جہان بصیرتنوائے خلق

مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی

مکرمی!

تعلیم ہر انسان چاہے وہ آمیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے. یہ انسان کا حق ہے، جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا. اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں. تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے. یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے. تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے. دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے، مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے، جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے، اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے. لیکن رونا اس بات کا ہے کہ ہندوستان کے مسلم کمیونٹی میں تعلیم کی اس قدر گراوٹ کیوں ہے؟ اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ دورِ حاضر میں دیگر شعبوں کی طرح مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کا گراف بھی تشویش ناک حد تک قابل فکر ہے. سچر کمیٹی کے سب سے تازہ رپورٹ کے مطابق بہ حیثیتِ مجموعی مسلمان ہندوستان میں نہایت پسماندہ ہیں ،نہ تو معاشی طور پر مضبوط ہیں اور نہ ہی تعلیمی میدان میں. تعلیم کے علمبردار ہونے کے باوجود مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی نہایت درجہ تشویش ناک ہے. تعلیم اور روزگار کی پوزیشن اور پالیسیوں سے ملک کا ہر فرد واقف ہے. لیکن ملک کے دیگر صوبوں کے بالمقابل بہار تعلیم کے شعبے میں کچھ زیادہ ہی پسماندہ ہے – سرکاری اداروں کی صلاحیت کا حال یہ ہے کہ سرکار خود یہ بات تسلیم کر چکی ہے، کہ ریاستی اداروں کے پانچویں کلاس کا طالب علم نجی اور غیر سرکاری اداروں کے دوسری جماعت کی ریاضی حل نہیں کرسکتا. اگر آپ اپنے گاؤں، علاقے اور شہر کا تفصیلی جائزہ لیں تو آپ کو بآسانی بہت سے ایسے نادار اور مفلس طلبہ ملینگے جن کے اندر صلاحیت و قابلیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، لیکن گھر کی معاشی بدحالی کی وجہ سے وہ اپنی تعلیم آگے تک نہیں لے جا سکتے. ان میں سے کچھ طلبہ خود ٹیوشن پڑھا کر اپنی پڑھائی کر رہے ہیں جبکہ طلباء کی ایک بڑی تعداد کو یہ فکر ستارہی کہ آگے کی مزید تعلیم کیسے پوری ہوگی. اور کچھ مدارس کے طلبہ کا حال یہ ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں کسی مدرسے سے رسید لے کر چندہ کرتے ہیں اور جو بھی پرسینٹج ملتا ہے اسی سے اپنے پورے سال کی پڑھائی میں صرف کرتے ہیں اور کچھ طلبہ تراویح کی اجرت صرف اس لئے بھی لیتے ہیں تاکہ وہ آگے کی تعلیم بآسانی پوری کر سکیں. لیکن آج ہمارا معاشرہ اور سماج جلسے جلوس اور مشاعرے میں لاکھوں کروڑوں روپے صرف کررہے ہیں. یہاں سوال یہ ہے کہ ایسے میں سماج کے ان ہونہار طلبہ پر ہماری نظر کیوں نہیں جاتی؟ ہمارے خیال میں یہ کیوں نہیں آتا کہ ہم ان بچوں کی تعلیم کے لئے بھی اسی طرح سماج کے درمیان ایک مہم چلائیں اور باہمی تعاون سے ان کی تعلیم کا خرچ اکٹھا کریں؟ کیا یہ جلسے جلوس اور مشاعرے منعقد کروانا ان بچوں کی تعلیم سے زیادہ اہم ہے؟ جو اپنی بدحالی اور مفلسی کی وجہ سے تعلیم سے کوسوں دور ہیں. آپ تعلیمی شعبوں میں اصلاح کے خاطر سرکار کے خلاف احتجاج کیوں نہیں کرتے؟ یہ بات یاد رکھیں کہ تعلیمی ناخواندگی جلسے جلوس اور ریلیاں نکالنے سے دور نہیں ہو سکتا. بلکہ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ تعلیمی ناخواندگی اور پسماندگی کیسے دور ہوگی. اس لئے مذہب و سیاست کے نام پر کسی کو اپنے استحصال کا موقع ہرگز نہ دیں، بلکہ جو آپ کی قیادت و رہبری کا دعوٰی کرتے ہیں، ان کی اندھی تقلید کے بجائے جہاں ضرورت ہو ان سے سوال کردیئے، ان سے پوچھے کہ وہ مسلم سماج کے مذہبی اور سیاسی قیادت کے دعوے میں کتنے سچے ہیں. ان کے سامنے سماجی ضروریات و مسائل کو رکھیے، اگر وہ ان مسائل کے دور کرنے کی سنجیدہ مظاہرہ کرتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ ان کا مکمل بائیکاٹ کیجئے.

مفتی محمد قیصر قاسمی

کٹیہار

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker