آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

ترجیح و فوقیت کی بنیاد اور معیار صرف تقویٰ ہے

آج کا پیغام - 14 مارچ ،6 رجب المرجب

مولانا محمد قمر الزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: انک لست بخیر من احمر ولا اسود الا ان تفضلہ بتقوی۔۔۔۔ مسند احمد ۔۔۔۔
تم اپنی ذات سے نہ کسی گورے کے مقابلے میں اچھے ہو اور نہ کسی کالے کے مقابلے میں، البتہ تقوی کی وجہ سے تمہیں کسی پر فضیلت ہوسکتی ہے ۔
اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حقیقت عیاں ہو گئ کہ فضیلت و برتری اور ترجیح و فوقیت کا اسلام میں اصل معیار تقوی ہے نہ کہ کوئ دوسری چیز ۔قرآن مجید نے بھی ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم ( درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو تم سب سے زیادہ متقی ہے) سے اسی حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ دل میں خوف خدا ہو اور زندگی کی تعمیر و تشکیل خوف خدا اور خشیت الہی کے ذریعہ سے ہوئ ہو ،بس یہی چیز آدمی کو مکرم و محترم اور محبوب و معزز بناتی ہے اور اسے دستار فضیلت عطا کرتی ہے ۔ مال و دولت رنگ و نسل یا زبان و وطن کی بنیاد پر کسی کو افضل اور اعلی و برتر سمجھنا کم فہمی بے عقلی ضلالت اور گمراہی ہے ۔
علماء نے تقوی کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :
تقوی درحقیقت ہوشمندی اور خدا ترسی کا نام ہے ۔ خدا کا خوف و لحاظ زندگی کی تشکیل کی حقیقی بنیاد ہے ۔ اگر زندگی کی تعمیر و تشکیل کے لئے یہ اصل اور بنیاد فراہم نہ ہو سکے تو زندگی بے کیف ،بے مایہ بے وقعت ،بے حقیقت اور بے آبرو ہوکر رہ جاتی ہے ۔ اور صرف یہی ایک نقصان نہیں کہ زندگی وقار و عظمت شان و شوکت سے محروم ہو جاتی ہے بلکہ زندگی میں کچھ ایسے بگاڑ اور فساد پیدا ہو جاتے ہیں جن کی قباحتوں کو ہر شخص آسانی سے محسوس کرلیتا ہے ۔ بدیانتی ،ظلم و ستم، بے رحمی اور نا انصافی خدا سے بے خوفی اور نا خدا ترسی کے کڑوے کسیلے پھل ہیں جن کی بدمزگی اور کڑواہٹ کو سبھی محسوس کرتے ہیں ۔ سچائ یہی ہے کہ زندگی کو سنوارنے بنانے اور اسے بامقصد اور با معنی بنانے والی چیز خدا کا تقوی اور خوف ہے ۔ ایک زرخیز زمین بھی اس وقت تک بیکار محض ہے جب تک اس کی کاشت نہ کی جائے ۔ زمین میں بیج پڑنے کے بعد ہی اس کی صلاحیت بروئے کار آتی ہے اور اس کی زرخیزی اور صلاحیت کو ہم ایک لہلاہتی ہرا بھرا اور سرسبز و شاداب فصل کی شکل میں دیکھنے لگتے ہیں ۔ خدا کا تقوی وہ بیج ہے جو زندگی کی فصل کے لئے درکار ہے ۔ اس بیچ سے کوئ مستثنٰی اور علحدہ رہ کر دنیا اور آخرت کامیابی کی امید رکھے وہ خام خیالی ہے ۔ اس بیج کے مہیا نہ ہونے کی صورت میں جھاڑ جھنکار کے سوا ہم کسی اچھی فصل کی امید نہیں رکھ سکتے۔ ( مستفاد کلام نبوت ۲/ ۱۴۲)
تقوی یہ عربی لفظ ہے جو وقی یقی وقیا سے ماخوذ ہے ،جس کے معنی بچانا،اصلاح کرنا،خیال و لحاظ کرنا،ڈرنا،خوف کرنا،اللہ کی بڑائ کرنا،بچنا،احتیاط کرنا،پرہیزکرنا،اور خوف خدا کے ہیں – تقوی کا ذکر قرآن کریم میں تقریبا 242/ مرتبہ آیا ہے ،اس سے ہم اور آپ تقوی کی اہمیت اور ضرورت کا اندازہ کرسکتے ہیں – تقوی کے مفہوم ،مطلب اور مرادکو سمجھنے سے قرآن کی بنیادی تعلیمات کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے –
مولانا منظور صاحب نعمانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب .. اسلام کیا ہے؟..میں تقوی اور پرہیز گاری کی حقیقت بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
تقوی اور پرہیز گاری کی تعلیم اسلام کی اصولی اور بنیادی تعلیمات میں سے ہے – تقوی کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کے حساب اور جزا سزا پر یقین رکھتے ہوئے اور اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے تمام برے کاموں اور بری باتوں سے بچا جائے اور اللہ کے حکموں پر چلا جائے – یعنی جو چیزیں اللہ تعالی نے ہم پر فرض کی ہیں اور اپنے جن بندوں کے جو حق ہم پر لازم اور مقرر کئے ہیں ان کو ہم ادا کریں، اور جن کاموں اور جن باتوں کو حرام اور ناجائز کردیا ہے ہم ان سے بچیں ،اور ان کے پاس بھی نہ جائیں اور اس عذاب سے ڈرتے رہیں – قرآن و حدیث میں بڑی تاکید کیساتھ اور بار بار اس تقوی کی تعلیم دی گئ ہے- (اسلام کیا ہے ؟ )
تقوی پر جو شخص چلتا ہے یعنی جو محتاط و احتیاط اور خوف خدا والی زندگی گزارتا ہے اسے متقی کہتے ہیں -مولانا ابو الکلام ازاد رح نے تقوی اور متقی کی تعریف یوں کی ہے :
“زندگی کی تمام باتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ دو طرح کے انسان پائے جاتے ہیں ،بعض طبعیتیں محتاط ہوتی ہیں ،بعض بے پرواہ ہوتی ہیں ،جن کی طبیعت محتاط ہوتی ہے وہ ہر بات میں سمجھ بوجھ کر قدم اٹھاتے ہیں ،اچھے برے،نفع نقصان ،نشیب و فراز کا خیال رکھتے ہیں ،جس بات میں برائ پاتے ہیں ،جس بات میں اچھائ دیکھتے ہیں اختیار کر لیتے ہیں ،جس حالت کو ہم نے یہاں احتیاط سے تعبیر کیا ہے اس کو قرآن تقوی سے تعبیر کرتا ہے – متقی یعنی ایسا آدمی جو اپنے فکر و عمل میں بے پرواہ نہیں ہوتا – ہر بات کو درستی کے ساتھ سمجھنے اور کرنے کی کھٹک رکھتا ہے ،برائ اور نقصان سے بچنا چاہتا ہے اور اچھائ اور فائدے کی جستجو رکھتا ہے” – (ترجمان القرآن جلد دوم صفحہ 2)
تقوی سے متعلق قرآن مجید میں واضح حکم ان الفاظ میں موجود ہے :
.. یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ حق تقتہ ولا تموتن الا و انتم مسلمون.. ( آل عمران 102) اے ایمان والو ! اللہ کا تقوی اختیار کرو جو اس کے تقوی کا حق ہے اور جان نہ دینا بجز اس حال کے کہ تم مسلم ہو –
اس آیت کا مطلب اور مفہوم یہ ہے کہ جیو تو قانون الہی اور تقوی کے ساتھ اور مرو اور جان دو تو قانون اسلام اور احکام شریعت کے مطیع رہ کر،زندگی اور موت دونوں کی منزلوں سے مسلمان کو اللہ کے تابع فرمان ہوکر ہی گزرنا ہے –
لیکن تقوی،احتیاط اور خوف خدا کیسے پیدا ہو ؟ علماء نے لکھا ہے کہ تقوی ،خوف خدا اور فکر آخرت پیدا ہونے کا سب سے زیادہ موثر ذریعہ اللہ کے ان نیک بندوں کی صحبت ہے جو خدا سے ڈرتے ہوں اور اس کے حکموں پر چلتے ہوں – دوسرا ذریعہ دین کی اچھی معتبر اور مستند کتابوں کا پڑھنا اور سننا ہے – اور تیسرا ذریعہ یہ ہے کہ تنہائ میں بیٹھ بیٹھ کر اپنی موت کا خیال کرے ،اور مرنے کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے نیکیوں پر جو اجر و ثواب اور گناہوں پر جو عذاب ملنے والا ہے اس کو یاد اور اس کا دھیان کیا کرے –
اللہ تعالٰی ہم سب کو ان حقائق کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور خوف خدا والی زندگی گزارنا ہم لوگوں کے لئے آسان فرمائے آمین
(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker