جہان بصیرتنوائے خلق

نوجوان نسل اور سوشل میڈیا

مکرمی!

سوشل میڈیا کسی بھی شخص کے اظہارخیال کا بہترین ذریعہ ہے خاص کر نوجوان نسل اس کا استعمال بھی بڑے ہی آب وتاب سے کر رہی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے علاوہ جو عوام کے سامنے اپنی باتوں کے رکھنے کے ذراٸع ہیں وہاں تک ہر شخص کی رساٸ بھی نہیں ہے اور دوسری سب سے بڑی مشکلات یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا عام طور پر کسی نہ کسی ذہنیت کی غلام ہے لہزا ضروری ہے کہ اگر آپ کسی بات کو اس ذراٸع سے عوام کے سامنے پہونچانا چاہ رہے ہیں تو ان کے مطابق ہی اپنی باتوں کو پیش کیجیٕے ۔ یہ بات اچھی تو نہیں لیکن حقیقت بر مبنی ضرور ہے ۔

ایسے حالات میں نوجوان نسل کا سوشل میڈیا کی طرف رجحان تعجب خیز بھی نہیں لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس کا استعمال جس انداز میں اور جس مقاصد کے لیے ہونا چاہیے شاید بہت کم لوگ کر پاتے ہیں میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان کی تعداد بالکل صفر ہے بلکہ کچھ لوگ اپنے مقاصد کے لیے جس اچھے انداز میں اس کا استعمال کر رہے ہیں ان کی تعریف ان کا حق بنتا ہے ۔

کسی بھی قوم کی نوجوان نسل اس کا سرمایہ ہوتی ہے قوموں کے عروج وزوال اس کی حرکت وعمل پر منحصرہے اگر یہ نسل صحیح راستوں کا تعین کرلیتی ہے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے ۔ جسے آنیوالی نسل اپنے لیے مشعل راہ بناتی ہے اور دوسری قوموں کے درمیان فخریہ بیان بھی کرتی ہے ۔

اس کی مثال کے لیے محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی، نورالدین زنگی ان جیسے ہزاروں اسلامی ہیروز سے پوری اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے جسکے مثل دنیا کے کسی بھی قوموں کے پاس موجود نہیں ان سارے ہیروز نے اپنے زمانے کے لحاظ سے دنیا کے سامنے جو خدمات پیش کی ہیں نہ صرف قابل ستاٸش ہے بلکہ ہمارے لیے مشعل راہ بھی ہے ۔

قیادت و حکومت کی بات کی جاۓ تو رحمت الللعالمین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنکی زندگی کا ایک ایک لمحہ وحی الہی اور ہمارے لیے بیش بہا سرمایہ ہے انکی قیادت اور پھر اس کے بعد انکے رفقائے خاص خلفاۓ راشدین سے لیکر خلافت عثمانیہ تک دنیا کے سامنے کھلی آنکھوں سے دیکھنے والی مثالیں موجود ہیں ۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنا بہترین سرمایہ ہونے کے باوجود ہمارے آج کے وقت کے موجودہ لیڈروں میں نہ وہ اسلامی رنگ ڈھنگ ہے اور نہ ہی قومی غیرت وحمیت بلکہ اپنی معصوم قوم کا جس طرح سے یہ سودا بازاری کرتے ہیں کہ شیطان بھی شرما جاۓ ۔ اپنی کرسیوں کے لیے ایمان کا سودا چشم زدن میں کرلیتے ہیں، وعدہ خلافیاں ان کا وتیرہ بن چکا ہے ۔ یہ بظاہر جو قوم کے مسیحا بنے نظر آتے ہیں اصل میں قوم کے یہی قاتل ہوتے ہیں ۔ اگر آپ ان کی بھیڑ میں اچھے لوگوں کی تلاش شروع کریں تو آپکو اونٹ کے منہ میں زیرے والی مثال قاٸم ہوتی نظر آٸیگی ۔

ایسے حالات میں خوش آٸند بات یہ ہے کہ آج کی نوجوان نسل اب اتنی بھولی بھالی نہیں رہی کہ ان کی ہر بات پے لبیک کہتی نظر آۓ بلکہ یہ اپنے راستے چننے میں پوری طرح سے خود کو باصلاحیت ماننے لگی ہے اور اگر انکے نظریات کے خلاف بات کی جاۓ تو یہ سوال کرنے میں کوٸ کوتاہی نہیں برتتے اور پھرغلط روش اور وعدہ خلافیوں پر اعتراضات کرنے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے ۔

لیکن اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کی ہمیشہ سے ایک کمزوری رہی ہے کہ یہ کبھی کبھی جزباتی ہوجایا کرتے ہیں جسکی وجہ سے شاطر زہنیت کے لوگوں کے یہ آلہ کار بھی بن جاتے ہیں کبھی ان کے ذریعہ سے کچھ خاص لوگوں پر، کبھی کسی پارٹی اور جماعت پر اعتراضات کی بارش کرادی جاتی ہے اور پھر وہ اپنی سیاسی روٹیاں آسانی سینک لیتے ہیں اور انہیں پتا تب چلتا ہے جب وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

کچھ نوجوانوں کے آزادانہ طور پر اعتراض بجا بھی ہوتے ہیں لیکن ان کا انداز بہت ہی بھونڈا ہوتا ہے وہ کسی خواص شخصیت کی کمی کو لیکر اس انداز میں شور مچاتے ہیں کہ اعتراض کرنے والے اور جس پر اعتراض کیا گیا ہے دونوں کے مشترکہ دشمن کو فاٸدہ پہونچ جاتا ہے اس کے بعد نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم والا حال ہوجاتا ہے ۔

لہذا ضروری ہے کہ جاٸز اعتراضات کیے جائیں، کیونکہ یہ کسی قوم کے زندہ ہونے کا ثبوت بھی ہے لیکن تہذیب وتمدن کو بالاۓ طاق نہ رکھا جاۓ اور ساتھ ہی حالات پر نظر رکھتے ہوۓ سیاسی شعور بھی پیدا کی جاۓ۔

محمد حسان سلفی گنوروی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker