ہندوستان

دینی تعلیم سے دوری اور غلط ماحول کے اثرات کی وجہ سے نئی نسل ارتدادی تحریکوں سے متاثر ہورہی ہے :مولانا متین الحق اسامہ

لکھنؤ:۔ جس طرح اپنے آپ کو علم دین سے آراستہ کرنا ضروری ہے اسی طرح اپنے بچوں،گھر والوں کو بھی علم دین سکھانا فرض و ضروری ہے قر آن کریم میں اللہ تعالی نے ارشاد فر مایا ہے کہ اے مسلمانوں ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچائو اس سے معلوم ہوا کہ اپنے اہل و عیال ،بیوی بچے اور ماتحت لو گوں کو دو زخ سے بچانے کی راہ تلاش کرنا ضروری ہے اور انکو دوزخ سے بچا نا یہی ہے کہ ان کو علم دین سے آراستہ کرے اللہ کے حکموں پر چلنے کی نصیحت کرے۔ان خیا لات کا اظہار آج یہاں جمعیۃ علماء اترپردیش کے صدر مولانا محمد متین الحق اسامہ قاسمی نے جمعیۃ بلڈنگ رجبی روڈ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کے دور میں دینی تعلیم سے دوری اور غلط ماحول کے اثرات کی وجہ سے نئی نسلوں میں دینی و اخلاقی گراف میں بہت کمی آئی ہے اگر دینی تعلیم سے روشناس ہو کر شریعت کی روشنی میں زندگی گزاری جائے تو اس سے نہ صرف آخرت میں اجرعظیم ملے گا بلکہ دنیا وی زندگی میں چین وسکون نصیب ہوگا۔ اللہ نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے تخلیق کیا ہے اور اللہ کی عبادت اور شریعت کی پاسداری بغیر دینی تعلیم کے ممکن نہیں ہے اس لئے ہر انسان خصوصاً مسلمانوں کے لئے اچھی زندگی گزارنے اور آخرت میں سرخ رو ہونے کے لئے بقدر ضرورت دینی تعلیم کا حصول فرض اورضروری ہے۔
صو بائی صدر مولانا اسامہ قاسمی نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں دن بدن بڑھتی ار تدادی تحریکیںقادیا نیت ، عیسائت ،شکیلیت اور اسلام مخالف طاقتوں کی جانب سے نت نئے حربوں اور اسکیموں کے ذریعہ دین کی بنیادی باتوں سے ناواقف اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ کوشش نہ صرف عام لوگوں بلکہ خواتین اور بچوں کوتعلیم کے نام پر بر گشتہ اور اسلام سے بدظن کرنے کی منصوبہ بند پلاننگ کی جا رہی ہے۔دین سے ناواقفیت کی بناپر مسلمان ان کے شکار بن کر دنیا وآخرت برباد کرلیتے ہیںاس مہم کے ذریعہ باطل فتنوں اور تحریکوں پر قدغن لگا نا ضروری ہے ۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ آل انڈیا دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند کی مہم کا مقصدہر مسلمان کو دین کی بنیادی باتوں عقائد و ایمانیات اور شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے اسلامی طریقوں سے واقف کرانا ہے تا کہ ہر مسلمان اپنی زندگی کو اسلام کی روشنی میں گزارے۔ اورآنے والی اپنی نسلوں کے دین واِیمان کے تحفظ کی فکر کرے، اور جس طرح بھی ممکن ہوسکے؛ اُنہیں ضروری دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوشش کرے انہیں حالات کے پیش نظر جمعیۃ علماء اتر پردیش اور ریاستی دینی تعلیمی بورڈ کی طرف سے آئندہ 15؍رجب المرجب تا 25رجب المرجب مطابق 23مارچ تا3؍ اپریل 2019ء پورے صوبہ میں ’’دینی تعلیمی بیداری مہم‘‘ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،تاکہ بستی بستی اور گھر گھر دینی تعلیمی شعور پیدا کیا جائے، اور اِس کی اہمیت سے معاشرہ کو آگاہ کیا جائے اِس لئے ضرورت ہے کہ مسلک وذات برادری سے اوپر اُٹھ کر اِس اَہم تحریک کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کریں ۔
مولانا اسامہ قاسمی نے صوبے بھر کے تمام ضلع،شہر ،گائوں،محلوں، قصبوںکی جمعیۃ علماء کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ اس 23مارچ سے 3؍اپریل تک چلنے والی اس مہم کو کا میاب بنا نے کے لئے جا بجا خصوصی و عمومی پرو گرام منعقد کریں، ائمہ کرام مساجد میں بنیادی دینی تعلیم اور مکاتب کی اہمیت پر روشنی ڈالیں ،کارنر میٹنگوں اور چھوٹے بڑے جلسوں کا اہتمام کریں ،گھر گھر پہنچ کر مسلم آبادی کا تعلیمی سر وے کریں،مکاتب کے قیام کی فکر کریں اورلو گوں کو کی توجہ مبذول کرائیں ،ضرورت کی جگہوں پر مکاتب قائم کرکے دینی تعلیم کو فروغ دیں ،جہاں پہلے سے مکاتب قائم ہوں ان کو منظم اور مفید بنا نے پر محنت کریں۔ پورے ایک عشرہ کا پرو گرام با قاعدہ مرتب فر ماکر صوبائی آفس لکھنؤ کو روانہ کریں۔پریس کانفرنس میں جمعیۃ علماء کانپور کے صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں، دینی تعلیمی بورڈ کے شہری صدر مفتی عبد الرشید قاسمی، ریاستی سکریٹری قاری عبد المعید چودھری،شارق نواب، مولانا فرید الدین قاسمی، مفتی مقصود ندوی،مفتی اظہار مکرم قاسمی کے علاوہ دیگر لوگ موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker