آج کا پیغامجہان بصیرتمضامین ومقالات

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں ہے

آج کا پیغام - 15 مارچ 7 رجب المرجب

آج کا پیغام ۱۵/ مارچ ۷/ رجب المرجب

(ظالم دنیا ہی میں اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے)

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

آج عین جمعہ کی نماز کے وقت نیوزی لینڈ کے شھر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں سفید فام ، مسلح انسان نما درندے شیطان صفت آدمی نے جس وحشیت و بربریت اور دھشت گردی کا مظاھرہ کرتے ھوئے تقریبا پچاس نہتے نمازیوں کا خون بہایا ھے اور ناحق خون بہایا ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ھے ۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ان شھداء کو جنت کے اعلی مقامات عطاء فرمائے اور ان کے وارثین و رشتہ داروں اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔

اس موقعہ پر پورے عالم کے مسلمانوں کو اور خاص طور پر دنیا کے مسلم ممالک کو نیوزی لینڈ حکومت پر دباؤ بناکر دھشت گردوں کے خلاف مؤثر اور ٹھوس اقدامات پر آمادہ کرنا چاھئے ، اگر بر وقت حکومت کی طرف سے کارروائی نہ کی گئی اور ظالم بھیڑیے کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا تو بعید نہیں کہ سارے عالم کے امن کو خطرہ لاحق ھو جائے ۔

بحیثیت امت مسلمہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں اور انسانیت پر ظلم کو برداشت نہ کریں اس کے خلاف احتجاج کریں ۔ نیز ہر طرح کے ظلم کے خلاف خواہ وہ کسی قوم مذھب اور کومینٹی پر ہو متحد و متفق ہوجائیں اور پوری دنیا کے انسانوں کو بتائیں کہ ظلم کے لئے دنیا میں کوئی وجہ جواز نہیں ہے ۔ اگر ایک فرد پر بھی ظلم و ستم اور جبر و تشدد ہو اور ایک کی بھی ناحق خون بہے اور جان جائے تو پوری دنیا کا سر شرم سے جھک جانا چاہیے ۔ ظلم تو ہر دور میں ہوا فرد نے بھی کیا اور جماعت اور گروہوں نے بھی اس سے نہ تو ماضی کا دامن پاک تھا اور نہ حال کا دامن پاک ہے ۔ لیکن اللہ نے کبھی ظالموں کو بخشا نہیں دیر یا سویر اللہ تعالی نے ظالموں سے چن چن کر بدلہ لیا ہے دنیا میں ظالم کو عبرت انگیز سزا ملی ہے ۔ وہ برباد ہوا ہے اس کی نسلیں تباہ و برباد ہوئ ہیں ۔ اور وہ ظلم کرنے والے لوگ اپنے حشر اور انجام کو دنیا ہی مین پہنچیں ہیں۔ تاریخ میں ہزاروں مثالیں اس کی موجود ہیں ۔ اور ایسا کیوں نہ ہو کہ اللہ تعالی خود کسی پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ ظلم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ قرآن مجید نے یہ صاف اعلان کر دیا کہ بے شک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو نہیں پسند کرتا ہے۔ قرآن مجید نے ظلم کرنے والوں کی سخت مذمت کی ہے اور قوم یہود پر جن پہلوؤں سے سخت تنقید کی ہے ان میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ظلم و ستم کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں ۔

ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم انسانوں کو بتائیں کہ کسی بے گناہ پر ظلم ڈھانا اور ناحق خون کرنا خدا کے غضب کو دعوت دیتا ہے ۔ ظالم کو طاقت کے نشے میں یہ خیال ہرگز نہ کرنا چاہیے کہ مظلوم بے یارو مددگار ہے مظلوم کے ساتھ اللہ ہے ۔ اس کی فریاد اور آہ و فغاں بہ راست عرش بریں تک پہنچتی ہے اور ظالم کسی بھی وقت اللہ تعالی کے غضب کا نشانہ بن سکتا ہے ۔

ہمارا یہ یقین ہے اور اس پر ایمان ہے کہ اس دنیا میں جب بھی ظلم و ستم اور جبر و استبداد کا رویہ اختیار کیا گیا اور طاقت کے نشے میں اس حقیقت کو فراموش کر دیا گیا کہ یہ کائنات بے خدا کے نہیں ہے بلکہ اس کا ایک مالک و حاکم بھی ہے جو ظلم کو برداشت اور پسند نہیں کرتا اور ظالم کا پنجہ موڑ سکتا ہے تو بڑے بھیانک اور درد ناک نتائج دیکھنے پڑے ۔ حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالٰی ظالم کو ڈھیل دیتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو وہ بچ کر نکل نہیں پاتا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :و کذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وھی ظالمة ان اخذہ الیم شدید. ( ہود /۶) اور اسی طرح تیرے رب کی پکڑ تھی جب کے اس نے ان بستیوں کو پکڑا جو ظلم کر رہی تھی۔ بیشک اس کی پکڑ درد ناک اور سخت ہوتی ہے ۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

کسی پر ظلم کرنا اور خونی رشتہ کاٹنا یہ دو ایسے گناہ ہیں کہ کوئی دوسرا گناہ ان سے زیادہ اس کا مستحق نہیں ہے کہ اس کے ارتکاب کرنے والے کو اللہ تعالی جلد اس دنیا میں سزا دے ۔ علاوہ اس عذاب کے جو اس نے آخرت میں ان کے لئے رکھا ہے ۔

آخرت میں تو ظالموں کے لئے ہلاکت تباہی اور بربادی ہے ہی دنیا میں بھی ظالم کو اپنے کئے کا مزہ چکھنا ہی پڑتا ہے ۔

اگر اس کے باوجود انسان خدا کے قانون کو نہ سمھجے اور تاریخ سے عبرت نہ حاصل کرے تو وہ دوسروں کے لئے عبرت کا سامان بن جاتا ہے ۔ جو ظالموں کے صف میں کھڑا ہونا چاہے اسے اس انجام بد سے کوئ چیز بچا نہیں سکتی جو ظالموں کا ہمیشہ مقدر رہا ہے ۔

اس حادثہ سے دل و دماغ ذھن و عقل سب متاثر ہیں بالکل سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آج کیا لکھوں،جو سمجھ میں آیا قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا ۔ بس ہم سب مسلمان صبر اور ہمت سے کام لیں ،اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ اس واقعہ کے خلاف پوری دنیا کے ذھن کو ایک کرنے کی کوشش کریں کہ ظلم سے سب کو نفرت ہوجائے اور انسانوں کا ناحق خون نہ بہنے پائے ۔ اور ایک آخری بات کہ خدا کی نصرت اور مدد حاصل کرنے کے لئے ہم سب خدا سے ربط و تعلق بڑھائیں اور دعا میں وہ آہ و فریاد اور گریہ و زاری اور درد پیدا کرلیں کہ خدا کو بھی ہماری مظلومیت پر ترس آجائے اور ظالموں کو اللہ تعالی عبرت ناک سزا دے دے۔ اور اگر اس کی قسمت میں ہدایت نصیب ہو تو پھر ہدایت نصیب فرما دے۔ آمین.

(بصیرت فیچرس)

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker