جہان بصیرتنوائے خلق

ایسی زبان درازی مناسب نہیں ہے!

مکرمی!

حضرت مولاناسید سلمان حسینی ندوی صاحب سے منسوب بیانات کہ رام امام الہندتھے اوردیگرپیغمبروں کی طرح وہ بھی ایک پیغمبرتھے اوربابری مسجد کی جگہ ہندووں کے حوالہ کردیناچاہیے وغیرہ وغیرہ وہاٹس ایپ پرخوب وائرل ہورہاہے اورلوگوں نے سارے حدود کو پھلانگ کر خوب جی بھرکے تبصرے بھی شروع کررکھے ہیں اوراس میں فرق مراتب اورفرق عمر وعلم کابھی پاس ولحاظ ختم کررکھا ہے افسوس کی بات تویہ ہے کہ بعض اہل علم نے بھی یہی وطیرہ اختیارکرلیاہے ۔ حالانکہ نفس کاعمل دخل ہردوجانب ہے اورقرآن مجیدکی زبان میں ہرشخص یہ کہنے کامکلف ہے کہ ۔فلاتزکوانفسکم ھو اعلم بمن التقوی ۔ اور۔ وماابرئ نفسی ان النفس لامارتہ بالسوء ۔

حالیہ دنوں میں حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کاخط بنام حضرت مولاناسیدسلمان حسینی ندوی دیکھ لیجیے کہ کس قدراحترام کوملحوظ رکھا گیا ہے اختلاف پر ۔

بھائ اس دورمیں نفاق اورحسدوکبر کی ارزانی ہے۔ نئے نئے لونڈوں نے جو ابھی ٹھیک سے بالغ بھی نہیں ہوئے ہیں انہوں نے ردائے حسد ونفاق اوڑھ لیاہے اوروہ مفسد اورفتنہ پرور ہوکر۔ انما نحن مصلحون۔ کا اعلان کرنے لگے ہیں ۔ امت کواورامت کے بالغ نظر صاحب علم وفضل کوچاہیے کہ ایسے نوخیز چالباز منافق مولوی نما لوگوں کولگام دینے کی فکرکریں ۔ ممبئ میں بھی آئے دن نئے نئے منافق چالباز فریبی لوگ مولویوں کی شکل میں پیدا ہوتے رہتے ہیں جودیگرکام کرنے والے علماء وارباب مدارس کے خلاف گالیاں اوران کوبدنام کرنے کے حربے ومنصوبے اختیارکرکے ان کوبلیک کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ضرورت ہے کہ لوگ مصلحت پسندی سے اوپراٹھ کر اس قسم کے فتنوں کی سرکوبی کریں چونکہ فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے ۔ مولاناسیدسلمان حسینی ندوی کے افکاروخیالات کی تردید تحقیق کے بعداگر ندوت العلماء لکھنوء اوردارالعلوم دیوبند کے مؤقر ذمہ داران حضرات شروع میں ہی دوٹوک لفظوں میں کردیتے تو امت میں یہ بے چینی اوراضطراب کاقصہ ہی ختم ہوجاتا اور یہ صورتحال سامنے نہیں آتی کہ کسی بھی صاحب ایمان اورصاحب علم وفضل کی اس طرح تذلیل ہوتی اوران کی طرف فرضی باتیں منسوب کی جاتی ۔

ابھی حالیہ دنوں میں مجھے ایک بارپھرادارہ دعوت السنہ کے 22 ویں کل ہندمسابقتہ القرآن کے موقع پر ایک تلخ تجربہ سے گذرنا پڑا۔ ہوا یوں کہ ایک نوعمر مولوی جو دوتین سالوں سے مجھ سے عقیدت رکھتے تھے اورمیری آفس میں بھی ملاقات کیلئے آچکے تھے مگرمیری ملاقات نہ ہوسکی تھی ۔ اور کسی تقریب کے سلسلہ میں ملاقات ہوگئ پھرانہوں نے اپنی تعریف اوراپنے عزائم بتائے ساتھ ہی دیگر علماء کی شکایتیں بھی کیں تو ہم نے سوچا کہ اس کی اصلاح کرکے اس کوکام پرلگادیاجائے ہوسکتاہے اللہ پاک اس کی اصلاح کردیں پھر نفاق برمبنی سکئہ رائج الوقت لفظ حضرت کی تکرار کے ساتھ وہ مجھ سے لگارہاہے میں نے اس کو مسابقہ کی کچھ مختصرذمہ داری بھی دی اوراس نے اپنے حسب مشاء مجلس استقبالیہ بھی بنایا اوراس کانام بھی شائع ہوا ۔اب اس نے حسب عادت لوگوں سے چندہ اینٹھنا شروع کردیا مجھے اس کی اطلاع ملی مگر میں نے سوچا کہ اس کی اصلاح مقصودہے اس لئے ابھی تعارض نہ کیاجائے بعد میں دیکھیں گے پھراس خبر کی صحت پربھی اعتماد مشکل تھا اس لئے بحمد اللہ بدگمانی سے بچارہا ۔ اب دیکھیے عین پروگرام کے دوسرے دن ایک شخص نے مذکورہ منافق کیلئے دریافت کیا کہ اس کو بھی پروگرام میں کچھ دیں گے ؟ تومیں نے کہا کہ اس نے اپنے ذمہ جوکام لیاہے اس کوتواب تک پورا نہیں کیا اوربینر پربھی اس کانام آگیا دعوت نامہ میں اس کانام چھپ گیا اور اب اس کو کیا دونگا بس یہ کافی ہے ۔ ہماری اس گفتگو کو اس دریافت کرنے والے نے کس طرح اس منافق تک پہونچایا اس کاعلم تواللہ ہی کو ہے مگر وہ نوخیز چالباز منافق جس کی زبان مجھے حضرت کہنے سے تھکتی نہیں تھی اورتعریف کرنے سے رکتی نہیں تھی اس کودفعتہ میں برائیوں کامرکز نظرآنے لگا اوراس منافق نے جب پہلی بار مسابقہ میں مکہ مکرمہ ومدینہ منورہ کے دوشیوخ اورعلماء وصلحاء اورشہر کےاکثر مشاہیر عمائدین کودیکھا تواس کاجذبہ حسد شباب اختیارکرگیا اوراس نے مسابقہ میں ہی شرانگیزی کا ارادہ کرلیا مگر کسی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ یہ اطلاعات مجھے مسابقہ کے بعد ملی اوراس کومیں نے الخیرفی ماوقع سمجھ کر نظراندازکردیا ۔اوران حضرات پرمیں نے خفگی کااظہارکیا ان لوگوں کومجھے اسی وقت بتاناچاہیے تاکہ اس منافق کومجمع عام میں طشت ازبام کردیاجاتا کہ لوگ آئندہ اس کے شرسے محفوظ ہوجاتے۔

مسابقہ کے بعد جب علماء وصلحاء کو یہ بات معلوم ہوئ تواکثر حضرات نے بتایا کہ ہم لوگوں کو اس کے فاسقانہ اورمنافقانہ احوال معلوم تھے اورحیرت تھی کہ وہ آپ کے ساتھ ہے۔؟ میں نے عرض کیاکہ آپ حضرات جانتے ہی ہیں کہ میں حسن ظن کامریض ہوں اورمیراکام ایسے لوگوں کی بھی اصلاح ہے جومجھےگالیاں دیتے ہیں یاجو مجھ پراتہامات والزامات منسوب کرتے ہیں یامیرے تجسس یاٹوہ میں رہتے ہیں یاغیبت کرتے ہیں یاعصبیت ونفرت کااظہار کرتے ہیں وہ دراصل میرے محسن ہیں دنیاوآخرت کے اعتبارسے بھی ۔ برسبیل تذکرہ یہ ذکربھی مناسب ہوگا منافق مذکور لوگوں کوپولس کاخوف اورایک سیاسی مسلم لیڈد سے تعلق کابھی دھونس جماتا رہتاہے تاکہ لوگ اس سے ڈرتے رہیں ۔

الغرض اس قسم کے حالات کام کرنے والوں کے ساتھ یامشاہیرعلماء کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں اس لئے اصلاحی کام کرنے والوں کوبھی کسی کومعتمد بنانے سے پہلے بہت سوچنے کی ضرورت ہوگی۔

حضرت مولاناسجادنعمانی مدظلہ نے نیرل میں کام شروع کیا مولوی نما منافقین وحاسدین نے وہاٹس ایپ پرکیاکیا نہیں لکھا ۔اسی طرح آج کل مولاناسید سلمان حسینی ندوی کے خلاف ہجو کاایک سلسلہ چل پڑاہے ۔ اللہ کے واسطے اختلاف کواختلاف ہی کے دائرے میں رکھیں کسی کی ذاتی زندگی میں تانک جھانک کرنے سے گریز کریں کسی مسلمان خواہ عالم ہویاغیرعالم اس کی تذلیل اختیارکرکے یااس کی جانب الزامات لگاکر اللہ کے غضب کودعوت نہ دیں ۔یادرکھیں ۔ ان بطش ربک لشدید ۔

ساری قوتیں اورداداگیری اللہ کی پکڑ کے سامنے دھری کی دھری رہ جاتیں ہیں ۔ منافقین اورحاسدین پہلے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں پھردوسرے کے گریبان کی تلاشی لیں ۔ بقول خواجہ عزیز الحسن مجذوب رح ؟

نامناسب ہے اے دل ناداں

اک جذامی ہنسے زکامی پر

کسی نے یہ درست تجزیہ پیش کیاہےکہ ۔

آسمان پر تھوکنے کی کوشش میں تھوک

خود منہ پر آکر گرتا ھے

غلطی اتنی بڑی نہیں ہوتی جتنی لوگ بنا دیتے ہیں

اور غلطی بھی وہ نکالتے ہیں جو صرف واٹسپ اور فیسبک پر مفتی بنے پھرتے ہیں

جن کو غلطی نکالنے کا حق ھے انہوں نے اب مولانا صاحب کے متعلق ایک لفظ نہیں کہا اور اگر کہا بھی ھے تو بھت ہی ادب واحترام اور احتیاط کے دائرہ میں کہا ھے

اور ایک ہم ہیں کہ کسی کی ذرا سی کمی مل جائے بس پھر تو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اسی کمی پر جھونک دیتے ہیں

اللہ تعالی ہمیں عقل سلیم عطا فرمائے۔ اورمنافقت ۔مداہنت اور عداوت نیز حسد سے ہم سب کی حفاظت فرمائے آمین

محمد شاہد الناصری الحنفی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker