مضامین ومقالات

افغان امن مذاکرات ،اشرف غنی کی رسوائی

سمیع اللہ ملک
ایک اطلاع کے مطابق ٹرمپ نے پاکستان سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مزید مدد مانگی ہے۔ ایک ایسے وقت جب امریکا خود طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے، اسے پاکستان کی کیا ضرورت ہے؟ وہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟ وزیر اعظم کے دفتر سے اس مکتوب کی کوئی اصل کاپی تو جاری نہیں کی گئی تاہم اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ افغان طالبان پر ” پاکستانی اثر و رسوخ “سے کام لینے کی استدعا کی گئی ہے۔ قصرسفیدکی طرف سے عمران خان اور ٹرمپ کے درمیان ٹوئٹر پر بیانات کی جنگ کے بعد ایک صحت مند پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ پیغام تو ہمیشہ کی طرح “ڈو مور”ہی سمجھاجارہاتھالیکن اس مرتبہ امریکاکاافغانستان سے جلدسے جلدانخلا کی خواہش سے پتہ چل رہاہے کہ وہ اس سلسلے میں مزیدتاخیرکامتحمل نہیں ہے جس کی وجہ حال ہی میں افغان طالبان کاوہ حملہ ہے جس میں ٹرائیکا’’را،موساداورامریکی اڈے ‘‘کوبری طرح نیست نابودکردیاگیاہے جس کو عالمی میڈیاسے چھپانے کی ازحدکوشش کی گئی ۔
ادھراشرف غنی نے امریکااورافغان طالبان کی جانب سے نظراندازکرنے پرانتہائی شدیدردّ ِ عمل کااظہارکرتے ہوئے ماسکوجانے والے وفدمیںشامل صدارتی امیدواروں کوسبق سکھانے کیلئے افغان الیکشن کمیشن کے قوانین میں ردّ وبدل کرتے ہوئے اصلاحاتی کمیٹی اورتحقیقاتی کمیٹیوں کو برطرف کردیااوریہ اختیارصدرکوتفویض کردیا کہ افغانستان کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے تنازعات کے حل کیلئے افغان صدرکمیشن تشکیل دینے کااختیاررکھتے ہیں ،اس کے علاوہ کسی کوکمیشن کی تشکیل کااختیارنہیں ہوگااورافغان الیکشن صرف صدارتی انتخابات کاانعقادکرسکتے ہیںاوراگرکوئی تنازعہ پیداہوتاہے تواس کے تصفیہ کیلئے افغان صدرہی کوئی کمیشن بناسکتاہے۔افغانستان کے دیگرصدارتی امیدواروں حنیف اتمر،یونس قانونی،ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ اوردیگرنے شدیدردّ ِ عمل کااظہارکرتے ہوئے افغان صدرپرالزام عائدکیاہے کہ وہ دھاندلی کاپروگرام بناچکے ہیں اورافغانستان میں شفاف صدارتی انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے افغانستان مزیدمشکلات کاشکارہوگا۔
اکیس صدارتی امیدواروں کی جانب سے افغان صدرکی جانب سے انتخابات میں ردّ وبدل پرشدیدپرشدیدردّ ِ عمل کااظہارکیاگیاہے اورانہیں طالبان اور امریکاکی جانب سے نظراندازکرنے پر غصے سے تعبیرکردیاہے ۔افغان صدراگردھاندلی کرتاہے توملک میں انارکی پیداہوجائے گی جبکہ اس وقت ملک کواستحکام کی ضرورت ہے۔افغان صدارتی انتخابات کاانعقادخطرے میں پڑگیاہے اورطالبان اورامریکاکے درمیان جس تیزی سے مذاکرات بڑھ رہے ہیں اس میں اشرف غنی کاکردار نہ ہونے پر صدارتی انتخابات کومتنازعہ بناناچاہتے ہیں تاہم سب سے مشکل امریہ ہے کہ افغان صدرکواپنے ساتھیوں کی حمائت بھی حاصل نہیں ہے اوران کے قریبی ساتھی حنیف اتمر،پاکستان میں سابق سفیرعمرذاخیلول سمیت ان کے دوست طالبان سے مذاکرات کیلئے ماسکوپہنچ گئے تھے جس پرافغان صدرکوشدیدغصہ ہے ، اس لئے افغان صدرکی جانب سے لویہ جرگہ بلانے کے مطالبے پرمثبت ردّ ِ عمل سامنے آیاہے لیکن افغان صدارتی انتخابات کا انعقاد مشکل ہوتانظرآرہاہے کیونکہ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی کامیابی کی صوت میں یہ مطالبہ بھی سامنے آسکتاہے کہ افغانستان میں مختصرمدت کیلئے ایک وسیع البنیادحکومت قائم کی جائے۔
ماسکومذاکرات میں افغان طالبان نے یہ تجویزپیش کی کہ افغانستان کی تعمیرنوکیلئے طویل مدت ایک وسیع البنیادحکومت قائم کی جائے جس میں تمام دھڑے شامل ہوں اور وہ افغانستان کی تعمیرنومیں حصہ لے اورجب تعمیرنومکمل ہوجائے اورافغانستان مکمل امن کی طرف لوٹ جائے توپھرانتخابات پرغورکیاجائے اورافغان آئین میں بنیادی تبدیلی بھی لائی جائے۔یہی وجہ ہے کہ افغان صدرکے علاوہ افغانستان کے دیگرصدارتی امیدواروں نے ابھی تک انتخابی مہم شروع نہیں کی ہے ۔افغان صدرنے گزشتہ دنوںننگرہارسے اپنی انتخابی مہم کاآغازشروع کیااورپہلے روزہی افغان صدرکوشدیدمشکلات کاسامناکرناپڑااورمظاہروں کے بعدافغان صدراپنی تقریرادھوری چھوڑکرواپس چلے گئے جبکہ ملک کے دیگرحصوں میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں اورافغان صدرسے مطالبہ کیاجارہاہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے حالات سازگاربنائیں نہ کہ اپنے ذاتی مفادات کیلئے افغانستان کے عوام کوداؤپرلگادیں ،اسی لے افغان صدرانتخابی مہم نہ چلائیں بلکہ کوشش کریں کہ افغانستان میں امن ہو۔
افغانستان کے صدرانتخابی مہم کے دوران بڑے جلسوں کاانعقادچاہتے ہیں لیکن ننگرہارمیں شدیدمخالفت سامنے آنے کے بعدافغان صدرنے مزیدجلسے منعقدکرنے کاارادہ ترک کر لیاہے اوریہی وجہ ہے کہ افغان صدرنے لویہ جرگہ بلانے کامطالبہ کیاہے جس میں طالبان بھی اپنامنصوبہ پیش کریں اوراگرلویہ جرگہ اس کی حمائت کرتاہے توپھرحکومت کووہ بات ماننی پڑے گی تاکہ افغان صدارتی انتخابات کے ہونے اورنہ ہونے کادارومدارآئندہ ہفتے قطرمیں ہونے والے مذاکرات ہیں جس کیلئے افغان طالبان نے اپنی ٹیم میں تبدیلی کی ہے اورملاعمر کے بھائی ملاعبدالمنان اورسراج الدین حقانی انس حقانی کومذاکرات میں شامل کیاہے۔اگرمذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں اورایک عبوری حکومت قائم ہونے کااعلان کیاجاتاہے توافغانستان کے صدارتی انتخابات نہ صرف ملتوی ہوسکتے ہیں بلکہ اشرف غنی کواستعفیٰ دیناپڑے گاکیونکہ موجودہ حالت میں افغانستان میں طالبان معاہدے کی
مخالفت کرنانہ صرف سیاسی طورپرنقصان دہ ہوگابلکہ افغانستان کے اندربھی شدیدردّ ِ عمل آسکتاہے اوروہ اس وقت دنیاجنگ کااختتام چاہتی ہے جبکہ امریکیوں نے انخلاء کی تیاریاں شروع کردی ہیں اوراس سلسلے میں امریکی قائمقام وزیردفاع پیٹرک نے باگرام میں امریکی فوجیوں سے اپنی ملاقات میں انہیں بتایاہے کہ امریکااورطالبان کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں انخلاء کیلئے فوجی تیاررہیں اوراگرمذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں توامریکی صدراچانک انخلاء کااعلان کرتے ہیں تواس وقت امریکی فوجیوں کوانخلاء کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی تیاریاں بھی مکمل کرلینی چاہئیں کیونکہ اگرطالبان سے معاہدہ ہوجاتاہے توامریکی فوجیوں کے انخلاء میں حائل مشکلات دورہوجائیں گی اورامریکی فوجی پھرمعاہدے کے مطابق انخلاء شروع کریں گے لیکن اگرمعاہدہ نہیں ہوتا اورامریکی صدراپنے اعلان پرعملدرآمدکرتے ہیں اورفوجیوں کواچانک انخلاء کرناپڑے گاتوان پربڑے حملوں کاخدشہ بھی ہوگاتاکہ جاتے ہوئے فوجیوں کوپھردفاع کیلئے تیاررہناپڑے گا۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker