جہان بصیرتفکرامروز

مسلم پرسنل لا بورڈ ! ہمیں ہے حکم اذاں لاالہ الااللہ

مظفر احسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت میڈیاگروپ
اس وقت ہندوستانی مسلمان جس گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اس کی خبر پوری دنیا کو ہے ,اگر میں یہ کہوں کہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم ہندوستانی مسلمان ہیں تو شاید آپ یقین کر پائیں,جس زمین کو اپنے خون سے سیچ کر ہریا لی بخشا تھا ,آج اسی زمین کو مسلمانوں پر تنگ کیا جارہا ہے ,اسے ہندو راشٹر بنانے کی تقریبا تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں, ناتھو رام گوڈسے کے چیلوں کی سیاست تیزی کے ساتھ ان کی فکروں کو مسلط کئے جانے کی فکر پروان چڑھ رہی ہے ,دین اور دستور دونوں خطرے کے نشان سے اوپر بہ رہا ہے ,آذانوں پر پابندی ,روزہ رکھے جانے پر سزائیں ,مسجدوں کو مسمار کئے جانے کی سازش ,مدارس کو دہشت گردی کا آماجگاہ سمجھا جانا , داڑھی کرتا ٹوپی والے کو دہشت گرد کہنا , مسلم تاجروں کو ہراساں کیا جانا,دعوت دین سے متعلق اشخاص پر انگلیاں اٹھانا ,یہ ایسی باتیں ہیں جس کو سمجھنے کے لئے بہت زیادہ پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں ہے , اس پس منظر میں مسلم پرسنل لا بورڈنے “دین بچاؤ دستور بچاؤ”کے نام سے ملک گیر مہم شروع کی ہے ,جس کا مقصد ملک میں فرقہ پرستی کے بڑھتے اثرات کا مقابلہ کرنااور دستور میں دی گئی مذہبی آزادی کے عمل کو یقینی بنانا ہے , اس کی پہلی نشست گنبدوں کے شہر حیدرآبا د کے عظیم دینی درسگاہ حیدر آبا د میں منعقد ہوئی,جس میں ریاست تلنگانہ کے علاوہ آندھراپردیش ,مہاراشٹراور کرناٹک سے تعلق رکھنے والے عمائدین اور زعمائے ملت نے شرکت کی ,اس اجلاس کا مقصد عمائدین ملت کے ذریعہ شہرشہر گاؤں گاؤں مسلم پر سنل لا بورڈکا پیام پہونچانا ہے ,اس موقعہ پر حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ چاند سورج وغیرہ سب مخلوقات ہیں اور مخلوقات کمزور ہیں ,خالق کی عبادت کے سوا اور کسی کی عبادت اسلام میں جائز نہیں ,اور جو چیزیں اسلامی عقائد سے متصادم ہوں وہ ہرگز ہم قبول نہیں کرینگے , مسلم پرسنل لا بورڈ کے کارگذار جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکا تہم جو حلقہ یاراں میں ریشم و دیباج کی طرح نرم اور باطل کے لئے ننگی تلوار ہیں نے اس موقعہ پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے حکو مت کو متنبہ کیا ہے کہ دستور میں کسی طر ح کی کوئی تبدیلی ہرگز قبول نہیں ہے ,اس اہم لڑائی کو جاری رکھنے کے لئے ہم گاؤں گاؤں جائنگے , اس کامیاب ترین نشست میں سنجیدہ فکر کے عالمی شہرت یافتہ عالم دین فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ جو اپنے بزرگوں حضرت مولانا سید رابع ندوی صاحب دامت برک تہم صدر مسلم پرسنل لا بورڈ حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب دامت برکاتہم جنرل سکریٹری بورڈ اور کارگذار جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید محمد ولی رحمانی دامت برکاتہم کیسب سے زیادہ عزیز اور معتمد ہیں کی موجودگی نے پورے ملک کو اس بات کا پیغام دیا کہ ہم سرکش حکومت کے باطل ارادوں کو کامیا ب نہیں ہونے دینگے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ان کے شاگردوں نے اس بات کا حلف لیا کہ ہم اپنے بڑوں کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے کو تیار ہیں ,بورڈ کے اسسٹنٹ سکریٹری جناب عبدالرحیم قریشی صاحب جن کی اولوالعزمی اور بورڈ کے تئیں سنجیدہ فکر اور تسلل کے ساتھ لگے رہنے اور بڑوں کے پیغام کو عام کرنے کی ذمہ داری نے پورے ملک کو مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت حکومت کے ناپاک ارادوں کو کچلنے کا پیام دیا ۔ اس موقعہ پر بانی مسلم پرسنل لا بورڈ امیر شریعت حضرت اقدس مولانا منت اللہ رحمانی کی وہ باتیں جو انہوں نے 1977/ میں مونگیر کی عید گاہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ
اسلامی شریعت خدا کا اَزل اور محبوب قانون ہے ,جس سے دل لگی انتہائی سنگین نتائج کا سبب ہوگی اگر یہ مذاق لا پرواہی کی صورت میں مسلمانوں کی طرف سے ہوا تو وہ سب سے پہلے عتاب خداوندی کے شکار ہونگے ,اس لئے کہ وہ مسلمان ہونے کی وجہ اسلامی شریعت کے امین اور اس کے حامل ہیں اور دوسروں نے اگر قانون شریعت سے کھیلنے کی بات اور سول کورڈ کی خوش نما تعبیر کے ذریعہ اس میں تبدیلی لانے کی بات کی تو خدا کی سنت کے مطابق مٹانے سے پہلے خود مٹ جائنگے ,یہ تاریخ کی عینی شہادت اور قدرت کا اٹل فیصلہ ہے ,میری وارننگ بھی ہے اور مخلصانہ مشورہ بھی کہ حکومت اس کا تجربہ نہ کرے اور قانون شریعت میں تبدیلی کا کوئی خیال بھی ہوتو اس باز آجائے (کاروانزندگی حصہ چہارم /ص/81/)
اس وقت فرعون وقت نریندر مودی جو وزارت عظمی کے نشہ آور غرور میں چور ہیں کو سمجھنا چاہئے کہ “قانون شریعت “رومن لا,کامن لا, ہندو کوڈبل اور دیو مالائی انسانی ذہنوں کی ایجاد نہیں ہے ,جس میں کوئی گنجائش یا امکان کسی تبدیلی کا باقی ہو مسلم پرسنل لا خدائی قانون ہے جس کی تبدیلی کے لئے جب کوئی بد باطن آگے بڑھا تو قدرتی بجلیوں نے بے باق کردیا اور وہ وہ وقت ہوگا کہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اس وقت سب سے زیادہ ذمہ داری اپنے وجود کے بقا کی حفا ظت کی ہے ,اس لئے پورے اتحاد کے ساتھ مسلم پرسنل لا بورڈ کے تحت معزز علما کی قیادت میں یہ کہتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا کہ!
اگرچہ بت ہے جماعت کی آستینوں میں ٭ ہمیں ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ
(مضمون نگار جالے جامع مسجد کے امام وخطیب اور دارالعلوم سبیل الفلاح جالے کے صدر مدرس ہیں، رابطہ9431402672 )

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker