فقہ وفتاویٰ

آپ کے شرعی مسائل

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ
نماز اشراق وچاشت
سوال: کیا نماز اشراق اور نماز چاشت کا حدیث سے ثبوت ہے؟ یہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں، یا ایک ہی نماز کے دو نام ہیں، وضاحت فرمائیے؟ (سید زاہد شاہ، ٹولی چوکی)
جواب: فقہاء اور محدثین کا رجحان یہ ہے کہ صلاۃ الضحیٰ(نماز چاشت) اور نماز اشراق ایک ہی نماز ہے، اگر اس کو طلوع آفتاب کے فوراََبعد پڑھا جائے تو اشراق ہے، اور کسی قدرتاخیر سے پڑھا جائے تو چاشت ہے؛ لیکن علامہ سیوطیؒ اور بعض دیگر اہل علم کی رائے ہے کہ یہ دو الگ نمازیں ہیں: قال الفقھاء والمحدثوں: إن صلاۃ الضحیٰ وصلاۃ الاشراق واحدۃ، وأما السیوطي وعلی المتقی قال: إن صلاۃ الضحیٰ غیر صلاۃ الإشراق (العرف الشذی علی الترمذی:۱؍۱۰۷) صوفیاء کا بھی یہی نقطۂ نظر ہے، اور حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے؛ چنانچہ سیدنا حضرت علیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک اس طرح نقل کیا ہے:
کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إذا کانت الشمس من ھاھنا کھیئتنا من ھاھنا عند العصر صلی رکعتین، وإذا کانت الشمس من ھاھنا کھیئتھا من ھاھنا عند الظھر صلی أربعا(سنن الترمذی، حدیث نمبر: ۵۹۸)
(طلوع ہونے کے وقت) سورج افق سے جب اتنی اونچائی پر ہوتا ، جتنا عصر کے وقت (مغربی جانب سے) ہوتا ہے تو آپ دو رکعت نماز ادا فرماتے، اور جب سورج (مشرق کی طرف سے) اتنی اونچائی پر ہوتا، جتنا ظہر کے وقت(مغرب کی طرف سے) ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے۔
امام ترمذیؒ نے اس حدیث کو حسن یعنی معتبر مانا ہے،اس سے معلوم ہوا کہ اشراق اور ضحیٰ دو الگ نمازیں ہیں، اسی طرح صلاۃ الضحیٰ (نماز چاشت) کی رکعت کے بارے میں مختلف روایتیں آئی ہیں، اوپر حدیث گزر چکی ہے ، جس میں چار رکعت کا ذکر آیا ہے، فتح مکہ کے موقع سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مکان پرآٹھ رکعت نماز چاشت پڑھی، اور حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی نقل کرتی ہیں کہ آپ نے اس موقع پر بہت ہلکی نماز ادا فرمائی، (ترمذی عن ام ہانی، حدیث نمبر:۴۷۴) ترمذیؒ نے امام احمد سے نقل کیا ہے کہ یہ اس مضمون کی سب سے مستند حدیث ہے، جب کہ حضرت انسؓ کی ایک روایت میں ہے کہ جس نے ۱۲؍رکعت نماز چاشت پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں سونے کا محل بنائیں گے(ترمذی احمد محمد شاکر، حدیث نمبر: ۴۷۳) گویا دو رکعت سے ۱۲؍رکعت تک نماز چاشت کا حدیث میں ذکر ملتا ہے، اس میں کوئی تضاد نہیں؛ کیوں کہ نفل نمازو ں میں قطعی تعداد مقرر نہیں ہوتی، اور موقع وسہولت کے لحاظ سے کم یا زیادہ پڑھنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشراق کی دو رکعت پڑھی ہے اور چاشت کی چار رکعت، اس کی تائید بعض ان روایات سے ہوتی ہے، جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو رکعت نماز اشراق پڑھنے کا ذکر ہے؛ چنانچہ حضرت انسؓ سے رسول اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ جس نے جماعت کے ساتھ نماز فجر اد اکی اور طلوع آفتاب تک اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھ گیا، پھر سورج نکلنے کے بعد دو رکعت نماز ادا کی تو اس کے لئے ایک حج وعمرہ کا ثواب ہوگا (ترمذی،ت: احمد محمدشاکر، حدیث نمبر: ۵۸۶) یہ مضمون ابو داؤد میں سہل بن معاذؓ سے بھی نقل کیا گیا ہے، اور اس میں یہ بھی ہے کہ اگر سمندر کی جھاگ کے برابر بھی اس کے گناہ ہوں تو وہ بھی معاف کر دیے جائیں گے ،غفر لہ خطایاہ وإن کانت أکثر من زبد البحر (ابو داؤد، حدیث نمبر: ۱۲۸۷)لیکن حضرت ابو درداء ؓ اور حضرت ابو ذرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اے ابن آدم! تم دن کے شروع میں میرے لئے چار رکعت پڑھو تو میں دن کے آخر تک تمہاری ضروریات پوری کروں گا: ابن آدم! ارکع لی أربع رکعات من أول النھار أکفک آخرہ (سنن الترمذی ، حدیث نمبر: ۴۷۵) مولانا ظفر احمد عثمانیؒ نے لکھا ہے کہ اس سے نماز اشراق مراد ہے (اعلاء السنن:۷؍۲۹) اس لئے حسب سہولت دو یا چار رکعت اشراق اور دو سے ۱۲؍ رکعت تک چاشت کی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔
نماز اوابین کا ثبوت اور اس کی رکعتیں
سوال: کیا حدیث سے نماز اوابین کا ثبوت ہے اور مغرب بعد یہ نماز ادا کی جا سکتی ہے؟(سید زاہد شاہ، ٹولی چوکی)
جواب: حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھی اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کہی تو یہ بارہ سال کی عبادت کے برابر ہے: عدلن لی بعبادۃ ثنتی عشرۃ سنۃ (سنن الترمذی ، حدیث نمبر: ۴۳۵)اور اسی حدیث کے ذیل میں امام ترمذیؒ نے حضرت عائشہؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ جو شخص مغرب کے بعد بیس رکعت پڑھے گا، اللہ تعالیٰ اس کے کے لئے جنت میں گھر بنا دیں گے (ترمذی، حدیث نمبر: ۴۳۵)اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے؛ لیکن فضائل ومستحبات میں اس درجہ کی ضعیف حدیثوں کو بھی معتبر مانا گیا ہے؛ اس لئے علماء اور صوفیاء کا اس پر تعامل رہا ہے؛چوںکہ مغرب کے بعد چھ رکعت کی بات فرمائی گئی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس میں سے دو رکعت مغرب کی سنت ہو اور چار رکعت نماز اوابین ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مغرب کی سنت کے بعد چھ رکعت مراد ہو تو اس طرح چار رکعت، چھ رکعت اور بیس رکعت کا احادیث میں ذکر آیا ہے، ان میں سے جس تعداد میں چاہیں، اس نماز کو پڑھ سکتے ہیں۔
مردوں اور عورتوں کی نماز کے درمیان فرق
سوال: بعض لوگ کہتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کی نماز میں کوئی فرق نہیں ہے، جب کہ ہم لوگوں کے یہاں ہمیشہ سے عورتیں بعض افعال کو مردوں کے طریقہ سے ہٹ کر اد ا کرتی ہیں، یہ کس حد تک صحیح ہے؟ (محمد عبداللہ، ٹولی چوکی)
جواب: نماز میں جن امور کو انجام دیا جاتا ہے، ان میں بعض کا تعلق قول یعنی بول سے ہے، جیسے تکبیر تحریمہ کہنا، سورۂ فاتحہ اور کسی اور سورہ کی تلاوت، ثنا، رکوع وسجدہ کی تسبیحات، تشہد وغیرہ، ان امور میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، اسی طرح جو افعال اعضاء وجوارح سے متعلق ہیں، جیسے قیام، رکوع ، سجدہ، قعدہ، یہ بھی مردوں اور عورتوں دونوں کی نماز میں یکساں طور پر فرض یا واجب ہیں؛ لیکن ان افعال کو کس کیفیت اور ہیئت میں انجام دیاجائے؟ اس میں مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق کیا گیا ہے، عورتوں کو اس انداز پر ان افعال کو کرنے کا حکم ہے جس میں اعضاء کی ساخت اور ہیئت کم سے کم ظاہر ہو؛ کیوں کہ بمقابلہ مردوں کے ان کے لئے جسم کو چھپانے کی زیادہ تاکید ہے؛ اسی لئے عام حالات میں بھی انہیں مردوں کی جسم پوشی کے مقابلہ زیادہ جسم پوشی کا حکم دیا گیا ہے، اور اس لباس کے اوپر پھر ایک ایسا لباس پہننے کی تاکید کی گئی ہے ، جو پورے بدن کو ڈھانک لے، جس کے لئے فی زمانہ برقعہ کا استعمال کیا جاتا ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عہد نبوت کو سر کی آنکھوں سے دیکھے ہوئے صحابۂ کرام اور پھر صحابہ سے دین کا علم حاصل کرنے والے اجلۂ تابعین کے یہاں اس کی تاکید ملتی ہے، حضرت وائل بن حجرؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا: اے وائل! جب تم نماز شروع کرو تو اپنا ہاتھ اپنے کانوں کے مقابل رکھو اور عورتیں اپنا ہاتھ اپنے سینہ کے مقابلہ میں رکھیں، إذا صلیت فاجعل یدک حذاء اذنیک والمرأۃ تجعل یدیھا حذاء ثدییھا (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر: ۱۷۴۹۷)عطاءؒ بڑے بلند پایہ تابعی ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جب عورت رکوع کرے تو اپنا ہاتھ جہاں تک ہو سکے اپنے پیٹ سے چپکا کر رکھے، اور جب سجدہ میں جائے تو اپنے ہاتھ کو پیٹ اور ران سے چپکا کر رکھے، تجتمع المرأۃ اذا رکعت ترفع یدیھا إلی بطنھا، وتجتمع ما استطاعت فإذا سجدت فلتضم یدیھا إلیھا وتضم وصدرھا إلیٰ فخذیھا، وتجتمع ما استطاعت (مصنف عبد الرزاق، حدیث نمبر: ۵۰۶۹) ظاہر ہے محدثین اور فقہاء کے استاذ الاساتذہ عطاء بن ابی رباح نے جو تعامل عہد صحابہ سے اپنے دور تک کا دیکھا ہوگا، اسی کی روشنی میں فتویٰ دیا ہوگا، امام نافع نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عورتیں کس طرح نماز پڑھا کرتی تھیں، انہوں نے فرمایا: پہلے تو قعدہ کی حالت میں آلتی پالتی بیٹھتی تھیں، پھر انہیں حکم فرمایا گیا کہ اپنے اعضاء کو خوب ملا کر بیٹھا کریں، جس کو اصطلاح میں تورک کہتے ہیں، یضممن أعضائھن بأن یتورکن في جلوسھن (شرح مسند ابو حنیفہ: ۱؍۱۹۱) ان احادیث وآثار سے معلوم ہوا کہ خواتین جب نماز کے شروع میں ہاتھ اُٹھائیں تو سینہ تک اُٹھائیں، رکوع، سجدہ اور قعدہ میں اپنے جسم کو مِلا مِلاکر رکھیں، اور جب تکبیر میں اپنے ہاتھ سینے تک اُٹھائیں گی تو ظاہر ہے کہ حالت قیام میں بھی ہاتھ سینے ہی پر باندھیں گی، غرض کہ بعض افعال کو ادا کرنے میں مردوں اور عورتوں کے درمیان ہیئت کا فرق حدیث سے بھی ثابت ہے اور یہ عقل ومصلحت کا تقاضہ بھی ہے۔
حائضہ عورت کا قرآن مجید کو چھونا اور پڑھنا
سوال: حالت حیض میں قرآن مجید کا پڑھنا اور چھونا کیسا ہے؟ کیا اس حالت میں عورتیں دستانے پہن کر قرآن مجید کو چھو سکتی اور پڑھ سکتی ہیں؟(محمد عبد اللہ، ٹولی چوکی)
جواب: قرآن مجید اللہ کا کلام ہے، جیسے دل سے قرآن مجید کا احترام ضروری ہے، اسی طرح ظاہری طور پر بھی اس کا احترام ضروری ہے؛ اس لئے ناپاکی کی حالت میں نہ قرآن مجید کا چھونا درست ہے اور نہ پڑھنا، جب آدمی کا وضوء ٹوٹ جاتا ہے تو اس کی ناپاکی ان اعضاء تک محدود ہوتی ہے، جن کو دھونا یا ان کا مسح کرنا وضوء میں ضروری ہے، یعنی ہاتھ پاؤں سر اور چہرہ، منہ کا اندرونی حصہ ناپاک نہیں ہوتا؛ اسی لئے وضوء میں کلی کرنا فرض نہیں ہے؛ لہٰذا اگر آدمی باوضوء ہوتو قرآن مجید کی تلاوت کر سکتا ہے، اگر عورت حیض یا نفاس کی حالت میں ہو یا شوہر وبیوی پر غسل واجب ہوگیا ہو تو اس صورت میں شریعت اس کے پورے جسم کو ناپاک سمجھتی ہے، جس میں منہ کا اندرونی حصہ بھی شامل ہے؛ اسی لئے غسل میں کلی کرنا واجب ہے؛ لہٰذا حیض، نفاس اور جنابت کی حالت میں قرآن مجید کو چھونے کی بھی ممانعت ہے اور تلاوت کرنے کی بھی؛ البتہ اگر ہاتھ اور قرآن کے درمیان کوئی ایسا غلاف ہو جو قرآن سے چپکا ہوا نہ ہو تو اس غلاف کے ساتھ قرآن پاک کو ہاتھ میں لینے یا چھونے کی گنجائش ہے، إلا أن یأخذہ بغلافہ أو بعلاقتہ، وغلافہ ما یکون متجافیا عنہ أی متباعداََ بأن یکون شیئاََ ثالثا بین الماس والممسوس کالجراب والخریطۃ دون ما ھو متصل بہ کالجلد المشرز ھو الصحیح (الجوھرۃ النیرۃ علی مختصر القدوری: ۱؍۳۰) اس لئے دستانے پہن کر قرآن مجید کو چھو سکتی ہیں۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker