مضامین ومقالات

اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

ڈاکٹر سلیم خان

پہلے مرغی یا انڈا ؟ یہ سوال بہت پرانا ہے ۔مرغا ا س کا جواب جانتا ہے لیکن اس بیچارے سے کوئی پوچھتا ہی نہیں۔ صبح سویرے بانگ دے کروہ اپنی جانب توجہ مبذول کراتا ہے مگرغفلت کے مارے متوجہ نہیں ہوتے ۔ اس سوال پر اپنے طور سے ٹامک ٹوئیاں کرتے ہوئے چکر کھاتے ہیں ۔ ممبئی کی ’بیسٹ‘ کہلانے والی بس سروس گزشتہ دنوں ہڑتال سے دوچار ہوگئی ۔ اس کی بنیادی وجہ ملازمین کی تنخواہ کی عدم ادائیگی تھی۔ ادارے کی مہتمم ممبئی میونسپل کارپوریشن کا کہنا ہے کہ بیسٹ میں سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں چونکہ کمی واقع ہوئی ہے اس لیے یہ خسارے میں ہے۔ حکام یہ نہیں کہتے کہ گزشتہ چند سالوں میں بلدیہ نے ایک ہزار بسیں کم کردی ہیں ۔ اب اگرسواریاں کم ہو جائیں تو مسافر لازماً کم ہوجائیں گے ۔ مسافروں کی تعداد میں تخفیف کا دوسرا سبب ممبئی کی سڑکوں پر ٹرافک جام ہے ۔ ٹرافک جام کی وجہ یہ ہے کہ لوگ بسوں کے بجائے نجی سواریوں جیسے کار، موٹر سائیکل یا اولا، ٹیکسی وغیر ہ سے سفر کرتے ہیں۔ ایسا کرنے سے سڑک پر گاڑیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور ٹرافک جام ہوجاتا ہے۔ یعنی پھر وہی مرغی اور انڈا والی بات ٹرافک کے سبب بس سے سفر نہیں کرتے اور نجی سواریوں سے سفر کرکے ٹرافک جام کرتے ہیں ۔

زندگی کے دیگر معاملات میں بھی ایسا ہوتا ہے مثلاً لوگ قرآن مجید کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اس لیے کہ وہ اس کو مشکل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ مشکل اس لیے ہے کہ وہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ قرآن مجید کی بابت اس کو نازل کرنے والے رب کریم کا ارشاد ہے کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے آسان ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ القمر ایک چھوٹی سورہ ہے جس میں جملہ ۵۵ آیات ہیں پھر بھی چار مرتبہ ایک ہی بات دوہرائی گئی ہے ’’اور ہم نے نصیحت حاصل کرنے کیلئے قرآن کو آسان بنا دیاتو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا؟‘‘۔ قرآن حکیم میں قوم ِنوح، عاد وثمود اور قوم لوط کی بےراہ روی اورانجام بیان کرنے کے بعد یہ نصیحت کی گئی ۔ یہ اتنی آسان اور سہل بات ہے کہ ہر کس و ناکس کے سمجھ میں آجاتی ہے بشرطیکہ وہ اسے مشکل نہ سمجھے ۔ آج کل تو ایسی آسانی مہیا ہو گئی ہے کہ جو پڑھنا نہیں جانتے وہ بھی قرآن حکیم کا ترجمہ اور تفسیر موبائیل پر سن کر سمجھ سکتا ہے ۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اردو زبان تو جانتے مگر رسم الخط سے واقف نہیں ہیں۔

نصیحت صرف سمجھنے اور بیان کرنے کی شئے نہیں ہے۔ اس کا اصل فائدہ عمل پیرا ہونے پر حاصل ہوتا ہے۔رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم و ہدایت دے کر بھیجا ہے اس کی مثال (بابرکت) بارش کی طرح ہے۔ کچھ زمین ایسی زرخیز ہوتی ہے کہ اس بارش سے خوب سرسبز و شاداب ہوکر لہلہا اٹھتی ہے۔ کچھ زمین ایسی پتھریلی ہوتی ہے کہ اس سے وہاں کوئی فصل و شادابی تو نہیں ہوتی، البتہ وہ پانی کو محفوظ کرلیتی ہے۔ (خود تو محروم رہتی ہے) لیکن لوگ اس سے خود سیراب ہوتے ہیں اور اپنی فصلوں اور مویشیوں کو بھی سیراب کرتے ہیں۔ لیکن کچھ زمین ایسی صحرائی ہوتی ہے کہ نہ تو خود لہلہاتی ہے اور نہ پانی ہی محفوظ کرتی ہے‘۔

قرآن مجید کے ہر قاری کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ اس پر ان میں سے کون سی مثال صادق آتی ہے؟ اس کے دل کی زمین زرخیز، پتھریلی ہے یا ریتیلی ؟ زرخیزی کی راہ میں حائل مشکلات کی ایک مثال شادی بیاہ کے موقع پر فضول خرچی ہے۔ اس کوہر کوئی برا سمجھتا ہے مگر اپنی باری پر ہتھیار ڈال دیتا ہے کیونکہ اگلوں کی سہل پسندی نےاس کے لیے مشکلات کھڑی کررکھی ہیں ۔ وہ اس مشکل کو دور کرنے کے بجائے خود اس کا شکار ہوکرآگے والوں کی مشکلات میں اضافہ کردیتا ہے۔ اس طرح مرغی اور انڈے کا شکنجہ مضبوط تر ہوجاتا ہے۔ اس کو روکنے کے لیے لازم ہے کہ لوگ بظاہرسونے کا انڈا دینے والی اس مرغی کو ذبح کرکے کھا جائیں ورنہ اس کےنام نہاد متبرک انڈے معاشرے میں بساند پھیلاتے رہیں گے ۔

(بصیرت فیچرس)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker