آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لئے

آج کا پیغام - 13 مارچ ،5 رجب المرجب

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

ایک مومن کے لئے کمال ایمان کا درجہ یہ ہے کہ وہ اپنے لئے جو کچھ پسند کرے وہی اپنے بھائ کے لئے بھی پسند کرے ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لا یومن احدکم حتی یحب لاخیہ ما یحب لنفسہ.
کہ تم میں سے کوئ شخص مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ اپنے بھائی کے لئےوہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے ۔ ( بخاری ۔۔و مسلم)
مشہور عالم دین حضرت مولانا محمد منظور صاحب نعمانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں :
ایمان کے اصل مقام تک پہنچنے کے لئے اور اس کی خاص برکتیں حاصل کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی خود غرضی سے پاک ہو اور اس کے دل میں اپنے دوسرے بھائیوں کے لئے اتنی خیر خواہی ہو، کہ جو نعمت اور جو بھلائی اور جو بہتری وہ اپنے لئے چاہے وہی دوسرے بھائیوں کے لئے چاہے اور جو بات اور جو حال و کیفیت وہ اپنے لئے پسند نہ کرے ،اس کو کسی دوسرے کے لئے بھی پسند نہیں کرے ،اس کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔ اسی حدیث کی ابن حبان کی روایت میں ۰۰ لا یومن احدکم۰۰ کی جگہ لا یبلغ العبد حقیقة الایمان ۰۰ روایت کیا گیا ہے، اس سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ اس حدیث میں اور اس جیسی دوسری حدیثوں میں بھی ۰۰لا یومن۰۰ کے لفظ سے قطعی نفی مراد نہیں ہے بلکہ کمال کی نفی مقصود ہے ۔ اور اسی طرح ناقص کو کالمعدوم قرار دے کر اس کی نفی کر دینا قریبا ہر زبان کا عام محاورہ ہے ،مثلا ہماری زبان میں بھی کسی برے اور غلط آدمی کے متعلق کہہ دیا جاتا ہے کہ ۰۰ اس میں تو انسانیت ہی نہیں ہے ۰۰ یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ ۰۰وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے۰۰ ۔ حالانکہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ اچھا اور معقول آدمی نہیں ہے ۔
( معارف الحدیث : ۱، ص : ۹۴ از مولانا محمد منظور صاحب نعمانی رح)
یہ حدیث آدمی کے ایمان و اخلاق اور اوصاف و کردار کو پہچاننے کے لئے بہترین کسوٹی اور معیار ہے ۔ اگر اس حدیث کے مقتضی اور معیار پر آدمی کھرا نہیں اترتا، اور اس حدیث کی روشنی میں وہ اپنی زندگی نہیں گزارتا ، اپنے لئے کچھ پسند کرتا ہے اور دوسروں کے لئے کچھ اور ،اپنے لئے کچھ اور معیار بناتا ہے اور دوسروں کے لئے کچھ اور ،تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ مومن تو ہے لیکن اس کے اندر کمال ایمان نہیں ہے یعنی وہ کامل و مکمل مومن نہیں ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک مومن کو جس معیار پر کھرا دیکھنا چاہتے تھے وہ اس معیار اور کسوٹی پر نہیں اتر رہا ہے ۔
آج عام طور پر اس حدیث کے مقتضی پر ہمارا عمل نہیں ہے اور ایمان والے کے لئے جو خوبی اور وصف اس حدیث میں بیان کیا گیا اس سے ہم لوگ خالی اور عاری ہیں ۔
آج حال یہ ہے کہ ہم اپنے لئے چاہتے ہیں کہ ہماری مقبولیت اور نیک نامی ہو ۔ مفوضہ ذمہ داری ادا کرنے کے بعد ہمارے اسفار کا ،تصنیف و تالیف کا،اور خطابت و تقریر کا سلسلہ جاری رہے ۔ ہم جلسوں اور پروگراموں میں کثرت سے شریک ہوں۔ لیکن اپنے ماتحتوں پر پابندی لگاتے ہیں کہ وہ خارجی سرگرمیوں سے دلچسپی نہیں رکھیں۔ جلسوں اور پروگراموں میں شرکت سے بچیں ۔ پورا وقت تدریس کے لئے ہی مختص رکھیں ۔ لوگوں سے تعلقات ہرگز نہ بڑھائیں ۔ اسفار کم سے کم کریں ۔ جلسوں میں بہت کم جائیں اپنی چھٹیوں سے بھی فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ مدرسہ کے مفاد میں چھٹیوں کو بھی قربان کر دیں ۔ ظاہر ہے یہ سوچ اور طرز عمل مذکورہ حدیث کی رو سے مناسب نہیں ہے ۔ صحیح مسلمان اور کامل ایمان والا وہی ہے جو دوسروں کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرے ۔ خدا کرے کہ ہم اس حدیث کے مقتضی اور مراد پر عمل کرنے والے بن جائیں ۔ اور کمال ایمان کا وہ درجہ ہمیں نصیب ہو جائے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان والوں سے چاہتے تھے اور چاہتے ہیں ۔ آمین
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker