جہان بصیرتنوائے خلق

یہ ترقی ہے تو پھر قہرِ خدا کیا ہوگا!

مکرمی!

یہ رنگ بدلتی دنیا روشنیوں کا دور کہلاتی ہے جوترقی کی اتھاہ منزلیں طے کر رہی ہے جس کے مزاج میں ہر آن تغیر و تبدل رچا بسا ہے آج انسانیت کے دامن میں علم و دانش کی بھر پور تجلیاں ہیں تہذیب و تمدن کے بے پناہ اجالے ہیں آج انسان زمین پر چل ہی نہیں نہیں رہا ہے بلکہ ہواؤں کے دوش پر اڑ بھی رہا ہے خلاؤں میں اسٹیشن بھی بنا رہا ہے اور چاند پر کمندیں ڈالی جا چکی ہیں سورج کی کرنوں کو مسخر کیا جا رہا ہے زمین کے پوشیدہ خزانے باہر نکالے جارہے ہیں پہاڑوں کی سر بفلک چوٹیاں سر کی جارہی ہیں

غرضیکہ مادی اعتبار سے انسان نے کافی ترقی کر لی ہے مریخ میں آبادی چاند کے دھندلکوں میں انسان سمندر کی تہہ میں موتی زمین کے جگر میں تیل پہاڑوں کی کوکھ میں چھپے ذخیرے دولت کی فراوانی عیش و عشرت کے بے شمار وسائل اور ظاہری فلاح و بہبود کے منظم ادارے

مگر ان ترقیوں کی تہہ تک جائیے تو یہ تمام تر ترقیاں صرف،، چیزوں،، کی ہوئی ہیں جہاں تک انسان کا تعلق ہے تو وہ بدستور غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑا ہوا ہے انسان پیچھے اور چیزیں آگے

کل کا انسان جن باتوں پر یقین نہیں کر سکتا تھا آج کا آدمی اپنی آنکھوں سے معائنہ کر رہا ہے اور وہ ہماری روز مرہ کی زندگی کے معمولات میں شامل ہیں

آج انسان کو پرندہ کی طرح فضاء میں اڑتے دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت کی اڑان کو جادو شعبدہ بازی اور دھوکا نہیں سمجھا جاتا سائنس نے فاصلوں کو ختم کرکے دنیا کو کھیل کا میدان بنادیا ہے دوری اور نزدیکی کے تمام پردے اٹھادئیے ہیں ان سر بستہ رازوں کو کھول کر رکھ دیا ہے جو کل تک آنکھوں سے اوجھل اور پردہ جھل میں پڑے تھے غرض کہ مادی ترقی نے روحانی لحاظ سے انسان کو بہت پیچھے ڈھکیل دیا ہے اس نے تمام تر توجہات خارجی دنیا کو حسین بنانے پر کیں اور باطنی تزکیہ سے یکسر صرفِ نظر کیا

آج انسان کے پاس بے پناہ دولت ہے راحت و آرام کے لا متناہی وسائل ہیں لیکن ! دولت تو ہم صرف گدے خرید سکتے ہیں مگر میٹھی نیند نہیں دولت سے ہم عینک تو خرید سکتے ہیں مگر نظر نہیں دولت سے ہم ادویات تو خرید سکتے ہیں مگر صحت نہیں دولت سے ہم آلات جدیدہ تو خرید سکتے ہیں مگر حادثوں کو ٹال نہیں سکتے دولت سے کتابیں تو خریدی جاسکتی ہیں مگرعلم نہیں دولت سے سخاوت کی جاسکتی ہے مگر عبادت نہیں دولت سے ہم جسمانی راحت تو خرید سکتے ہیں مگر روحانی مسرت اور سکون نہیں دولت کے خزانے پر ہوتے ہوئے بھی بے چینی دروازے پر رینگتی ہے پہلے لوگ اونٹوں کے کوہانوں پر سفر کرتے تھے مگر سکون تھا آج ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں مگر راحت نہیں پہلے جنگل کی تیرہ و تاریک وادیوں سے صحیح سالم منزلوں تک پہنچ جانا آسان تھا مگر آج شہر کے چوراہوں پر بجلی کی روشنی تلے منزل تک پہنچ جانا ایک اتفاق ہے !

مفتی فہیم الدین رحمانی قاسمی

*خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ ھدایت الاسلام انعام وہار سبھا پور دہلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker