)

You might also like