Baseerat Online News Portal

حکمت و دانائی ایک خدائی عطیہ اور انعام

مولانا محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

حکمت و دانائی ایک عظیم دولت قیمتی نعمت ربانی انعام اور خدائ عطیہ ہے ۔ یہ دولت ہرکس و ناکس کو نہیں ملتی،بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے اس کو یہ دولت نوازتا ہے۔ بہت سے لوگ علم و صلاحیت اور استعداد و ذہانت کے اعلی مقام پر فائز ہوتے ہیں لیکن حکمت و دانائی کی دولت سے محروم ہوتے ہیں تو ان کی ذات سے امت کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچتا ہے ۔ اس لئے خدائے وحدہ لاشریک کے دربار میں بندے کو اس کی بھیک مانگتے رہتے رہنا چاہیے اور اس ربانی اور خدائ عطیہ کے لئے اس کے دربار میں ہاتھ پھیلاتے رہنا چاہیے ۔

حکمت و دانائی یہ کسبی دولت نہیں ہے ( یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات اور حالات میں یہ کسبی بھی ہے کہ اللہ والوں کی صحبت اور ان سے تعلق رکھنے والے بھی اس دولت سے مالا مال ہو جاتے ہیں) بلکہ یہ الہامی دولت ہے اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اس کو حکمت و دانائی عطا کرتا ہے ۔ جس کو حکمت و دانائی کی دولت مل گئی اس کو بڑی نعمت مل گئ۔ ارشاد خداوندی ہے ۔

من یوت الحکمۃ فقد اوتئ خیرا کثیرا جس کو حکمت کی دولت مل گئی گویا وہ من جانب اللہ خیر کثیر سے نواز دیا گیا ۔

حکمت یہ قرآنی تعبیر اور اصطلاح ہے ۔ یہ ایک نہایت جامع لفظ ہے ۔دینی اور دنیاوی تمام کاموں میں حکمت کو بڑی زبردست اہمیت حاصل ہے ۔ حکمت ایک ایسی دولت اور سرمایہ ہے جو صرف رضائے الٰہی کی بنیاد پر حاصل ہوتی ہے۔ حکمت کے ساتھ احکام الہی پر عمل کرنے سے ہی انسان کو دین اور دنیا دونوں میں سربلندی حاصل ہوتی ہے ۔ کون سا عمل اور کون سا کام کس وقت کرنا چاہیے اور کس وقت نہیں ۔ اس کو سمجھ لینا ہی حکمت سے تعبیر ہے ۔

آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ بات کہتے وقت یا کوئی عمل کرنے سے پہلے اس عمل یا بات کی افادیت یا اس کے نقصان پر غور نہیں کرتے اور عمل کر ڈالتے ہیں یا اپنی بات کہہ دیتے ہیں ۔ پھر جب اس کا نتیجہ سامنے آتا ہے تو سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔

ہمارے اسلاف نے جب دین اسلام کا پرچم بلند کیا اس وقت مسلمان فرقوں میں بٹے ہوئے نہیں تھے۔ سیدھے سادھے سچے اور مخلص مسلمان تھے ۔ انہوں نے حکمت اور دانائی کے ساتھ اسلام کی تعلیمات اور اسلام کا پیغام لوگوں کے سامنے اس طرح رکھا کہ وہ پیغام ان کے دلوں میں اترتا چلا گیا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے ۔ یہ اللہ کا پیغام تھا اور اس کو پہچانے والے حکمت کے ساتھ اپنا کام کرتے گئے ۔

لیکن آج ہم مسلمانوں کی صورت حال ان سے بالکل جدا اور مختلف ہے ۔ آج ہم اسلام اور دین حنیف کی تبلیغ کے بجائے اپنے اپنے مسلکوں اور فرقوں کی تبلیغ زیادہ کرتے ہیں اور اس کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کی کوشش زیادہ کرتے ہیں ۔ اور ہر گروہ اور طبقہ اس بات پر مصر ہے کہ اس گروہ اور طبقہ کا پیغام اور دعوت ہی اسلام کی صحیح و متوازن دعوت اور دین کی صحیح تبلیغ اور درست پیغام ہے ۔ نتیجہ اور انجام ہمارے سامنے ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی بات کرنے والے مختلف گروہ اور جماعت سب ملا کر صرف دس فیصد مسلمان ہیں اور خود کو مسلمان کہلانے والے ان دس فیصد لوگوں کی بات کو سن لینے کے لئے بھی یہ نوے فیصد لوگ تیار نہیں ہیں ۔ کیا یہی ہماری حکمت اور دانائی ہے ۔ کیا یہی وہ بات ہے جس سے ہم سرخ رو ہوسکتے ہیں ۔ کیا یہی ان مسلمانوں کا راستہ ہے جن کے ہم نام لیوا ہیں ۔ یہ ایک غور کرنے والی بات ہے ۔ سنجیدگی سے، خلوص سے،نیک نیتی سے، ٹھنڈے دل سے، اور حقیقت کی ںظر سے ۔ کہیں ہم خود تو اپنےکو دھوکہ نہیں دے رہے ہیں؟ ۔ اللہ تعالٰی ہمیں اتنی روشنی، حکمت ،سوجھ بوجھ اور دانائی و عقلمندی عطا فرما دے کہ ہم صحیح راستے پر چلنے اور دوسروں کو چلانے کے لائق ہو جائیں ۔ اور ہمارا ہر فیصلہ اور ہر کام حکمت و دانائی اور مصلحت و فراست کے مطابق ہوجائے ۔ آمین

(بصیرت فیچرس)

You might also like