جہان بصیرتنوائے خلق

عالمی یوم خواتین کی آڑ میں اسلام کے خلاف غلط فہمی پیدا کرنے کی ناپاک کوشش

مکرمی!

۸/ مارچ کو یوم خواتین کے نام پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔اور اسلام کے بارے میں غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے اور یہ بدگمانی پیدا کی جاتی ہے کہ اسلام عورتوں کو اس کا جائز حق نہیں دیتا ہے۔ جبکہ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو عورت کو اس کا جائز حق دلاتا ہے۔ورنہ

بعثت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وقت اور اس سے پہلے سب سے زیادہ جو مظلوم اور ستم رسیدہ طبقہ تھا وہ خواتین اور غلام،ان دو طبقوں کی آفتاب نبوت کے طلوع( ہونے) کے وقت جو حالت اور پوزیشن یہ تھی کہ بعض قبیلے تو ایسے تھے کہ بچی کی ولادت کو منحوس اور شرم و عار کی بات سمجھتے تھے اسی لئے بچیوں کے پیدا ہونے پر انہیں زندہ در گور کر دیا کرتے تھے۔

جبکہ اسلام نے انہیں ہر طرح کے حقوق سے مالا مال کیا ہے۔عورت جس رشتہ میں بھی بندھی ہو اس کے تعلق سے ویسی ہی تعلیمات دی گئی ہیں۔عصر حاضر میں عورت اپنے آپ کو کم تر سمجھتے ہوئے مرد کےمساوی حقوق کے حصول کے لیے سرگرداں ہے جسکی وجہ سے وہ اپنا اصل مقام کھو بیٹھی ہے ۔جب کہ اسلام نے عورت کو معزز مقام دیاہے۔شریعت مطہرہ کی نظرمیں عورت دنیاکا بہترین اور سب سے قیمتی خزانہ ہے ۔رسول‎ﷺ نے فرمایا:الدنیا کلہا متاع وخیر متاع الدنیا المراۃ الصالحۃ(صحیح مسلم ،کتاب الرضاع ،2668 )ساری دنیا سامان ہے اور دنیا کا سب سےبہترین سامان نیک عورت ہے۔اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ہے لیکن آج کی ماڈرن دنیا نے اسے شمع محفل بنادیا ہے اور افسوس اس بات پر خواتین خود اپنے لئے اس رحمت بھرے نظام سے دور ہورہی ہیں کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیا گیا ہے کہ مردوں کے شانہ بشانہ انہیں چلنا چاہئے جبکہ یہ ان کی فطرت کے بھی خلاف ہے،ماڈرن دنیا نے انہیں سنہرے خواب دکھاکر فطرت سے بغاوت پر آمادہ کردیا ہے جس میں ان کے لئے مشقت اور مردوں کے لئے راحت ہے۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر مفتی محمد عاشق صدیقی ندوی نے مسجد شاہ صاحب پھلت میں نماز جمعہ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ عورتوں کی صنفی نزاکتوں کا اسلام میں کتنا خیال رکھا گیا اس اندازہ اس واقعہ سے لگائے کہ ایک موقع پر حضرت انجشہ رضی اللہ عنہ اونٹ پر اپنی بیوی اور بچوں کو سوار کرکے اونٹ تیز ہکا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک حضرت انجشہ پر دور سے پڑ گئ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا مخاطب کرکے فرمایا :یا انجشہ ! رفقا بالقوایر

انجشہ ان آبگینوں،صنف نازک کا خیال رکھو !خبر دار اونٹ کو تیز مت ہانکو!

،قربان جائیں آپ علیہ السلام کی ذاتی پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مستقل شخصیت کی مالک قرار دیا،ہر طرح سے اسے ملکیت میں تصرف کا پورا حق دلایا، ان کی تعلیم و تربیت کا خاص انتظام کیا گیا،ان کے لئے خصوصی وعظ و نصیحت کی مجلس قائم کی گئی جس سے سماج میں عورت کو برابری کا حق ملا اور اس صورت حال سے یہ پورا طبقہ باہر نکل پایا جس میں کہ صدیوں سے چلا آرہا تھا ۔مردوں پر عورتوں کی ذمہ داری کو مردوں پر لازم قرار دیا تاکہ ہر رشتہ میں عورت کو تحفظ ملے۔ اس لئے انسانیت کے اس بڑے طبقہ کے لئے راہ نجات صرف اسلامی تعلیمات ہی ہوسکتی ہیں اور یہیں اس کو اماں مل سکتی ہے۔

عاشق پھلتی ندوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker