ہندوستان

مسلم مخالف ہے بہار پولیس، تھرڈ ڈگری دیکر کسٹڈی میں دو نوجوان کا قتل سوساشن کے منھ پر طمانچہ: ظفر اعظم

قتل معاملے میں ملوث ایس اپی ڈی ایم و پولیس پر 302کا مقدمہ درج کیاجائے: سی پی آئی ایم ایل/انصاف منچ
مظفرپور:14/مارچ (بی این ایس)
مشرقی چمپارن کے چکیا تھانہ حلقہ کے رام ڈیہا باشندہ محمد غفران و محمدتسلیم کو سیتامڑھی ضلع کے ڈمرا تھانہ کی پولیس نے تفتیش کے لئے دونوں نوجوان کو اٹھاکر لے گئی تھی جسے تھرڈ ڈگری کا استعمال پر قتل کردیا گیا۔جو نہ صرف پوری انسانیت نواز کے منھ پر طمانچہ ہے بلکہ سوساشن کے منھ پر بھی بڑا طمانچہ ہے۔ متوفی غفران،ومتوفی تسلیم کے اہل خانہ کا صاف لفظوں میں کہنا ہے کہ پولیس نے اِن کے بیٹے کو زبردستی جرم قبول کرنے کے لئے تھرڈ ڈگری کا استعمال کر قتل کردیا ہے۔ دو نوں نوجوان کو پولیس نے اس قدر پیٹا کے دونوں کوما میں چلے گئے اورپھر پندرہ منٹ کے اندر ہی دونوں نے دم توڑ دیا۔مذکورہ بالا خیالات کا اظہار سی پی آئی ایم ایل وانصاف منچ بہار کے زیراہتمام ریاست گیر سطح پر منعقدہ پرتی واد مارچ کے تحت مظفرپور میں نکالے گئے مارچ کی قیادت کررہے سی پی آئی ایم ایل مظفرپور کے ٹاون سیکریٹری و انصاف منچ بہار کے ریاستی صدر سورج کمار سنگھ نے ریاست گیر پرتی واد مارچ کے تحت مظفرپور میں نکالے گئے مارچ کی قیادت کرتے ہوئے نے کیا سورج کمار نے غفران وتسلیم کے قتل کی سخت مزمت کرتے ہو ئے نتیش کمار اور ضلع پولیس کپتان سے یہ مطالبہ کیاکہ قتل میں ملوث پولیس افسران پر 302 کا مقدمہ درج کیاجائے اور قتل میں ملوث تمام ملزمین کو جیل میں ڈالاجائے و ان کے اہل خانہ کو ساٹھ ساٹھ لاکھ روپے معاوضہ دیاجائے ، قتل میں ملوث ملزم پپولیس کو سسپنڈ کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم ریاست گیر سطح پر اقلیت مخالف حکومت کے خلاف احتجاج کی صدا بلند کرتے رہیں گےانصاف منچ بہار کے ریاستی نائب صدر ظفر اعظم نے وزیراعلیٰ بہارسے دو نوں جوان کے قتل معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانےکامطالبہ کیا ۔ ظفر اعظم نے آگے کہا کہ پہلے ہی نتیش حکومت سیتامڑھی فساد پر چپی سادھ مسلمانوں پر ہوئے آتنک کو دبانے کا ننگا کھیل کھیل چکی ہے۔ اتناہی نہیں پچھلے دنوں ہوئے فساد میں زین الانصاری کا سرعام قتل کو بھی نتیش حکومت نے ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا ہے، جس سے پورے اقلیتی طبقہ میں ریاستی حکومت اور حکومت کے مکھیا نتیش کمار کے خلاف کافی غصہ پایا جارہا ہے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے سیتامڑھی کے اقلیتوں پر یکطرفہ حملہ کیا جارہا ہے، لگاتار مآب لنچنگ میں لوگوں کو مارا جارہا ہے، فساد کے نام پر اقلیتوں کی دکانیں ،مکانیں جلائی اور لوٹی جارہی ہیں، پھر بھی نتیش حکومت خود کو اقلیتوں کا ہمدرد بتاتی ہے۔ پورے بہار میں اقلیتوں میں اُترپردیش حکومت کے طرز پر نتیش حکومت نے بھی کام شروع کردیا ہے جس سے بہار کا اقلیتی طبقہ خود کو غیرمحفوظ محسوس کرنے لگے ہیں۔ حکومت اگر واقعی اقلیتوں کی ہمدرد ہے، بہار میں قانون کا راج، نیائے کے ساتھ وِکاس کا دعوی کرتی ہے تو سیتامڑھی فسادیوں پر قانونی کارروائی کرے، محمدتسلیم، محمدغفران اور زین الانصاری کے قاتل پر قتل کا مقدمہ درج کر سبھی مجرم کو جیل میں ڈالے۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی ہے اور اقلیتوں کے اندر پنپ رہے خوف و حراس کے ماحول کو روک نہیں پاتی ہے تو آنے والے 2019-2020 کے انتخاب میں بڑا نقصان بھگتنے کو تیار رہے۔انصاف منچ بہار کے ریاستی نائب صدرآفتاب عالم و فہد زماں نے غفران وتسلیم کے دردناک وغیر انسانی قتل پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ نتیش مودی حکومت میں بہار کے تھانوں کو مسلم نوجوانوں کے لیے قتل گاہ بنایاجارہاہے اس خمیازہ نتیش کمار کو2019-2020 میں بھگتنا پڑے گا اس مارچ میں سترودھن سہنی رکن سی پی آئی ایم ایل مظفرپور، منوج یادو،پرشورام پاٹھک، ویدنشور شاہ،راج کشورپرساد،اسلم رحمانی ریاستی ترجمان انصاف منچ بہار، انجینئر ریاض خان، وکیش کمار،اعجاز احمد، دیپک کمار، اجئےکمار،گوربھ کمار،اعظم، طیب انصاری ریاستی رکن انصاف منچ بہار، جاوید قیصر ریاستی صدر مسلمس یونائیٹڈ فرنٹ بہار، مطلوب الرحمن، محمد رضوان، افضل ،وغیرہ موجود

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker