مضامین ومقالات

تعلیمی اداروں پر سیاسی نظریں

ڈاکٹر ایم جے وارثی
استادشعبہ لسانیات اے ایم یوکے
تعلیمی اداروں میں بہترین تعلیمی ماحول بنائے رکھنے کے لیے نظم ونسق کی بحالی ضروری ہے لیکن کبھی کبھی وہاں کے مسائل انتہائی پریشان کن ہوجاتے ہیں جن سے تعلیمی معاملات اثر انداز ہو ئے بغیر نہیں رہتے۔ ظاہر ہے اس صورت حال میں تعلیمی اداروں کے سربراہوں اور انتظامیہ کی بیدار مغزی کام آتی ہے اور تعلیمی فضا مکدر ہونے سے بچ جاتی ہے۔ادھر چند برسوں میں وقفے وقفے سے عموماً بہت سے تعلیمی اداروں اور خصوصاً علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں ایسے حالات پیدا ہوئے جو انتہائی تشویش ناک تھے، مگر تعلیم دوست افراد اور امن وسلامتی کے متوالوں نے ان تشویشناک صورت حال سے نمٹنے میں قابل قدر روال ادا کیا۔ حالیہ مہ وسال میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ پر جس طرح خطرات کے بادل منڈلائے،اس ضمن میں ملکی سیاست پر بہت کچھ کہا اور لکھا جاسکتا ہے لیکن یونی ورسٹی انتظامیہ نے جس چوکسی کا مظاہرہ کیا ، اس سے یہاں کے معمولات ابتر سے ابتر یا خطرناک ہونے سے محفوظ رہے ۔
اے ایم یو میں ادھر کئی ایسے ایشوز سامنے آئے، جن سے تعلیمی فضا متاثر ضرورہوئی، تاہم وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کی انتظامی ہنرمندی اور طلبا کی ہوش مندی سے حالات دگر گوں ہونے سے بچ گئے۔ محمد علی جناح کی تصویر کے مدنظر جو ہنگامہ آرائی ہوئی،اس میں بھی وائس چانسلر نے بیدا ر مغزی کا ثبوت دیا اور طلبا سے ہمیشہ قریب رہ کر حالات کو بحال کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ اس کے علاوہ سابق نائب صدر جمہوریہ ہند محمد حامد انصاری کی آمد پر جو واویلا مچانے کی کوشش کی گئی تھی،اس میں حالات کو بہتر کرنے کے لیے انتظامیہ کو کنڑول میں لیتے ہوئے وائس چانسلر نے بڑی مستعدی دکھائی۔ اسی طرح محترم اسدالدین اویسی سے جڑا معاملہ ہو کہ ریزرویشن کا واویلا،ان سب کے پیش نظر بھی اے ایم یوکو خانہ جنگی میں جھونکنے کی کوشش کی گئی تھی ،مگر ایسے پریشان کن حالات میں بھی یونی ورسٹی انتظامیہ نے بیدار مغزی کا ثبوت دیا۔
چمنِ سرسید کی تاریخ میں حکمت عملی کا بڑا عمل دخل رہا ہے،بلکہ یوں کہنا زیادہ بہتر ہے کہ اس کے بانی پیغمبرِ تعلیم سر سید احمد خان نے ہمیشہ دانش مندی کا ثبوت دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ اتنی عظیم تعلیم گاہ وجود میں آئی او ر اب بھی تعلیمی فروغ میں وہ اپنا تاریخی مقام رکھتی ہے۔ 1875میں جب سرسید نے اس کی بنیاد رکھی،اس وقت بھی ملکی حالات دگر گوں تھے۔ تعلیمی نظام کو تقویت پہنچانا اور عموماً ملک کے طلبا اور خصوصاً مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بہترین ادارہ قائم کرکے چلانا بہت مشکل امر تھا، لیکن سرسید احمد خان نے اس وقت کی حکومت کے سامنے دانشمندانہ قدم بڑھایا ۔ کیوں کہ انگریزوں کے زمانے میں تعلیم وتعلیم کا ماحول فروغ دینا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن سر سید کے دانشمندانہ قدم نے بڑی بڑی مشکلوں کو آسان کردیا۔ آج بھی ہمارے ملک عزیز کی صورتحال کئی سطح پر پریشان کن ہے۔ تعلیمی اداروں کے معاملات نازک ہوتے جارہے ہیں۔ مخصوص نظریات کو تھوپنے کی کوشش ہورہی ہے۔انگلیوں پر گنے ہوئے چند افراد ماحول بگاڑنے میں لگے ہیں۔ اس نازک صورت حال میں جہاں دیگر تعلیمی اداروں کو ہوش مندی کا ثبوت دینا ضروری ہے،وہیں اے ایم یو انتظامیہ کو بیدار مغزی کا مظاہرہ کرنا لازمی ہے۔ علی گڑھ کے حالیہ منظرنامے اور ہنگاموں کے مدنظر یہ کہنا بالکل مناسب ہے کہ سرسید کے چمن کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں علیگ برادری نے اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً طلبا کے درمیان وائس چانسلر کی ہر دل عزیزی اور علیگ برادری سے ان کی قربت /اچھے مراسم نے چمنِ سر سید کے حسن کو برقرار رکھا۔ ورنہ تو بہت سی آزمائشوں نے یہاں کے لوگوں کا ہر طرح سے امتحان لیا۔
علی گڑ ھ مسلم یونی ورسٹی کے حالات پرغور کرنے سے کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملکی سیاست کی سرحد اس ادارے سے جڑی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ زمانۂ الیکشن کے قریب آتے ہی وہاں بھی ماحول بگاڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ایسے موقع پر کبھی ریزرویشن کا ایشو سامنے آتا ہے ، کبھی یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملات کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے لفظ ’’مسلم ‘‘ نکالنے کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے ، اسی طرح کبھی جناح کا ایشو سامنے آ جاتا ہے ۔ ان ایشوز پر غور کرنے کے بعد سیاسی پنڈت یہ ضرور کہیں گے کہ ہمارے ملک کی سرحدوں سے نہ صرف دو ممالک کے مسائل جڑے ہو ئے ہیں، بلکہ پوری ملکی سیاست بھی کسی نہ کسی سطح پر جڑ گئی ہے۔اسی طرح اب تعلیمی اداروں کے معاملات بھی سیاسی داؤ پیج میں الجھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسے ماحول میں تعلیمی اداروں کو ہوش مندی کا ثبوت دینا لازمی ہے۔ خصوصاً ایسے اداروں کو اور بھی زیادہ ہوش مندی کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے ، جن پر سیاست کی ترچھی نظر ہے۔
پلوامہ میں پیش آئے شہیدوں کے واقعات کے بعد ملک کے کئی خطوں میں کچھ بدامنی نظر آئی اور سیاسی رخ بھی کچھ گندلا سا محسوس ہوا۔ کشمیریوں کے معاملات بھی پریشان کن ہوئے۔اے ایم یو میں تقریباً ڈیڑھ ہزار کشمیری طلبا زیر تعلیم ہیں۔ انھیں ہراساں نہ کیا جائے،اس لیے یونی ورسٹی انتظامہ، خصوصاً پروفیسر طارق منصور نے انتظامی معاملات پر خصوصی توجہ دی اور حالات کو مکدرہونے سے بچانے کی درخواست بھی کی ہے ،ساتھ انھوں نے حکومتی سطح پر یہاں کے حالات کو بہتر بنائے رکھنے کی کوششیں کیں۔ اس لیے یہ کہنے میں باک نہیں کہ موجودہ وائس چانسلر نے نہ صرف تعلیمی معیارکو بہتر بنا یا، بلکہ حالات اور نظم ونسق پر خصوصی توجہ دی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے زمانے میں کبھی بھی حالات بے قابو نہیں ہوئے۔
موجودہ سیاسی تناظرات کے مدنظر ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں دانش مندی کی فضا قائم کرنا ضروری ہے۔کیوں کہ جس طرح تعلیمی اداروں میں طلبا کی سیاسی سرگرمیوں کا اثرا ملکی سیاست پر ہوتا ہے،اسی طرح تعلیمی اداروں کو ٹارگیٹ کرنے کے بعد ملکی سیاست کے اہم اہم ایشو ز سرد بستوں میں چلے جاتے ہیں اور فرقہ پرستی کی عجیب وغریب داستانیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ دانشمندی کا ثبو ت دیا جائے۔ خاص طور پر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کا معاملہ بھی عام انتخابات اور ریاستی الیکشن کے قریبی دنوں میں بہت ہی پیچیدہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر سرسید کا فلسفۂ امن اور دانشمندانہ قدم بہت کچھ سکھاتا ہے ۔ سچ بھی یہ ہے کہ سرسید کی دانش مندی کے فلسفے میں ہی اے ایم یو کی تعمیر وترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
(بصیرت فیچرس)

Tags

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker