مضامین ومقالات

*اپنی اولاد کومہذب لباس پہناناہروالدین کی مذہبی ذمہ داری اوراخلاقی فریضہ*

*فیشن پرستی کاجنون معاشرے کی تباہی کااہم سبب،جنرل سکریٹری کل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک مولاناحافظ سرفراز احمد قاسمی*
عصرحاضرمیں یہ پروپیگنڈہ بڑی کثرت سےکیاجارہاہےکہ لباس توایسی چیزہےجسکاہرقوم اورہرملک کےحالات سےتعلق ہوتاہے،اسلئےآدمی اگراپنی مرضی اورماحول کےمطابق کوئی لباس پہن لےاوراختیارکرلےتواس درمیان شریعت کوبیچ میں لانااورشرعی احکام سنانابڑی تنگ نظری کی بات ہےاوریہ جملہ تولوگوں سےبکثرت سننےمیں آتاہےکہ ان مولویوں نےاپنی طرف سےقیدیں اورشرطیں لگادی ہیں ورنہ دین میں توبڑی آسانی ہے،اللہ اوراسکےرسولؐ نےتودین میں اتنی پابندیاں نہیں لگائی ہیں،یہ بات ذہن میں رکھنےکی ہیں کہ اسلام کی تعلیمات زندگی کےہرشعبےپرمحیط ہیں،لہذاانکاتعلق ہماری شریعت اوررہن سہن کےہرحصےسےہے،زندگی کاکوئی گوشہ اسلامی تعلیمات سےخالی نہیں،لباس بھی زندگی کے اہم گوشوں میں سےہے،اسلئےقرآن وسنت نےاس بارےمیں تفصیلی ہدایات دی ہیں،لباس کامعاملہ اتناسادہ اوراتناآسان نہیں ہےکہ آدمی جیساچاہےپہنےاورپہنائے،اوراس لباس کی وجہ سےاسکےدین پر،اسکےاخلاق پر،اسکی زندگی پراوراسکےطرزعمل پرکوئی اثرواقع نہ ہو،یہ ایک مسلم حقیقت ہےجسکوشریعت نےہمیشہ بیان فرمایااوراب نفسیات وسائنس کےماہرین بھی اس حقیقت کوتسلیم کرنےلگےہیں کہ انسان کے لباس کااسکی زندگی،اسکےاخلاق وکردارپربڑااثرواقع ہوتاہے،لباس محض ایک کپڑاہی نہیں ہےجوانسان اٹھاکرپہن لےبلکہ یہ انسان کےطرزفکر،اسکی سوچ اوراسکی ذہنیت پراثراندازہوتاہے،اسلئےلباس کومعمولی نہیں سمجھناچاہئے،مذکورہ خیالات کااظہار،شہرحیدرآبادکےممتازاورمعروف عالم دین مولاناحافظ سرفراز احمدقاسمی جنرل سکریٹری کل ہندمعاشرہ بچاؤتحریک نےیہاں اپنےایک بیان میں کیا،انھوں نے کہا کہ شریعت نےلباس کےبارےمیں بڑی معتدل تعلیمات عطافرمائی ہیں اوراسی لیےکوئ خاص لباس مقرر نہیں فرمایا،وہ اسلئےکہ اسلام دین فطرت ہےاورحالات کےلحاظ سے،وہاں کے موسم کےلحاظ سے،ضروریات کے لحاظ سےاورمختلف ممالک کے لحاظ سےلباس مختلف ہوسکتاہے،مثلاکہیں باریک،کہیں موٹاوغیرہ وغیرہ،البتہ اسلام نےلباس کےبارےمیں کچھ بنیادی اصول مقررفرمائ ہے،جسکاخیال کرنا،لحاظ رکھناہرمسلمان مردوعورت کےلئے ہرحالت میں لازم اورضروی ہے،قرآن کریم میں ایک جگہ لباس کامقصدبیان کرتےہوئے ارشاد فرمایا گیاکہ”اےابن آدم!ہم نےتمہارےلئےایسالباس اتاراجوتمہاری پوشیدہ اورشرم کی چیزوں کوچھپاتاہے،اورتمہارےلئےزینت کاسبب ہے،لیکن تقویٰ اورپرہیزگاروں کالباس تمہارے لئےسب سےبہترہے”(اعراف)لباس کاسب سےپہلااوربنیادی مقصدیہ ہےکہ وہ شرم گاہ اور سترکی چیزوں کو چھپانےکی صلاحیت رکھتاہو،مردوں کےلئے ناف سےلیکرگھٹنوں تک کاحصہ سترکہلاتاہے،جسکوچھپاناہرحال میں ضروری ہےاورعورت کاساراجسم سوائے چہرےاوردونوں ہتھیلیوں کےچھپاناضروری ہے،اوراسکاظاہرکرناجائزنہیں،لباس کادوسرامقصدیہ ہےکہ وہ ایسالباس ہوجسکولوگ دیکھکرخوشی محسوس کریں،آپ کےلباس سےدوسروں کونفرت وکراہت ہرگزنہ ہو،بلکہ ایسالباس جوزینت کاسبب ہو،تیسرامقصدیہ ہےکہ اس لباس سےکسی قوم کی نقالی اورمشابہت نہ ہو،ایسالباس جسکوپہن کرآدمی کسی غیرقوم کافردنظرآئےممنوع ہےاسی لئےشریعت نےمشابہت اختیارکرنےسےمنع فرمایاہے،لباس کاچوتھاآخری اوربنیادی مقصد یہ ہےکہ اس لباس کوپہن کردل میں تکبراوربڑائ پیدانہ ہو،اپنی بڑائی کاخیال دل میں آجائےاوردوسروں کی تحقیرپیداہوجائےتوایسےلباس کوعلماہ نےناجائزاورحرام قراردیاہے،جولباس تکبرکاذریعہ اورسبب بن جائےوہ ہرگزجائزنہیں،مولاناقاسمی نےاس بات پرافسوس کااظہارکیاکہ آج نوجوان نسل جہاں اورچیزوں میں بےراہ روی کاشکارہیں وہیں لباس کےمعاملے میں بھی بےراہ روی عام ہوتی جارہی ہے،اس معاملےمیں خواتین کامزاج خاص طورپرقابل اصلاح ہے اوراس پرتوجہ کی ضرورت ہے،فیشن پرستی کاجنون بھی معاشرےکی تباہی کااہم سبب ہے،ہروالدین اس بات کویقینی بنائیں کہ وہ اپنی اولادکومہذب لباس پہنائیں اوراسکواختیارکرنےکی ترغیب دیں،یہ ہروالدین کی دینی ومذہبی ذمہ داری بھی ہےاوراخلاقی فریضہ بھی،بچوں کوبچیوں کالباس پہنانایابچیوں کابچوں کالباس زیب تن کرنایہ کسی بھی طرح پسندیدہ نہیں،اسلئے والدین اپنی اولاد پرخصوصی توجہ دیں،ایک موقع پرسرکاردوعالمؐ نے ارشادفرمایاکہ”بہت سی خواتین قیامت کےقریب ننگی لباس پہننےوالی ہونگی،یعنی لباس پہننےکےباوجودبھی وہ ننگی ہوگی،اوراپنےلباس سے،اندازسے،زیب وزینت اوربناؤسنگارسےدوسروں کواپنی جانب مائل کرنےوالی ہونگی”(مسلم)اسلئے ضرورت ہے کہ ہم دیکھ سمجھ کرکوئ لباس پہنیں اوراپنےگھروالوں اوراپنی اولاد کوپہنائیں،اللہ تعالی ہم سبکی حفاظت فرمائے ۔۔۔۔۔۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker